آنحضورﷺ کی عبادات

September 6, 2026 18 مناظر الفضل ڈائجسٹ

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ …؍ستمبر 2026ء)

مسجد نبوی مدینہ منورہ

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں آنحضورﷺ کی عبادت کے حوالے سے آپؐ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے: ‘‘یقیناً تیرا ربّ جانتا ہے کہ تُو دوتہائی رات کے قریب یا اس کا نصف یا اس کا تیسرا حصہ کھڑا رہتا ہے۔’’ (المزمّل:21)
آنحضورﷺ کی عبادات کے حوالے سے ایک مضمون ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ کے ’’سیرت خیرالوریٰؐ نمبر‘‘ میں مکرم آصف محمود ڈار صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
ایک بار چند صحابہؓ اُمّ المومنین حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ ہمیں آنحضرتﷺ کی کوئی غیرمعمولی بات بتائیے۔ اس پر حضرت عائشہؓ آپؐ کی یاد سے بےتاب ہوکر رو پڑیں اور کہنے لگی کہ آنحضورﷺ کی ہر ادا ہی نرالی ہوتی تھی۔ ایک رات آپؐ تشریف لائے تو کہا: اے عائشہ!کیا ا ٓج کی رات تُو مجھے اجازت دیتی ہے کہ مَیں اپنے ربّ کی عبادت کرلوں۔ مَیں نے کہا: خدا کی قسم! مجھے تو آپؐ کی خواہش کا احترام اور آپؐ کاقرب پسند ہے، میری طرف سے آپؐ کو اجازت ہے۔ تب آپؐ اٹھے اور مشکیزے سے وضو کیا۔ نماز کے لیے کھڑے ہوگئے اور نماز میں اس قدر روئے کہ آپؐ کے آنسو آپؐ کے کپڑوں پر گرنے لگے۔ نماز کے بعد آپؐ دائیں طرف ٹیک لگاکر اس طرح بیٹھ گئے کہ آپؐ کا دایاں ہاتھ آپؐ کے دائیں رخسار کے نیچے تھا، اور پھر رونا شروع کردیا تو آپؐ کے آنسو زمین پر ٹپکنے لگے۔ یہاں تک کہ فجر کی اذان دینے کے بعد بلالؓ آئے۔ جب انہوں نے آپؐ کو اس طرح گریہ و زاری کرتے دیکھا تو کہا کہ یارسول اللہ!آپ اتنا کیوں روتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ آپ کے گذشتہ اور آئندہ ہونے والے سارے گناہ بخش چکا ہے؟ اس پر رسول اللہ نے فرمایا:کیا مَیں اللہ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں!
یہی سوال ایک بار حضرت عائشہؓ نے بھی کیا تھا جب انہوں نے دیکھا کہ رات کی لمبی نماز سے آپؐ کے پاؤں متورم ہوکر پھٹ جاتے ہیں۔ تب اُن کو بھی آنحضورﷺ نے یہی جواب دیا کہ کیا مَیں اللہ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں!
حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ ایک رات حضورﷺ میرے پاس تشریف لائے اور سونے کے لیے لیٹے لیکن سوئے نہیں۔ پھر اُٹھ بیٹھے اور اپنی چادر اوڑھ لی تو میرے دل میں خیال آیا کہ حضورﷺ شاید میری کسی سوکن کی طرف تشریف لے جارہے ہیں۔ مَیں آپؐ کے تعاقب میں گئی تو آپؐ کو جنّت البقیع (قبرستان) میں پایا۔ آپ مومن مردوں، عورتوں اور شہداء کے لیے مغفرت طلب کررہے تھے۔ مَیں نے اپنے دل میں کہا کہ میرے ماں باپ آپؐ پر قربان! آپ اپنے ربّ کی طلب میں لگے ہوئے ہیں اور مَیں دنیا کے خیالات میں ہوں۔ تب مَیں جلدی جلدی واپس آگئی۔ کچھ دیر بعد حضورؐ بھی تشریف لے آئے جبکہ تیز چلنے کی وجہ سے ابھی تک میرا سانس پھولا ہوا تھا۔ آپؐ نے دریافت فرمایا: اے عائشہ!تیرا سانس کیوں پھولا ہوا ہے؟ تب مَیں نے ساری بات بتادی۔ حضورؐ نے جو چادر اوڑھ رکھی تھی وہ اتاری اور فرمایا: اے عائشہ! کیا تُو مجھے اجازت دیتی ہے کہ مَیں آج کی باقی رات بھی عبادت میں گزاروں؟ مَیں نے کہا میرے ماں باپ آپؐ پر قربان! ضرور۔ تب حضورﷺ نے نماز شروع کی اور اتنا لمبا سجدہ کیا کہ مجھے وہم ہوا کہ شاید آپؐ کا دم نکل گیا ہے۔ مَیں نے ٹٹول کر آپؐ کے پاؤں کو چھوا تو آپؐ کے پاؤں میں حرکت ہوئی۔ مَیں نے آپؐ کو سجدے میں دعائیں کرتے سنا۔ صبح حضورؐ نے فرمایا کہ جو دعائیں مَیں رات کو سجدے میں کررہا تھا وہ جبرائیلؑ نے مجھے سکھائی تھیں اور مجھے حکم دیا تھا کہ مَیں سجدوں میں ان کو بار بار دہراؤں۔
آنحضورﷺکی نماز کی طوالت کے حوالے سے حضرت عبداللہؓ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ مَیں نے نبیﷺ کی معیّت میں نماز تہجد پڑھی۔ آپؐ نے اتنا لمبا قیام کیا کہ مَیں نے ایک بُری بات کا ارادہ کرلیا کہ مَیں بیٹھ جاؤں اور نبیﷺ کے ساتھ مسلسل کھڑا نہ رہوں۔
حضرت سودہؓ نے ایک بار آنحضورﷺ سے عرض کیا کہ کل رات مَیں نے آپؐ کے ساتھ نماز پڑھی تو آپؐ نے اتنا لمبا رکوع کیا کہ مَیں نے اپنے ناک کو پکڑے رکھا کہ کہیں نکسیر نہ پھوٹ جائے۔ آپؐ یہ سُن کر بہت ہنسے۔
حضرت انسؓ کی روایت ہے کہ جس روز آنحضورﷺ کی وفات ہوئی تو اس روز ہم نماز کے لیے صفوں میں کھڑے تھے۔ آنحضورﷺ کے مرض الموت میں حضرت ابوبکرؓ امامت کروایا کرتے تھے۔ اچانک نبی کریمﷺ نے حجرے کے پردے کو پیچھے کرکے ہمیں دیکھا تو مسکرادیے۔ حضرت ابوبکرؓ امامت کروانے کے لیے کھڑے تھے، انہوں نے خیال کیا کہ آپؐ تشریف لائیں گے اس لیے پچھلی صف میں ملنے کے لیے ہٹنے لگے۔ لیکن نبیﷺ نے اشارہ فرمایا کہ نماز مکمل کرو اور پھر پردے کو گرادیا۔ اُسی روز آپؐ وفات پاگئے۔
حضرت علیؓ کی روایت ہے کہ جنگ احزاب کے روز کفار کے حملوں سے نماز عصر وقت پر پڑھنا ممکن نہ رہا اور سورج بھی غروب ہوگیا تو آنحضورﷺ کو اس قدر دکھ تھا کہ آپؐ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھردے جنہوں نے ہمیں نماز کے وقت مصروف رکھا یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبیﷺ رمضان کے آخری عشرے میں داخل ہوتے تو اپنی کمرِ ہمت کس لیتے، اپنی راتوں کو زندہ رکھتے اور اپنے اہل کو بھی (تہجد کے لیے) بیدار فرماتے۔
مکّہ کے ایّام میں بھی آنحضورﷺ کی عبادات مثالی تھیں۔ ایک بار تو خانہ کعبہ کے پاس آپؐ کو نماز پڑھتے دیکھ کر کفّار نے ایک اونٹ کی بچہ دانی اُس وقت آپؐ پر رکھ دی جب آپؐ سجدے میں تھے۔ حضرت فاطمہؓ کو اطلاع ہوئی تو وہ بھاگتی ہوئی آئیں اور اس اذیّت سے آپؐ کو نجات دلائی۔
حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا ہے کہ گرمیوں کو بھی روحانی ترقی کے ساتھ خاص مناسبت ہے۔ آنحضرتﷺ گرمیوں میں تنہا غار حرا میں جاکر اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتے تھے۔ وہ کیسا عجیب زمانہ ہوگا۔ آپؐ ہی ایک پانی کا مشکیزہ اٹھاکر لے جاتے ہوں گے۔ اصل بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ اُنس اور ذوق پیدا ہو جاتا ہے تو پھر دنیا اور اہل دنیا سے ایک نفرت اور کراہٹ پیدا ہوجاتی ہے۔ بالطبع تنہائی اور خلوت پسند آتی ہے۔ آپؐ کی بھی یہی حالت تھی۔ اللہ تعالیٰ کی محبت میں آپؐ اس قدر فنا ہوچکے تھے کہ اُس تنہائی میں ہی پوری لذّت اور ذوق پاتے تھے۔ ایسی جگہ جہاں کوئی آرام کا اور راحت کا سامان نہ تھا اور جہاں جاتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہو آپؐ وہاں کئی کئی راتیں تنہا گزارتے تھے۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد4 صفحہ316)
آپؑ مزید فرماتے ہیں:خداتعالیٰ تو اپنے بندوں کی صفت میں فرماتا ہے کہ وہ اپنے ربّ کے لیے تمام رات سجدہ اور قیام میں گزارتے ہیں۔(الفرقان:65)آنحضورﷺ کی نو بیویاں تھیں اور باوجود ان کے آپؐ ساری ساری رات خداتعالیٰ کی عبادت میں گزارتے تھے۔ ایک رات آپؐ کی باری عائشہ صدیقہؓ کے پاس تھی جب انہوں نے آدھی رات کو آپؐ کو بستر پر نہ پایا۔ آخر دیکھا کہ قبرستان میں سجدہ میں رو رہے ہیں۔ تو کیا آپؐ کی بیویاں حظ نفس یا اتّباع شہوت کی بِنا پر ہوسکتی ہیں! (ماخوذ از ملفوظات جلد4صفحہ50)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:‘‘رسول اللہﷺ ایک ذات کے عاشق زار اور دیوانہ ہوئے اور پھر وہ پایا جو دنیا میں کبھی کسی کو نہیں ملا۔ آپؐ کو اللہ تعالیٰ سے اس قدر محبت تھی کہ عام لوگ بھی کہا کرتے تھے کہ عَشِقَ مُحَمَّدٌ عَلیٰ رَبِّہٖ یعنی محمدؐ اپنے ربّ پر عاشق ہوگیا ہے۔ حقیقت میں انبیاء علیہم السلام کو جو شرف ملا اور جو نعمت حاصل ہوئی وہ اسی وجہ سے، اور اگر کوئی پاسکتا ہے تو اسی ایک راہ سے پاسکتا ہے۔’’(ملفوظات جلد3صفحہ524)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *