Sunday, 16th August, 2026
»»
خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍جون 2026ء الفضل ڈائجسٹ ایمان میں تازگی الفضل ڈائجسٹ محترم صوفی منظور احمد صاحب خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍جون 2026ء الفضل ڈائجسٹ ایمان میں تازگی الفضل ڈائجسٹ محترم صوفی منظور احمد صاحب
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ
فونٹ سائز:

الفضل دعوت الی اللہ کا ذریعہ

(مطبوعہ ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘، الفضل انٹرنیشنل لندن 26؍ جولائی 2023ء)

روزنامہ’’الفضل‘‘ربوہ کے صدسالہ جوبلی سوونیئر ۲۰۱۳ء میں مکرم ساجد منور صاحب مربی سلسلہ بیان کرتے ہیں کہ ۲۰۰۱ء میں خاکسار کی ڈیوٹی گوجرانوالہ میں تھی۔ وہاں ایک میڈیکل کیمپ کے دوران اڑتالیس سالہ جاوید صاحب ملے۔ جماعتی تعارف پر بات ہوئی تو چند ملاقاتوں کے بعد انہوں نے احمدیت میں داخل ہونے کی پُرزور خواہش کی۔ مَیں نے حیرانی سے پوچھا کہ آخر اتنی جلدی کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ طالب علمی کے دوران مَیں ایک احمدی دوست کی اخبار الفضل پڑھا کرتا تھا اور کئی سال پڑھتا رہا اس لیے آپ کی باتیں مجھے نئی نہیں لگیں۔ اپنی عمر کو ناپائیدار سمجھتے ہوئے اب مَیں اس پیغام کو جلد قبول کرنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ قبول احمدیت کے بعد وہ الفضل اور دیگر جرائد اپنے گھر لے جاتے، بعض کی جلدیں بھی کرواتے اور اپنے دوستوں کو پڑھنے کے لیے دیتے۔ مالی تحریکات میں حسب استطاعت ضرور شامل ہوتے۔ اور باوجود اس کے کہ وہ ایک ٹانگ سے محروم تھے، بیساکھی کے سہارے پانچ چھ کلومیٹر دُور مسجد میں جاکر نماز جمعہ ادا کرتے اور بچوں کو بھی ساتھ لے کر جاتے۔ مخالفت کے باوجود بہت استقامت کا مظاہرہ کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *