Monday, 17th August, 2026
»»
خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍جون 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍جون 2026ء
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

اے میرے دل کی راحت میں ہوں تیرا فدائی… نظم

August 13, 2023 1 مناظر الفضل ڈائجسٹ

(مطبوعہ ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘، الفضل انٹرنیشنل لندن14؍اگست 2023ء)
حضرت میر ناصر نواب صاحبؓ نے ایک نظم بعنوان ’’حرمِ محترم‘‘ اپنی اہلیہ محترمہ حضرت سیّد بیگم صاحبہ المعروف حضرت نانی جانؓ کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھی جو لجنہ اماءاللہ جرمنی کے رسالہ ’’خدیجہ‘‘ برائے ۲۰۱۳ء نمبر۱ کی زینت ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب پیش ہے:

اے میرے دل کی راحت میں ہوں تیرا فدائی
تکلیف میں نے ہرگز تجھ سے کبھی نہ پائی
صورت سے تیری بڑھ کر سیرت میں دلربائی
میں ہوں شکستہ خاطر اور تو ہے میری مومیائی
تُو لعلِ بے بہا ہے انمول ہے تُو موتی
ہے نقش میرے دل پہ بس تیری پارسائی
تھی ناز کی پلی تُو اور مَیں غریب گھر کا
تُو نے ہر اک مصیبت گھر میں میرے اٹھائی
بچوں کے پالنے میں لاکھوں اٹھائے صدمے
جب تک یہ سلسلہ تھا راحت نہ تو نے پائی
جو کچھ تھا میرا مذہب تھا وہ ہی تیرا مشرب
تھی تیرے دل میں الفت ایسی میری سمائی
اسلام پر جیئیں ہم ایمان سے مریں ہم
ہردم خدا کے در کی حاصل ہو جبہ سائی
جب وقت موت آئے بے خوف ہم سدھاریں
دل پر نہ ہو ہمارے اندوہ ایک رائی
مہدیؑ کے مقبرہ میں ہم پاس پاس سوئیں
دنیا کی کشمکش سے ہم کو ملے رہائی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *