Friday, 16th October, 2026
»»
الفضل ڈائجسٹ آنحضور ﷺ کی طہارت و پاکیزگی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 25؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 18؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 11؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 04؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ28؍اگست 2026ء الفضل ڈائجسٹ آنحضور ﷺ کی طہارت و پاکیزگی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 25؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 18؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 11؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 04؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ28؍اگست 2026ء
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

تھک کے آخر کار جب اُس ماں نے آنکھیں موند لیں – نظم

September 7, 2019 • 16 مناظر • الفضل ڈائجسٹ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 14؍نومبر 2011ء میں مکرمہ ارشاد عرشی ملک صاحبہ کا حضورِ انور ایدہ اللہ کی والدہ محترمہ کی وفات کے موقع پر کہا جانے والا کلام شامل اشاعت ہے۔ اس طویل نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:

تھک کے آخر کار جب اُس ماں نے آنکھیں موند لیں
حسرتیں باقی ہیں پر ارماں نے آنکھیں موند لیں
آٹھ سالوں تک بہت جھیلا عذابِ ہجر کو
آخرش کمزور بے کس جاں نے آنکھیں موند لیں
صبر کی سِل تو نے سینے پر دھری کچھ اس طرح
دل میں اُٹھتے دردکے طوفاں نے آنکھیں موند لیں
یادِ ماضی ہے ، اُداسی ہے ، غمِ تنہائی ہے
دردِ فُرقت بڑھ گیا درماں نے آنکھیں موند لیں
جس کی اُلفت نے کیا سیراب برسوں تک تجھے
اُس محبت کے کھلے باراں نے آنکھیں موند لیں
ہو گئی رُخصت جہاں سے دُخترِ فضلِ عمر
مہرباں اور پیکرِ احساں نے آنکھیں موند لیں
اُس کی یادوں کی مہک عرشیؔ شکستہ دل میں ہے
داستاں باقی ہے گو عنواں نے آنکھیں موند لیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *