فونٹ سائز:

حضرت چودھری عبدالقادر صاحبؓ

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، روزنامہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ لندن، 10؍اگست 2026ء)
حضرت چودھری عبدالقادر صاحبؓ آف فیروزوالہ (ضلع گوجرانوالہ) کی چند یادیں اُن کی نواسی مکرمہ عفت چودھری صاحبہ کے قلم سے جماعت احمدیہ امریکہ کے ماہنامہ ‘‘النور’’ برائے مارچ2014ء کی زینت ہیں۔
مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ میرے نانا حضرت چودھری عبدالقادر صاحبؓ کا تعلق ضلع گوجرانوالہ کے ایک گاؤں فیروزوالہ سے تھا۔ آپؓ پیشہ کے اعتبار سے ایک وکیل تھے اور گوجرانوالہ شہر میں ذاتی پریکٹس کرتے تھے۔ خاندانی اعتبار سے آپ ایک بڑے زمیندار تھے اور خاندان کے اکثر افراد بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بڑے عہدوں پر فائز تھے۔ چنانچہ دنیاداری کا عنصر نمایاں تھا۔ تاہم ان کے ننھیال میں خدا کے فضل سے احمدیت آچکی تھی اور آپؓ کی والدہ بھی پہلے سے احمدی تھیں تاہم آپؓ کے والد نے احمدیت قبول نہیں کی۔ ایسے حالات میں حضرت چودھری عبدالقادر صاحبؓ نے اپنے ماموں حضرت چودھری غلام رسول صاحبؓ (آف گھٹیالیاں) کے ساتھ خفیہ طور پر قادیان جاکر بیعت کرنے کی سعادت حاصل کرلی۔ قبول احمدیت کی بات زیادہ دیر مخفی نہ رہ سکی اور جب ان کے والد کو معلوم ہوا کہ اُن کی بیوی کے بعد بیٹا بھی اسی راستے پر چل نکلا ہے تو غصے میں انہوں نے بیٹے کو گھر سے نکال دیا۔ لیکن آپؓ کے والد چونکہ خود بھی پابند صوم و صلوٰۃ ، دانا اور حلیم الطبع تھے اس لیے لوگوں کے سمجھانے پر اور اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر جلد ہی بیٹے کو معاف کردیا اور گھر میں واپس آنے کی اجازت دے دی۔
نانا جان حضرت چودھری عبدالقادر صاحبؓ کو اگرچہ حضرت مسیح موعودؑ کی صحبت زیادہ میسّر نہیں آئی لیکن احمدیت کے اثرات اتنے گہرے تھے کہ گھر میں نماز باجماعت اور تہجد کا اہتمام باقاعدگی سے کرتے اور اپنے بچوں کو بھی اس میں شامل کرتے۔ روزانہ قرآن کریم کا درس دینا بھی معمول بنالیا۔ بچپن کی اسی تربیت کا نتیجہ تھا کہ مَیں نے اپنی امّی اور خالاؤں کو بھی کبھی تہجد چھوڑتے نہیں دیکھا۔
نانا جانؓ نے حتّی المقدور اپنے گاؤں میں احمدیت کی تعلیم پہنچائی اور ایک چھوٹی سی احمدیہ مسجد بھی بنوائی۔ اگرچہ آپؓ کی شدید مخالفت بھی ہوتی مگر خاندانی وجاہت کی وجہ سے مخالفین حد سے آگے نہ بڑھ پاتے۔ آخر آپؓ نے اپنی برادری کو مناظرے پر راضی کرلیا اور دو مناظرے منعقد بھی کروائے جن کے لیے حضرت مولوی خادم حسین صاحب گجراتی اپنے دوستوں کے ہمراہ تشریف لائے۔ یہ مناظرے مخالفین کے واویلا کرنے کی وجہ سے زیادہ نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکے بلکہ مخالفت میں شدّت آگئی۔ اگرچہ نانا جان کی تبلیغ سے گاؤں میں احمدیت کا بیج کسی قدر بویا جاچکا تھا لیکن عمومی طور پر فیروزوالہ کی زمین سخت ہی تھی۔
ایک افسوسناک پہلو یہ ہے کہ نانا جانؓ کی وفات عین جوانی میں ہوئی۔ تب تک آپؓ کی جوان بیٹیوں میں تو احمدیت راسخ ہوچکی تھی لیکن کم عمر بیٹے یتیم ہونے کے بعد اپنے دادا کے زیرسایہ چلے گئے جو احمدی نہیں تھے۔ اس کا نتیجہ یہ بھی نکلا کہ آہستہ آہستہ احمدی بہنوں اور احمدیت قبول نہ کرنے والے بھائیوں میں مسلسل دُوری ہوتی چلی گئی۔
جب ناناجانؓ بیمار ہوئے اور بیماری شدّت اختیار کرگئی تو اپنی وفات سے ایک روز پہلے نانا جانؓ نے کہا کہ مَیں کل نہاؤں گا اور باہر شیشم کے درختوں کی چھاؤں تلے جاکر بیٹھوں گا۔ لیکن جب اگلے ہی روز صبح آپؓ کی وفات ہوگئی تو آپؓ کی بات، سننے والوں کو تب یاد آئی جب غسل دینے کے بعد میّت کو شیشم کے درختوں کی چھاؤں میں رکھ دیا گیا تھا۔
آپؓ کی وفات کے بعد جب آپؓ کے تکیے کے نیچے رکھے ہوئے کاغذات کا جائزہ لیا گیا تو اُن میں آپؓ کی یہ وصیت بھی نکلی کہ ‘‘مجھے قادیان میں دفنایا جائے۔’’ اس کے علاوہ حضرت مسیح موعودؑ کی یہ نظم بھی لکھی ہوئی پائی گئی کہ

اِک نہ اِک دن پیش ہوگا تُو فنا کے سامنے
چل نہیں سکتی کسی کی کچھ قضا کے سامنے
چھوڑنی ہوگی تجھے دنیائے فانی ایک دن
ہر کوئی مجبور ہے حکمِ خدا کے سامنے
مستقل رہنا ہے لازم اے بشر تجھ کو سدا
رنج و غم ، یاس و الم ، فکر و بلا کے سامنے
بارگاہِ ایزدی سے تُو نہ یوں مایوس ہو
مشکلیں کیا چیز ہیں مُشکل کُشا کے سامنے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *