Tuesday, 18th August, 2026
»»
خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍جون 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍جون 2026ء
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

خدام سے حسن سلوک

April 20, 2019 1 مناظر الفضل ڈائجسٹ

ماہنامہ ’’مصباح‘‘ ربوہ کے ’’سیدنا طاہر نمبر‘‘ میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ کے بارے میں


مکرم عبدالباری ملک صاحب نے اپنے مضمون میں حضورؒ کی سیرۃ کے حوالہ سے بیان کیا کہ جلسہ سالانہ کے دوران جب حضورؒ لنگر خانہ نمبر2 کے ناظم تھے تو عام کارکنان کے ساتھ مٹی کے برتنوں میں ہی کھانا تناول فرماتے۔ سارے کام کی نگرانی خود فرماتے۔ ایک دفعہ ایک خادم جس کی ڈیوٹی کسی اَور جگہ پر لگی تھی، اپنی ڈیوٹی چھوڑ کر اپنے دوستوں کی وجہ سے لنگر میں ڈیوٹی کرنے لگا۔ حضورؒ کو علم ہوا تو آپؒ نے اُسے بلاکر سمجھایا کہ جو ذمہ داری دی جائے، وہ پسند ہو یا ناپسند، نظام کی مکمل اطاعت کرتے ہوئے اس کو ادا کرنا چاہئے۔ نیز فرمایا کہ اپنی اصل ڈیوٹی پر حاضر ہوجاؤ اور وہاں کے افسر سے تحریری خط مجھے بھجواؤ کہ تم اپنی ڈیوٹی کر رہے ہو۔
حضورؒ غرباء سے بہت شفقت اور ہمدردی سے پیش آتے۔ ایک بار رحمت بازار ربوہ کے سارے موچیوں کو میرے والد صاحب کے ذریعہ کچھ رقم بھجوائی۔ ایک موچی کو جب رقم ملی تو اُس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے اور اُس نے بتایا کہ اُس کی بیوی کے ہاں بچہ کی پیدائش آئندہ چند گھنٹوں میں ہونے والی ہے اور گھر میں کھانے کے لئے کچھ بھی نہیں۔
اپنے خدام سے شفقت کا یہ عالم تھا کہ ایک بار سوئٹزرلینڈ کے دورہ کے دوران جب دعوت کے لئے مکرم شیخ ناصر احمد صاحب کے ہاں پہنچے تو اپنے باورچی مکرم شیر محمد صاحب کو فرمایا کہ میرے ساتھ صوفہ پر بیٹھیں۔ ساری شام اور پھر کھانے کے دوران بھی وہ حضورؒ کے ساتھ ہی صوفہ پر بیٹھے رہے۔ ایک اَور موقع پر جب حضورؒ سے ایک سائنس دان ملاقات کے لئے آئے تو مجھے کافی اور لوازمات پیش کرنے کی سعادت ملی۔ مہمان کے جانے کے بعد حضورؒ نے فرمایا کہ تم نے بہت اچھی سروس دی ہے، اب تم بیٹھ کر کافی پیو اور مَیں برتن دھوتا ہوں۔ مَیں نے عرض کیا ایسا کبھی نہیں ہوسکتا کہ آپؒ برتن دھوئیں۔ اس پر فرمایا کہ اچھا تم برتن دھولو، مَیں تمہارے لئے کافی بناتا ہوں۔ چنانچہ حضورؒ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے میرے لئے کافی بنائی، ایک گھونٹ پیا اور پھر وہ کپ اور کیک خاکسار کو دیدیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *