دل مرا زخموں سے تھا چھلنی ہوا – نظم

May 13, 2019 • 27 مناظر • الفضل ڈائجسٹ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 13مئی 2005ء کی زینت محترمہ صاحبزادی امۃالقدوس صاحبہ کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:

دل مرا زخموں سے تھا چھلنی ہوا
سینہ تھا سوزِ نہاں سے تپ رہا
کر رہی تھی اس سے عرضِ مدّعا
تب ندا آئی مجھے وقتِ دُعا
’’نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز‘‘
میری ساری لغزشوں کے باوجود
نفس کی سب خامیوں کے باوجود
خود سری کی عادتوں کے باوجود
کجروی کی حالتوں کے باوجود
کر رہا ہے وہ نگہبانی ہنوز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *