Friday, 28th August, 2026
»»
ھوالشافی بارہ سال پرانا لفافہ اور ادھوری زندگی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 07؍اگست2026ء الفضل ڈائجسٹ آنحضرتﷺ کی غیرمسلموں سے حسین معاشرت دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء ھوالشافی بارہ سال پرانا لفافہ اور ادھوری زندگی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 07؍اگست2026ء الفضل ڈائجسٹ آنحضرتﷺ کی غیرمسلموں سے حسین معاشرت دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

دیانتدارانہ صحافت پر قدغن

December 10, 2017 4 مناظر الفضل ڈائجسٹ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ 10؍اکتوبر 1995ء میں انگریزی اخبار ’’دی نیوز‘‘ 29؍ستمبر کے حوالے سے یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ ایک صحافی رحیم اللہ یوسف زئی جو کئی قومی اور بیرونی اخبارات اور بی بی سی کو رپورٹیں ارسال کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ صوبہ سرحد میں مذہب کی بنیاد پر ہونے والی کئی باتوں کی رپورٹنگ اس لئے آسان نہیں ہے کہ مذہبی جماعتیں رپورٹوں کی مخالفت کرتی ہیں۔ مثلاً ’شب قدر‘ کے مقام پر شہادت کے واقعہ کی رپورٹنگ اس لئے مشکل تھی کہ ان دنوں وزیراعظم صاحبہ دورہ امریکہ پر تھیں اور ڈر تھا کہ یہ واقعہ اس دورے کو متاثر نہ کردے۔ کئی اخبارات نے بڑی ڈھٹائی سے واقعہ کو تروڑ مروڑ کر پیش کیا۔
محترم صحافی کا خیال ہے کہ ایسا حکومت کے ایماء پر کیا گیا۔ نیز صحافیوں نے اس واقعہ سے متعلقہ ایک نو احمدی دولت خان سے انٹرویو کئے اور ان کے گاؤں ’متہ خیل‘ بھی گئے لیکن پھر اخبارات اس داستان کو شائع کرنے پر تیار نہ ہوئے۔ حتّٰی کہ ریاض احمد کو احمدی لکھنے سے بھی گریز کیا گیا اور صرف کافر کے لفظ سے تھوڑی بہت خبر پیش کی گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *