Friday, 16th October, 2026
»»
الفضل ڈائجسٹ آنحضور ﷺ کی طہارت و پاکیزگی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 25؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 18؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 11؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 04؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ28؍اگست 2026ء الفضل ڈائجسٹ آنحضور ﷺ کی طہارت و پاکیزگی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 25؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 18؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 11؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 04؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ28؍اگست 2026ء
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

سیلاب دھو کے شہر کے دیوار و در گیا — نظم

June 15, 2025 • 37 مناظر • الفضل ڈائجسٹ

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، روزنامہ الفضل انٹرنیشنل 16؍جون 2025ء)

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 20؍ستمبر 2014ء میں ربوہ کے حوالے سے کہی گئی مکرم عبدالکریم قدسی صاحب کی ایک نظم شامل اشاعت ہے جو مکرم روشن دین تنویر صاحب کی ایک نظم پر تضمین ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:

سیلاب دھو کے شہر کے دیوار و در گیا
بیٹھی جو دھول چہرۂ ربوہ نکھر گیا
دن کو الاپے شور کے نغمے بہت مگر
شب کی عبادتوں کے قرینے سے ڈر گیا
لہروں نے جھوم جھوم کے گائے وفا کے گیت
پانی مچل مچل کے بالآخر اُتر گیا
سیلاب سے گو وعدہ اُچھلنے کا تھا کیا
لیکن پھر عین وقت پہ دریا مُکر گیا
سیلاب تُند و تیز تھا شوریدہ سر ، مگر
’’ربوہ کے پاؤں چُوم کے آگے گزر گیا‘‘

One response to “سیلاب دھو کے شہر کے دیوار و در گیا — نظم”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *