Wednesday, 19th August, 2026
»»
دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

عشّاق دیتے آئے ہیں ہنس کر وفا میں خون . نظم

February 1, 2025 3 مناظر الفضل ڈائجسٹ

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، الفضل انٹرنیشنل 3؍فروری2025ء)

فاروق محمود صاحب

روزنامہ’’الفضل‘‘ربوہ 17؍ستمبر2014ء میں مکرم فاروق محمود صاحب کی شہدائے احمدیت کے حوالے سے ایک نظم شامل اشاعت ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب پیش ہے:

عشّاق دیتے آئے ہیں ہنس کر وفا میں خون
کابل میں ہو کہ ربوہ میں یا کربلا میں خون
ہو انڈونیشیا میں ، یا گھر کی فضا میں خون
جاتا نہیں ہے رائیگاں راہِ خدا میں خون
ہم تو دعا کے زور سے ہلکا یہ غم کریں
اور پھر بیاں عنایت و لطف و کرم کریں

جو صبر کا پہاڑ ہے کوہِ وقار ہے
جس کو بلا کا آنسوؤں پہ اختیار ہے
اس کا بشر کے آگے نہ رونا شعار ہے
اشکوں کے بند توڑتی سجدوں کی زار ہے
نقشِ قدم پہ ہم چلیں ، شب زندہ ہم کریں
اور پھر بیاں عنایت و لطف و کرم کریں

تُو ان کے خوں کا آپ ہی اب انتقام لے
میرے خدا شہیدوں کے بچوں کو تھام لے
ہم سے بھی زندگی میں کوئی ایسا کام لے
مرقد پہ آئے جو بھی محبت سے نام لے
سچی وفا شہیدوں کی مٹّی سے ہم کریں
اور پھر بیاں عنایت و لطف و کرم کریں

One response to “عشّاق دیتے آئے ہیں ہنس کر وفا میں خون . نظم”

  1. بہت اچھی نظم لکھی ہے انہوں نے ہمارے بھی انکل ہوتے تھے جب لاہور میں حملہ ہوا تھا تو ان کی شہادت ہو گئی تھی اللہ تعالی ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے تمام شہداء کو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *