Friday, 28th August, 2026
»»
ھوالشافی بارہ سال پرانا لفافہ اور ادھوری زندگی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 07؍اگست2026ء الفضل ڈائجسٹ آنحضرتﷺ کی غیرمسلموں سے حسین معاشرت دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء ھوالشافی بارہ سال پرانا لفافہ اور ادھوری زندگی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 07؍اگست2026ء الفضل ڈائجسٹ آنحضرتﷺ کی غیرمسلموں سے حسین معاشرت دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

قلعہ ’’رانی کوٹ‘‘

January 24, 2018 2 مناظر الفضل ڈائجسٹ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 7اپریل 2012ء میں رقبے کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے قلعہ ’’رانی کوٹ‘‘ کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔
پاکستان کے صوبہ سندھ میں واقع رانی کوٹ کا قلعہ رقبے کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا قلعہ ہے جس کی چار دیواری 24کلومیٹر طویل ہے۔ یہ قلعہ فن تعمیر کے اعتبار سے بھی ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے کیونکہ بعض جگہوں پر چٹانوں کو تراش کر دیواروں کا کام لیا گیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ دنیا میں اپنی نوعیت کی واحد عمارت ہے جہاں پہاڑیوں کو اس کا حصہ بنا دیا گیاہے۔
رانی کوٹ ’’تور‘‘ کے پہاڑی سلسلہ میں واقع ہے۔ ا س کی دیوار کو دیوار چین کے بعد دنیا کی سب سے لمبی دیوار کہا جاتا ہے۔ اندازاً یہ قلعہ 324قبل مسیح میں بنایا گیا تھا اور اس کی تعمیر میں اڑھائی ہزار مزدوروں نے حصہ لیا۔ اس کے چار بڑے دروازے ہیں۔
اس قلعے کے نام رانی کوٹ کے متعلق کئی کہانیاں مشہور ہیں۔سندھی زبان میں ’’رانی‘‘ ایسی جگہ کو کہتے ہیں جہاں سے پانی کا کوئی چشمہ زیرزمین چلتا ہوا آگے کسی دسری جگہ پر جا کر نکلے۔ اسی وجہ سے اس قلعے کا نام رانی کوٹ پڑ گیا کہ یہاں ایک ندی ہے جو کافی فاصلے تک زیر زمین چلتی ہے۔ قلعے کے اندر آباد گاؤں جس کی آبادی تقریباً 500؍افراد پر مشتمل ہے یہ لوگ زراعت اسی ندی کے پانی سے کرتے ہیں۔ اس کے نام کے متعلق دوسری روایت یہ ہے کہ تالپور عہد میں بعض غداروں کی وجہ سے یہ قلعہ انگریزوں کے قبضے میں چلا گیا تو لوگوں نے اس کا نام ’’رن کوٹ‘‘ رکھ دیا۔ سندھی زبان میں ’’رن کوٹ‘‘ اس عورت کو کہتے ہیں جس کا شوہر قتل کر دیا گیا ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *