Monday, 17th August, 2026
»»
خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍جون 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍جون 2026ء
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

محترمہ عزیز بیگم صاحبہ آف مونگ رسول

September 22, 2022 1 مناظر الفضل ڈائجسٹ

(مطبوعہ ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘، الفضل انٹرنیشنل لندن 23؍ ستمبر 2022ء)
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 27؍ستمبر2013ء میں مکرمہ س۔ شبیر صاحبہ اپنی والدہ محترمہ عزیز بیگم صاحبہ اہلیہ محترم راجہ احمد خاں صاحب آف مونگ رسول(ضلع منڈی بہاؤالدین)کا ذکرخیر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ ہمارے والد محترم نہایت سادہ اور مذہبی شخصیت تھے۔ میری والدہ بھی اگرچہ زیادہ تعلیم یافتہ نہیں تھیں لیکن احمدیت کی فدائی اور خلافت سے بہت پیار کرتی تھیں۔ خلیفۂ وقت کے سارے خطبات سنتیں اور دوسروں کو خاموشی کے ساتھ خطبات سننے اور ان پر عمل کرنے کی تلقین کرتیں۔ محلّے کی عورتیں اکثر خطوط لکھوانے آپ کے پاس آتیں تو آپ فوراً اپنا کام کاج چھوڑ کر خط لکھنے بیٹھ جاتیں۔ بیماروں کی تیمارداری کرتیں اور حسب توفیق بیمار کی مدد بھی کرتیں۔ جمعۃالمبارک کے دن ہم سب کو درود شریف پڑھتے رہنے کی تلقین کرتیں۔ آپ کے بڑے بیٹے مکرم راجہ الطاف محمود صاحب بھی اُن آٹھ شہداء میں شامل تھے جنہیں رمضان المبارک کے مہینے میں جمعے کے روز نماز فجر کے دوران احمدیہ مسجد پر حملے کے نتیجے میں شہید کردیا گیا تھا۔ اگرچہ گاؤں کے ماحول میں بَین ڈالنا اور رونا دھونا ایک رواج کی شکل میں جاری ہے لیکن مرحومہ نہایت صبر اور حوصلے سے خاموش بیٹھی رہیں اور دوسروں کو بھی یہی تلقین کرتی رہیں کہ صبر کرو، وہ مُردہ نہیں بلکہ زندہ ہے۔ اس سانحے سے قبل آپ کے ایک دوسرے بیٹے مکرم راجہ فضل محمود صاحب کو احمدی ہونے کی وجہ سے فوج کی ملازمت سے برخاست کردیا گیا جس کے بعد وہ کراچی چلے گئے اور انگریزی میں ایم اے کرنے کے بعد ایل ایل بی کے آخری سال میں تھے جب نامعلوم لڑکوں نے ان کو مارا جس سے وہ اپنا ذہنی توازن کھوبیٹھے اور طویل علالت کے بعد وفات پاگئے۔ اُس وقت بھی مکرمہ عزیز بیگم صاحبہ نے نہایت صبر کا مظاہرہ کیا۔ اسی طرح آپ کا ایک ڈیڑھ سالہ بیٹا بھی بیمار ہوکر وفات پاگیا۔ ان تمام صدمات پر آپ نے انتہائی صبر کا مظاہرہ کیا۔ بہت دعاگو تھیں۔ دس شرائط بیعت پر خود بھی عمل کرنے کی کوشش کرتیں اور ملنے والوں کو بھی اس کی تلقین کرتیں۔ بوجہ موصیہ ہونے کے بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہوئیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *