Sunday, 23rd August, 2026
»»
الفضل ڈائجسٹ آنحضرتﷺ کی غیرمسلموں سے حسین معاشرت دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء الفضل ڈائجسٹ آنحضرتﷺ کی غیرمسلموں سے حسین معاشرت دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

محترم ڈاکٹر پیر فضل الرحمٰن صاحب آف سانگھڑ

September 22, 2022 2 مناظر الفضل ڈائجسٹ

(مطبوعہ ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘، الفضل انٹرنیشنل لندن 23؍ ستمبر 2022ء)
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 5؍اکتوبر2013ء میں محترم ڈاکٹر پیر فضل الرحمٰن صاحب کی وفات کی خبر اور مختصر ذکرخیر مرحوم کےصاحبزادے مکرم ڈاکٹر پیر مسیح الرحمٰن جالب صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔ آپ رقمطراز ہیں کہ محترم ڈاکٹر پیر فضل الرحمٰن صاحب آف سانگھڑ مورخہ 20؍ستمبر2013ء کو 93 سال کی عمر میں کراچی میں وفات پاگئے۔ آپ یکم اپریل 1920ء کو موضع رنمل شریف ضلع منڈی بہاؤالدین میں محترم پیر برکت علی صاحب اور محترمہ روشن جان صاحبہ کے ہاں پیدا ہوئے۔ آپ کی شادی محترمہ صفیہ بیگم صاحبہ بنت حضرت حافظ غلام رسول صاحب وزیرآبادی کے ساتھ ہوئی۔ آپ حضرت حافظ روشن علی صاحبؓ کے بھتیجے تھے۔
محترم پیر فضل الرحمٰن صاحب نے ابتدائی تعلیم قادیان میں حاصل کی اور پھر سانگھڑ میں نقل مکانی کی اور پچاس سال تک وہاں بطور ڈاکٹر خدمت خلق کرتے رہے۔ آپ ضلع سانگھڑ میں جماعت کے بانیوں میں سے تھے۔ درویش صفت، فرشتہ سیرت، کم گو اور حکمت عملی سے کام لینے والے بزرگ تھے۔ آپ نے لمبی عمر پائی اور بھرپور زندگی گزاری۔ فرقان فورس میں خدمت کی توفیق پائی۔ ایک مرتبہ اپنی اہلیہ کا تمام زیور چندے میں پیش کردیا۔ ضلع سانگھڑ کے اسیران راہ مولیٰ کی بیش قیمت خدمت کی۔ احمدیوں کے تحفّظ کی کوشش بھی ہرمحاذ پر کی۔ آپ نے ذاتی طور پر بھی سلسلے کی خاطر کئی مقدمات کا صبر، شکر اور خندہ پیشانی سے مقابلہ کیا۔ آپ کے ایک بیٹے مکرم ڈاکٹر مجیب الرحمٰن پاشا صاحب کو 2006ء میں اور دوسرے بیٹے مکرم پیر حبیب الرحمٰن صاحب کو 2010ء میں سانگھڑ میں شہید کردیا گیا تھا۔ ان صدمات کو آپ نے بہت صبر سے برداشت کیا اور راضی برضائے الٰہی رہے۔پسماندگان میں آپ نے دو بیٹے اور چار بیٹیاں چھوڑی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *