پاکستان کی پہلی اوپن ہارٹ سرجری
(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، روزنامہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ لندن، … اگست 2026ء)

لجنہ اماءاللہ کینیڈا کے سہ ماہی ’’النساء‘‘ برا ئے جنوری تا مارچ 2014ء میں مکرمہ طیبہ طاہرہ صاحبہ نے قبولیتِ دعا کا ایک واقعہ بیان کیا ہے جس سے ربوہ میں طبّی سہولتوں کی تاریخ پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ 1967ء میں میری بہن امۃالمجید جو سیکنڈایئر کی طالبہ تھی، اُسے اچانک چلنے کے نتیجے میں سانس پھولنے کی بیماری ہوگئی تو والدین اُسے فضل عمر ہسپتال لے گئے جہاں معائنہ کرنے پر علم ہوا کہ اُس کے دل کے دو والو بند ہیں جو سرجری کے بغیر نہیں کھل سکتے۔ اُس وقت اوپن ہارٹ سرجری پاکستان میں نہیں ہوتی تھی چنانچہ مشورہ دیا گیا کہ اسے امریکہ لے جائیں۔ اس پر والدین شدید پریشان ہوئے۔ جواں سال بیٹی کی بیماری نے اُن کی راتوں کی نیند اُڑادی تھی۔ میرے والد محترم میاں عبدالسلام صاحب رات کودعا کے لیے اٹھتے تو بےچینی سے صحن کے چکر لگاتے اور کہتے جاتے کہ یا اللہ! ہم اسے امریکہ نہیں لے جاسکتے تُو امریکہ کو یہاں لے آ۔ والدہ محترمہ سکینہ بیگم صاحبہ اکثر یہ شعر پڑھتیں
اِک کرشمہ اپنی قدرت کا دکھا
تجھ کو سب قدرت ہے اے ربّ الوریٰ
خدا تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق ان مضطرب دلوں کی آواز اس طرح قبول فرمائی کہ کچھ دنوں بعد ڈاکٹر نے اباجان کو بتایا کہ امریکہ سے ہارٹ اسپیشلسٹ کی ایک ٹیم جناح ہسپتال کراچی میں آئی ہے جہاں کے کچھ ڈاکٹرز اُنہیں ربوہ بھی لارہے ہیں، آپ اپنی بیٹی کو اُنہیں دکھالیں۔ یہ سن کر میرے والدین شکرانے کے طور پر سربسجود ہوگئے۔

ڈاکٹروں نے بہن کا معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ اسے فوری کراچی لے آئیں۔ سفر میں نگرانی کے لیے ایک ڈاکٹر بھی ساتھ تھا۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کی اجازت اور دعاؤں کے ساتھ کراچی کے لیے رخت سفر باندھا گیا۔ وہاں طویل قیام اور تمام انتظامات کے بعد میری بہن کی سرجری ہوگئی۔ اُن دنوں جناح ہسپتال کراچی کی عمارت زیرتعمیر تھی۔ وہاں کا عملہ ہمارے ابّاجان کو دعائیں کرتے ہوئے دیکھتا تو کہتا کہ امتل کے ابّا نہ اینٹ دیکھتے ہیں نہ پتھر، بس سجدے میں گرے رہتے ہیں۔ الغرض اخبار میں خبر شائع ہوئی کہ پاکستان میں پہلی بار اوپن ہارٹ سرجری کا کیس کامیاب ہوا ہے۔ شکرانے کے طور پر ہماری والدہ نے اپنی دوسری بیٹی کو نرس بننے کے لیے اسی ہسپتال میں بھیجا تاکہ وہ مریضوں کی خدمت کرے۔
آپریشن کے بعد میری بہن نے بی اے، بی ایڈ کیا اور سکول میں بطور ٹیچر اور پھر وائس پرنسپل ملازمت کرتی رہیں۔ لجنہ کی تاریخ لکھنے والی ٹیم کا بھی حصہ رہیں۔ دینی خدمت کے لیے ہر وقت تیار رہتیں اور سب کے لیے سراپا محبت تھیں۔
آپریشن کے سترہ سال بعد انہیں دوبارہ دل کی تکلیف ہوئی۔ چنانچہ دوسری بار سرجری کی گئی لیکن یہ کامیاب نہ ہوسکی اور صرف چھ ماہ بعد ہی ان کی وفات ہوگئی۔ اپنی طویل بیماری کا مقابلہ انہوں نے انتہائی صبر سے کیا۔
ربوہ میں ہمارا گھر فضل عمر ہسپتال کے عقب میں ہی ہے اور آج ہسپتال میں طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ کی شاندار عمارت نظر آتی ہے تو مجھے مضطرب دلوں کی وہ دعا یاد آجاتی ہے کہ اے اللہ!امریکہ کو یہاں لے آ۔
