کلاس فیلو مکرم نصیر احمد انجم صاحب

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، روزنامہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ لندن، … اگست 2026ء)

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 2؍مارچ2015ء میں شامل اشاعت ایک مختصر مضمون میں مکرم مولانا نصیر احمد انجم صاحب کا ذکرخیر کرتے ہوئے مکرم شبیر احمد ثاقب صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ہم 1981ء میں اکٹھے جامعہ احمدیہ میں داخل ہوئے اور کلاس فیلو ہونے کے علاوہ رُوم میٹ بھی رہے۔ دوستی کا ایسا تعلق قائم ہوا کہ کبھی اس میں رخنہ نہیں آیا۔ آپ ہمیشہ نہ صرف کلاس میں اوّل آتے بلکہ تقریر و تحریر کے مقابلوں میں بھی اعلیٰ پوزیشن حاصل کرتے۔ کھیل کے میدان کے بھی شاہسوار تھے۔ طبیعت مرنجاں مرنج تھی اور محفل کو کِشت زعفران بنادیتے تھے۔ مطالعہ کا بہت شوق تھا اور غیرنصابی کتب بھی بکثرت اُن کے مطالعہ میں رہتیں۔ اُن کی کتاب دوستی نے مجھےبھی مطالعہ کی ترغیب دی۔
ایک بار مَیں گھر سے واپس ہوسٹل پہنچا تو ہوسٹل کے گیٹ پر آپ سمیت کئی دوستوں سے ملاقات ہوئی۔ پھر آپ میرے ساتھ ہی کمرے میں آگئے اور کہنے لگے کہ تم سفر میں سگریٹ پیتے رہے ہو؟ مَیں نے نفی میں جواب دیا تو کہا کہ تمہارے کپڑوں میں سے سگریٹ کی بدبو آرہی ہے۔ مَیں نے بتایا کہ بس میں میرے ساتھ بیٹھے مسافر یہ کام کررہے تھے۔ آپ کے انداز سے نہ صرف آپ کے حُسنِ ظن اور دوست پر اعتماد کا پتہ چلتا ہے بلکہ سمجھ داری بھی عیاں ہوتی ہے کہ یہ بات سب کے سامنے نہیں پوچھی بلکہ علیحدگی میں اس کا اظہار کیا۔
آپ میں بناوٹ اور تکبّر کا شائبہ تک نہ تھا۔ آپ طلبہ کی مجلس علمی کے صدر بھی رہے۔ ایک بار ایک سیمینار میں آپ سٹیج سیکرٹری بھی تھے اور اس میں آپ کی تقریر بھی تھی۔ جب آپ نے پروگرام کا اعلان کیا تو اپنا نام لیے بغیر صرف اتنا کہا کہ فلاں موضوع پر بھی ایک تقریر ہوگی۔

محترم میر محمود احمد ناصر صاحب

آپ ہماری کلاس کے سیکرٹری بھی رہے۔ درجہ خامسہ میں محترم سیّد میر محمود احمد ناصر صاحب پرنسپل جامعہ نے ہماری کلاس کو اس شرط پر ہائیکنگ پر جانے کی اجازت دی کہ مَیں ترجمۂ قرآن کا امتحان لوں گا اور سب نے اگر 90فیصد سے زیادہ نمبر لیے تو پھر جانے کی اجازت ہوگی۔ چنانچہ امتحان ہوا اور ہمیں اجازت مل گئی تو پرنسپل صاحب نے خاکسار کو نگران بنادیا۔ خاکسار نے ساتھی طلبہ کے سپرد مختلف کام کیے اور مکرم نصیر انجم صاحب کو خزانچی بنایا۔ زیادہ قابل اور کلاس سیکرٹری ہونے کے باوجود آپ نے اطاعت اور تعاون کی روح کے ساتھ اس ڈیوٹی کو پوری فرض شناسی سے ادا کیا۔
جامعہ سے اکٹھے فراغت کے بعد ہم دو سال میدانِ عمل میں رہے اور خط و کتاب کے ذریعے رابطہ رکھا۔ پھر تخصّص کے لیے دونوں کے ناموں کی منظوری ہوئی اور اکٹھے جامعہ میں پڑھاتے بھی رہے۔ اس دوران کئی سفر اور دورے اکٹھے کیے۔ آپ ایک بہت اچھے مقرر اور مجالس سوال و جواب میں بڑی مہارت رکھتے تھے۔ لطائف اور اشعار آپ کو سننے بھی آتے تھے اور سنانے بھی۔ اگر کسی مجلس میں کسی چٹکلے کا وہ نشانہ بن جاتے جس سے مجلس محظوظ ہوتی تو بھی بُرا ماننے کی بجائے اس سے خود بھی لطف اندوز ہوتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں