Friday, 28th August, 2026
»»
ھوالشافی بارہ سال پرانا لفافہ اور ادھوری زندگی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 07؍اگست2026ء الفضل ڈائجسٹ آنحضرتﷺ کی غیرمسلموں سے حسین معاشرت دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء ھوالشافی بارہ سال پرانا لفافہ اور ادھوری زندگی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 07؍اگست2026ء الفضل ڈائجسٹ آنحضرتﷺ کی غیرمسلموں سے حسین معاشرت دیگر جرائد دریچۂ راہنمائی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

کیا مبارک جمعہ تھا جب حضرت محمود نے … نظم

February 20, 2023 4 مناظر الفضل ڈائجسٹ

(مطبوعہ ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘، الفضل انٹرنیشنل لندن 17؍فروری 2023ء)

جماعت احمدیہ امریکہ کے ماہنامہ ’’النور‘‘ فروری 2014ء میں حضرت مصلح موعودؓ کے ’’جلسہ دعویٰ مصلح موعود‘‘ کے حوالے سے حضرت مولانا خان ذوالفقارعلی خان گوہر صاحبؓ کی ایک طویل نظم شامل اشاعت ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب پیش ہے:

کیا مبارک جمعہ تھا جب حضرت محمود نے
یعنی فرزندِ گرامی مہدیٔ موعود نے
کر دیا اعلان ، مَیں ہی مصلح موعود ہوں
تین کو جو چار کردے مَیں ہی وہ مسعود ہوں
ہاں زمانے کے لیے فضلِ خدا لایا ہوں مَیں
کلمۃاللہ بن کے دنیا کے لیے آیا ہوں مَیں
مَیں مسیحی نفس ہوں اور روحِ حق کی برکتیں
بخشیں گی بیمار انسانوں کو کیا کیا نعمتیں
یہ زمانہ جانتا ہے دل کا ہوں بےشک سلیم
یہ خدائی جانتی ہے ہوں ذہین اور مَیں فہیم
میرا مولا ہے کریم اور میرا داتا ہے سخی
جس نے بخشے ہیں علومِ ظاہری و باطنی
جس نے بخشا ہے شکوہ و عظمت و دولت مجھے
جس کی رحمت نے بنایا آیۂ رحمت مجھے
کیوں نہ میری جان میرا دل ہو قربانِ خدا
جس نے میرے آنے کو اپنا ہی آنا کہہ دیا
ورنہ کیا ہوں اور میری ہستیٔ خاکی ہے کیا
ہاں مگر سر پر ہے میرے سایۂ فضلِ خدا
اُس پہ قرباں کیوں مری ہستی کا ہر ذرّہ نہ ہو
روح نے اُس کی کیا ہے بحر جو قطرہ نہ ہو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *