1912ء میں وفات یافتہ چند صحابہ کرام

روزنامہ الفضل ربوہ 25فروری 2012ء میں مکرم غلام مصباح بلوچ صاحب کے قلم سے 1912ء میں وفات پانے والے حضرت مسیح موعودؑ کے چند اصحابِ احمد کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔ ذیل میں صرف اُن اصحاب کے حالات زندگی بیان کئے جاتے ہیں جو قبل ازیں الفضل ڈائجسٹ میں شائع نہیں ہوئے۔
حضرت حکیم میاں سردار محمد صاحب
حضرت میاں سردار خان صاحب ولد محترم مولوی غلام احمد صاحب (لون میانی نزد بھیرہ) حضرت خلیفہ اولؓ کے سگے بھتیجے تھے۔ آپؓ نے 9 جنوری 1892ء میں قبول احمدیت کی توفیق پائی اور پھر اخلاص و وفا میں بہت ترقی کی۔ حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ مولوی حکیم سردار محمد صاحب نے اپنے ایک خط میں اظہار اخلاص کرتے ہوئے یہ الفاظ لکھے کہ مَیں قادیان پر قربان ہوجاؤں۔ حضرت مسیح موعودؑ اس پر بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ یہ بہت بڑے اخلاص کی علامت ہے۔ جب انسان کسی کے ساتھ سچا اخلاص رکھتا ہے تو محبوب کے قرب و جوار بھی پیارے لگتے ہیں۔
حضرت حکیم صاحبؓ 313کبار صحابہ میں سے تھے۔ آپؓ کا نام اس فہرست میں 256نمبر پر درج ہے۔آپ نے یکم نومبر 1912ء کو وفات پائی۔ آپؓ کی وفات پر حضرت قاضی ظہور الدین اکمل صاحبؓ نے ایک نظم لکھی ، جس کے چند اشعار یوں تھے۔

یہ کیا پیغام پہنچا ہے مجھے یا رب میانی سے
جدا ہم سے ہوا ہے کون مرگ ناگہانی سے
مجھے یاد آگیا وہ عہد ، عہد نازک و خوشتر
کہ جب ٹکرا گیا عشق کہن اٹھتی جوانی سے
پیامِ مرگ تمہیدِ وصالِ یار ہوتا ہے
معبّر جو ہے مسلم ہے حیات جاودانی سے

آپؓ کے فرزندوں میں مکرم منشی عبدالحق صاحب پوسٹ ماسٹر، حضرت قریشی امیر احمد صاحب آف ربوہ اور مکرم محمد زمان صاحب شامل تھے۔ آپؓ کے ایک بھائی حضرت مولوی دوست محمد صاحبؓ کو بھی جماعت احمدیہ کے پہلے جلسہ سالانہ کے موقع پر 27دسمبر 1891ء کو بیعت کی توفیق ملی اور اُن کا نام حضرت اقدسؑ نے اپنی کتاب آسمانی فیصلہ میں شاملین جلسہ میں اوراپنے 313 کبار صحابہ میں 257نمبر پر درج فرمایا ہے۔
……………………………….
حضرت منشی محمد الدین صاحب سیالکوٹیؓ
حضرت منشی محمد دین صاحبؓ ولد کرم الدین صاحب آف سیالکوٹ پیشہ کے لحاظ سے اپیل نویس تھے۔ حضرت مسیح موعودؑ کی کتاب حقیقۃالوحی میں آپؓ کا نام ایک پیشگوئی کے مصدّقین میں آٹھویں نمبر پر درج ہے۔ نیز حضورؑ نے 313 کبار صحابہ میں بھی آپ کو شامل فرمایا۔
آپ بغرض علاج قادیان میں تھے جہاں 5ستمبر 1912ء کو تقریباً 60سال کی عمر میں وفات پائی اور بوجہ موصی ہونے کے بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے۔ حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ نے جنازہ پڑھا۔
آپؓ کی اہلیہ محترمہ بھی ایک مخلص خاتون تھیں جنہوں نے 1903ء میں سیالکوٹ میں وفات پائی۔
……………………………….
حضرت مولوی مرزا محمد اسماعیل صاحبؓ قندھاری
حضرت میرزا محمد اسماعیل صاحبؓ قوم کے ترک تھے اور افغانستان کے علاقہ قندھار کے رہنے والے تھے۔ آپؓ 1813ء میں پیدا ہوئے۔ تعلیم و تربیت ایک اعلیٰ علمی خاندان میں ہوئی۔ عربی اور فارسی سے بخوبی واقف تھے۔ پشتو زبان کے ادیب تھے اور اُردو بھی ہندوستان آکر سیکھ لی۔ ایک صاحبِ دل اور صوفی ولی اللہ تھے۔ بذریعہ کشف حضرت اقدسؑ کی صداقت کا علم پایا۔ آپؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن براہین احمدیہ کی اشاعت کے بعد قریباً 1887ء میں صبح تہجد پڑھ کر اپنے مکان واقعہ گل بادشاہ میں اپنے مخصوص کمرہ میں مراقبہ بیٹھا تھا کہ مَیں نے دیکھا میرے کمرے کی چھت جانبِ شرق دیوار سے اوپر اٹھ گئی ہے اور تیز روشنی میرے کمرہ میں داخل ہوئی۔ جب روشنی قدرے مدّھم ہوئی تو مَیں نے ایک بزرگ کو اپنے سامنے کھڑا دیکھا۔ مَیں نے اٹھ کر اُس سے مصافحہ کیا اور باادب دو زانو ہو کر سامنے بیٹھا اور پھر کشفی حالت بدل گئی۔ ایک عرصہ دراز کے بعد جب حضرت احمد علیہ السلام کی تصویر پشاور میں مَیں نے دیکھی تو مَیں نے شناخت کیا کہ وہ یہی تھے جن کو مَیں نے کشف میں دیکھا تھا۔
اسی طرح حضرت اقدسؑ کی صداقت کا اظہار آپ نے دیگر بزرگان سے بھی سنا۔ چنانچہ آپ کی ایک گواہی کو حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی کتاب تحفہ گولڑویہ میں یوں درج کیا ہے: مَیں نے حضرت کوٹھہ والے صاحب سے سنا ہے کہ وہ کہتے تھے کہ مہدی آخر الزمان پیدا ہوگیا ہے، ابھی اس کا ظہور نہیں ہوا اور جب پوچھا گیا کہ نام کیا ہے تو فرمایا کہ نام نہیں بتلاؤں گا مگر اس قدر بتلاتا ہوں کہ زبان اس کی پنجابی ہے۔
آپؓ نے اپنی ایک بھانجی کی شادی حضرت مولوی غلام حسن خان صاحبؓ (خسر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ) کے ساتھ کی۔ آپؓکی ہی تحریک پر حضرت مولوی غلام حسن خان صاحب لدھیانہ جاکر حضورؑ سے ملے تھے۔ حضرت قاضی محمد یوسف صاحبؓ نے آپ کے تفصیلی حالات تاریخ احمدیہ سرحد میں پہلے نمبر پر رقم فرماتے ہوئے لکھا ہے: میرے نزدیک صوبہ سرحد میں آپ ہی تحریک احمدیت کے بانی اور لانے والے ہوئے۔
حضرت مولوی صاحبؓ نے 18ستمبر 1912ء کو وفات پائی۔
……………………………….
حضرت حکیم غلام محی الدین صاحب ؓ
حضرت حکیم غلام محی الدین صاحبؓ موضع چکوال کے باشندے تھے۔ حکمت ان کا پیشہ تھا۔ نوشہرہ میں اکثر متعین رہے اور سرکاری ملازم تھے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ سے قدیمی تعلق تھا۔ قریباً 1901ء میں آپؓ احمدی ہوئے۔ صوفی منش انسان تھے۔ بلّھے شاہ کی کافیاں اور دِتّے شاہیوں کے قصے اور حضرت سلطان باہو کی رباعیات یاد تھیں۔ میونسپل کمیٹی پشاور کی ملازمت سے سبکدوش ہو کر قادیان چلے گئے۔ یکم ستمبر 1912ء کو قریباً 90 سال کی عمر میں وفات پائی اور بوجہ موصی ہونے کے بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہوئے۔ آپؓ کے فرزند حضرت حافظ محمد جمال صاحب (وفات 27دسمبر 1949ء ۔ مدفون ماریشس) نہایت مخلص اور فدائی احمدی تھے جنہیں جزیرہ ماریشس میں تاحیات خدمت دین کی توفیق ملی۔
……………………………….
حضرت ماسٹر ولی اللہ صاحب ؓ
حضرت ماسٹر ولی اللہ صاحبؓ ایک زبردست اہل قلم تھے، پیسہ اخبار میں سلسلہ کے متعلق اکثر مضامین مخالفوں کے جواب میں لکھا کرتے تھے۔ 14اکتوبر 1912ء کو بوجہ فالج آپؓ نے وفات پائی۔ آپؓ حضرت بابا ہدایت اللہ صاحبؓ مشہور پنجابی شاعر کے فرزند تھے اور آپؓ کی وفات بابا صاحب کی اخیر عمر میں بڑا صدمہ تھا۔
……………………………….
حضرت چانن دین صاحبؓ آف ماہل پور
حضرت چانن دین صاحبؓ ضلع ہوشیارپور کے گاؤں ماہل پور کے رہنے والے مخلص احمدی تھے۔ 25اپریل 1912ء کو وفات پائی۔ آپؓ کے دو بیٹے حضرت بابو محمد نظام الدین صاحبؓ کلرک دفتر ریلوے (وفات 1925ء ) اور حضرت مولوی غلام نبی صاحبؓ (موصی نمبر 10۔ وفات 28ستمبر 1927ء ) بھی مخلص احمدی اور اصحابِ احمدؑ میں شامل تھے۔
……………………………….
حضرت چودھری غلام محمد صاحبؓ
آپؓ نے 16اکتوبر 1912ء کو وفات پائی۔ آپؓ ایک مخلص اور سرگرم قابل احمدی نوجوان تھے۔ بی۔اے تھے اور پوسٹ ماسٹر جالندھر چھاؤنی رہے۔ اشاعت و تبلیغ کا خاص جوش رکھتے تھے۔
……………………………….
حضرت علی محمد شاہ صاحبؓ آف راہوں
حضرت علی محمد شاہ صاحبؓ ولد مکرم غلام محمد شاہ صاحب آف راہوں ضلع جالندھر ابتدائی موصیان میں سے تھے۔ وصیت نمبر 239 تھا۔ 19جون 1912ء کو وفات پائی اور یادگاری کتبہ بہشتی مقبرہ قادیان میں لگایا گیا۔
……………………………….
حضرت میاں نور محمد صاحبؓ کابلی
حضرت میاں نور محمد صاحبؓ کابل (افغانستان) کے رہنے والے تھے۔ قبول احمدیت کے بعد قادیان آبسے۔ آپؓ نے 13جون 1912ء کو 70سال کی عمر میں وفات پائی اور بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے۔
……………………………….
حضرت برکت بی بی صاحبہؓ
آپؓ حضرت خلیفہ نورالدین صاحبؓ جمونی (یکے از 313اصحاب احمد) کی اہلیہ تھیں۔ آپؓ کو حضرت اقدسؑ کے گھر میں بھی خدمت کی توفیق ملی۔ آپؓ نے 29 اپریل 1912ء کو بعمر 42 سال وفات پائی اور بوجہ موصیہ ہونے کے بہشتی مقبرہ قادیان میں مدفون ہوئیں۔
……………………………….
حضرت شرفو بی بی صاحبہؓ
معروف سیکھوانی برادران کی والدہ حضرت شرفو بی بی صاحبہؓ زوجہ حضرت میاں محمد صدیق صاحب سیکھوانی نہایت مخلص خاتون تھیں۔ جون 1897ء میں جلسہ ڈائمنڈ جوبلی قادیان میں منایا گیا۔ حضورعلیہ السلام نے آپؓ کا نام بھی حاضرینِ جلسہ میں درج کرکے آپؓ کے چار آنے چندہ کا بھی ذکر فرمایا ہے۔ آپؓ نے 4 جنوری 1912ء کو تقریباً 80سال کی عمر میں وفات پائی اور بوجہ موصیہ ہونے کے بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہوئیں۔
……………………………….
حضرت رؤف النساء بیگم صاحبہ ؓ
بھارتی صوبہ بہار کے گاوں اورین سے تعلق رکھنے والے حضرت سیدہدایت حسین صاحب اور ان کی اولاد سلسلہ احمدیہ میں داخل تھی۔ان کی ایک بہو حضرت رؤف النساء بیگم صاحبہؓ کی وفات 1912ء میں ہوئی۔ آپؓ 1901ء میں اپنے خاوند کے ساتھ قادیان آئیں پھر 1903ء میں دوبارہ قادیان آئیں۔ آپؓ کے خاوند حضرت سیّد ارادت حسین صاحب بھی نہایت مخلص اور ایک ذی علم وجود تھے۔ اُن کے چند علمی مضامین اخبار الحکم اور بدر میں طبع شدہ ہیں۔ کتابیں بھی لکھیں مثلاً ایک کتاب مرآۃالجہاد تھی۔ آپؓ نے 2نومبر 1931ء کو وفات پائی۔
……………………………….
حضرت عفیفہ بیگم صاحبہؓ
جناب خلیفہ رجب الدین صاحب کی بیٹی حضرت عفیفہ بیگم صاحبہؓ زوجہ مکرم خواجہ کمال الدین صاحب ایک مخلص اور فدائی خاتون تھیں۔ 23مئی 1912ء کو وفات پائی۔ حضرت اقدسؑ سے بہت عقیدت اور حضرت امّاں جانؓ سے بہت محبت تھی۔ حضرت امّاں جانؓ بیمار ہوتیں تو حضورؑ اُن کی خبرگیری کیلئے آپؓکو بھی بلالیتے۔ حضرت امّاں جانؓ بھی ہمیشہ آپ کو محبت و عنایت کی نظر سے دیکھتیں۔ حضرت مسیح موعودؑ 1908ء میں جب اپنے آخری سفر لاہور پر تشریف لے گئے تو جناب خواجہ کمال الدین صاحب کے گھر قیام فرمایا۔ حضرت عفیفہ بیگم صاحبہؓ نے اس موقع پر حضرت امّاں جانؓ اور دیگر مہمانوں کی خدمت کا خوب ثواب کمایا۔آپؓ نظم و نسق امورخانہ داری میں غیرمعمولی قابلیت کی مالکہ تھیں۔
آپؓ کی وفات پر مکرم خواجہ کمال الدین صاحب نے لکھا: میں اس مرحومہ کے طفیل کس قدر آزاد اور بیفکر تھا، مرحومہ کے ہاتھ میں کُل گھر کا انتظام تھا حتیٰ کہ بچوں کی تعلیم کی غور و پرداخت بھی اسی کے ہاتھ میں تھی۔ میں تو صرف عدالت جاتا یا قادیان آتا یا سٹیج پر کھڑے ہوکر تقریر کرنا جانتا تھا۔ مرحومہ میری نگاہ میں اگر قابل عزت ہے تو اس لیے کہ اس نے مجھے دینی کاموں میں کبھی نہیں روکا۔ 1903ء میں ایک دفعہ مجھے گورداسپور میں کسی پیشی پر حاضر ہونا تھا۔ حضرت مرحوم مغفور کا خط آچکا تھا کہ تم ضرور پہنچنا۔ نذیر احمد جو میرا بچہ ہے وہ اس وقت پانچ سالہ تھا، اُسے اُسی دن بڑے زور کا نمونیا ہوگیا۔ میں نے مرحومہ کو حضرت کا حکم دکھلایا۔ اُس نے یہی جواب دیا کہ بچہ تو خدا کا مال ہے لیکن حضرت کا حکم افضل ہے، تم جاؤ! ۔ مرحومہ نے نہایت صبر و استقلال سے مجھے رخصت کیا۔
……………………………….
اہلیہ حضرت قاضی محمد عالم صاحب ؓ
حضرت قاضی محمد عالم صاحبؓ سکنہ کوٹ قاضی ضلع گوجرانوالہ بہت ہی نیک اور اخلاص مند وجود تھے۔ انٹرنس پاس تھے۔ آپؓ کے نام حضرت اقدسؑ کے چند مکتوبات بھی شائع شدہ ہیں۔ آپ ایک پُرجوش داعی الی اللہ تھے، ایک مرتبہ آپؓ نے حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ کو لکھا: دل چاہتا ہے کہ مال و جان اور اولاد تک اسلام کی پاک خدمت میں لگ جاوے۔
آپؓ کی اہلیہ محترمہ کا نام اور حالات معلوم نہیں ہوسکے لیکن وہ بھی اپنے خاوند کی طرح مخلص اور قربانی کا جذبہ رکھنے والی خاتون تھیں۔ اپنے کئی زیور فروخت کرکے سلسلہ کے کاموں کے لئے امداد دی تھی۔ 26 اگست 1912ء کو وفات پائی۔
……………………………….
حضرت سیّدہ صالحہ بی بی صاحبہؓ
حیدرآباد دکن کے عظیم بزرگ حضرت میر محمد سعید صاحب (وفات 20اکتوبر 1924ء ) کی بیٹی حضرت صالحہ بی بی صاحبہؓ عرف عزیز النساء بیگم صاحبہ نے 10ستمبر 1912ء کو وفات پائی اور بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہوئیں۔ آپؓ حضرت حافظ محمد اسحٰق صاحب بھیروی (یکے از 313 صحابہ۔ وفات 1925ء ) کی زوجہ تھیں۔
……………………………….
حضرت کلثوم بیگم صاحبہؓ
حضرت راجہ مدد خان صاحبؓ (وفات 12 ستمبر 1944ء ) کی اہلیہ حضرت کلثوم بیگم صاحبہ نے 19ستمبر 1912ء کو وفات پائی، حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے جنازہ پڑھایا اور بہشتی مقبرہ میں تدفین ہوئی ۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/3mwHT]

اپنا تبصرہ بھیجیں