آنحضورﷺ بطور مزکّی نفس

September 6, 2026 8 مناظر الفضل ڈائجسٹ

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ …؍ستمبر 2026ء)

مسجد نبوی مدینہ منورہ

آج سے قریباً پانچ ہزار سال قبل حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھاتے ہوئے دعا کی تھی کہ اے اللہ! یہاں کے باسیوں میں انہی میں سے ایک رسول مبعوث فرما جو اِن پر تیری آیات کی تلاوت کرے، انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم سکھائے اور ان کا تزکیہ کرے۔ (البقرۃ:130)
یہ دعا بارگاہِ الٰہی میں قبول ہوئی اور آنحضور ﷺ کی بعثت کے ساتھ ہی آپؐ کے متعلق ارشاد ہوا:وہی ہے جس نے اُمّی لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول مبعوث کیا جو اِن پر خدا کی آیات تلاوت کرتا ہے اور اِن کا تزکیہ کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ (الجمعہ:3) اس حوالے سے ایک مضمون ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ کے ’’سیرت خیرالوریٰؐ نمبر‘‘ میں مکرم رانا ارسال احمد صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
تزکیہ کے معنوں میں ظاہری پاکیزگی اور طہارت کے ساتھ نفوس کا تزکیہ بھی شامل ہے یعنی اپنے متّبعین کو روحانی گندگی سے پاک کرکے باخدا انسان بنادینا۔ آنحضور ﷺ کی بعثت کے وقت بحروبرّ میں فساد برپا تھا یعنی اہل کتاب بھی بگڑ گئے تھے اور وہ بھی بگڑ گئے تھے جن کو الہام کا پانی نہیں ملا تھا۔ (ماخوذ از روحانی خزائن جلد دہم صفحہ238)
پس تزکیہ کے ظاہری پاکیزگی کے معانی میں راستوں کو صاف رکھنا، عوامی مقامات پر گندگی نہ پھیلانا، نیز وضو، غسل، ناک، بالوں اور ناخنوں کی صفائی وغیرہ امور شامل ہیں۔ اسی طرح باطنی طہارت سے مراد متّبعین کے قلوب کو بھی محبت الٰہی سے بھر دینا کہ الٰہی صفات اُن میں نظر آنے لگیں اور وہ خدانما انسان بن جائیں۔ چنانچہ آنحضور ﷺ اس حوالے سے دیگر تمام انبیاء سے ممتاز نظر آتے ہیں۔ آپؐ کی دعاؤں نے روحانی مُردوں کو جِلا بخشی اور ‘‘عرب کے بیابانی ملک میں ایک عجیب ماجرا گزرا کہ لاکھوں مُردے تھوڑے دنوں میں زندہ ہوگئے اور پشتوں کے بگڑے ہوئے الٰہی رنگ پکڑ گئے اور آنکھوں کے اندھے بینا ہوئے اور گونگوں کی زبان پر الٰہی معارف جاری ہوئے اور دنیا میں یکدفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اس سے کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا۔ کچھ جانتے ہو کہ وہ کیا تھا؟ وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دعائیں ہی تھیں جنہوں نے دنیا میں شور مچادیا اور وہ عجائب باتیں دکھلائیں کہ جو اُس اُمّی بےکس سے محالات کی طرح نظر آتی تھیں۔’’ (برکات الدعا۔ روحانی خزائن جلد6 صفحہ10)
تزکیہ نفس کا ایک اہم ذریعہ نماز ہے جو آنحضورﷺ نے اپنے صحابہؓ کو سکھائی۔ ‘‘یقیناً نماز بےحیائی اور تمام ناپسندیدہ باتوں سے روکتی ہے۔’’(العنکبوت:46)
ایک بار آپؐ سے پوچھا گیا کہ سب سے افضل عمل کونسا ہے؟ فرمایا: نماز کو اوّل وقت میں ادا کرنا۔ نیز فرمایا کہ مومن اور کافر کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز ہی ہے۔
ایک بار آپؐ نے صحابہؓ سے فرمایا کہ جس طرح دن میں پانچ مرتبہ نہانے والے کے جسم پر کوئی مَیل باقی نہیں رہے گی اسی طرح پانچ نمازیں روحانی مَیل کچیل کو دُور کردیتی ہیں۔
آنحضورﷺ کی صحبت کا ہی اثر تھا کہ وہ لوگ جو اپنی بدیوں پر فخر کیا کرتے تھے اُن میں ایسی تبدیلی آگئی کہ اگر کسی سے کوئی گناہ سرزد ہوگیا تو وہ اُس کی سزا سے خائف ہوکر آپؐ کے حضور حاضر ہوتا ہے اور دعا کی درخواست کرتا ہے۔
حضرت مسیح موعودؑ کے ایک عربی شعر کا ترجمہ یوں ہے کہ اے اللہ کے رسولؐ!تُو نے انہیں گوبر کی مانند پایا اور پھر انہیں اپنی خداداد قوّت قدسی سے سونے کی خالص ڈلی کی مانند بنادیا۔ دوسری طرف آنحضور ﷺ اپنے تزکیۂ نفس کے جس مقام پر تھے اس کی گواہی خداتعالیٰ نے یوں دی کہ اے محمدؐ!تُو اخلاق فاضلہ کے اعلیٰ مراتب پر فائز ہے۔ پھر بطور مُزکّی آپؐ کا انداز ہمیشہ دلنشیں نصیحت اور حُسن عمل پر مبنی رہا۔ یاددہانی کرواتے رہنا آپؐ کے کردار کا حصہ تھا۔ امربالمعروف و نہی عن المنکر کی مثال دیتے ہوئے آپؐ نے فرمایا کہ گویا ایک کشتی کے مسافر اپنے کسی ساتھی کو کشتی میں سوراخ کرتے ہوئے دیکھیں لیکن اُسے نہ روکیں تو سب ہلاک ہوجائیں گے۔
آنحضورﷺ وعظ و نصیحت کو پُراثر بنانے کا گُر یہ بھی بیان فرماتے تھے کہ لوگوں کے لیے آسانی مہیا کرو، اُن کے لیے مشکلیں پیدا نہ کرو، خوشخبریاں دو اور اُن کو مایوس نہ کرو۔
آنحضورﷺ نے زندگی کے تمام شعبوں میں راہنمائی کرتے ہوئے اپنے صحابہؓ کا تزکیہ فرمایا یعنی حُسنِ معاشرت، نکاح شادی، والدین کی خدمت، صلہ رحمی، حبّ الوطنی، ہمسایوں سے حُسن سلوک۔ نیز سفر، طعام اور لباس کے آداب، صفائی، لباس، عبادت۔ الغرض زندگی کے ہر پہلو کے لیے آپؐ کی راہنمائی تزکیۂ نفس کا بہترین ذریعہ ہے جس کا اعتراف منصف مزاج غیرمسلموں نے بھی کیا ہے۔ چنانچہ Meredith Townsend اپنی کتاب The Great Arabian(مطبوعہ1912ء)میں رقمطراز ہیں:علم کی تمام حدود میں جب ہم اُن تمام عظیم ہستیوں کی قطار پر نظر ڈالتے ہیں جن کے نام ہی انسانی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں تو ہمیں اس عظیم عربی (ﷺ)سے زیادہ کوئی اس بات کے قابل نظر نہیں آتا کہ اس کی ذات کو پہچانا جائے اور جانا جائے اور وہ فکر کا موضوع بننے کی بجائے انسانی سوچ کا ایک اٹوٹ حصہ بن جائے جیسا کہ شیکسپیئر کے بعض کردار بن گئے ہیں۔ کسی انسان کے تصوّرات اتنی وسعت سے پھیل جائیں اور ایک لمبے عرصے بعد تک جب اس کی ذات تاریخ کے اوراق میں محو ہوچکی ہو اور وہ پھر بھی انسانی افعال کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہوں ایک حیرت انگیز واقعہ ہے۔ اور یہ ایسا واقعہ نہیں جو ہر کچھ عرصے بعد دوبارہ ہوجائے۔ یہ واقعہ کہ ایک ایسا انسان جو گمنامی کی حالت میں پیدا ہوا ہو ایک اَن پڑھ معاشرے میں پروان چڑھا ہو اور اس کی کوئی تعلیم نہ ہو اور نہ ہی اس کے پاس کوئی مادی وسائل ہوں وہ صرف اور صرف اپنی ذہانت کے بل بوتے پر ایک سو قبیلوں میں سے بت پرستی کو نابود کر ڈالے اور انہیں ایک بہت بڑی اور زوردار تحریک کی صورت میں یکجا کردے اور اس طرح فوت ہو کہ ایسے لوگوں کو جو اُس کی اولاد بھی نہیں تھے ساری مشرقی دنیا کی طاقتور بادشاہت مل جائے۔ بلکہ یہ بات بھی حیرت انگیز ہے کہ اس طرح کا کوئی آدمی جو نہایت عاجزی سے اپنے ہم مرتبہ لوگوں میں رہتا ہو، وہ اپنے لوگوں کے ذہن میں اس بات کی گہری چھاپ چھوڑ جائے کہ اُسے جسے انہوں نے اپنی طرح کھاتے ہوئے، پیتے ہوئے، سوتے ہوئے اور بعض اوقات خطا کرتے ہوئے بھی دیکھا دراصل وہ خدائے ذوالجلال کا نائب ہے۔ اور یہ بھی کہ آپؐ کے بنائے ہوئے نظام نے آپ کو بارہ صدیوں تک ایک زندہ تبلیغی طاقت کے طور پر زندہ رکھا اور نہ صرف یہ کہ دنیا کے ایک بڑے حصے پر اثر انداز ہوئے بلکہ ایک چوتھائی نسلِ انسانی کو بالکل اپنے سانچے میں ڈھال لیا۔
ایک ہندو سکالر پروفیسر کے ایس رام کرشناراؤ (سابق ہیڈ آف شعبہ فلاسفی میسور یونیورسٹی بھارت) اپنی کتاب Muhammad the Prophet of Islam میں لکھتے ہیں:محمد(ﷺ)عرب کے صحرا میں 20؍اپریل 571ء کو پیدا ہوئے۔ آپ کے نام کا مطلب ہے:بہت زیادہ تعریف کیا گیا۔ میرے نزدیک آپ عرب کے بیٹوں میں سے سب سے زیادہ عظیم دماغی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ آپ کا مقام آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آنے والے تمام شعراء اور بادشاہوں سے بہت بڑھ کر ہے جو اس سرخ ریت کے صحرا میں پیدا ہوئے۔ جب آپ مبعوث ہوئے تو عرب محض ایک صحرا تھا۔ ایک بےحیثیت جگہ۔ محمد(ﷺ) کی عظیم روح نے اس بےحیثیت مقام سے ایک نئی زندگی کو تراشا، ایک نئی تہذیب کو جنم دیا، ایک نئی سلطنت کی بنیاد ڈالی جو مراکش سے لے کر جزائر تک پھیلی ہوئی تھی اور اس کا اثر تین براعظموں پر پھیلا ہوا تھا یعنی ایشیا افریقہ اور یورپ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *