جنگوں میں آنحضرتﷺ کے اخلاقِ کریمانہ

October 3, 2026 • 19 مناظر • الفضل ڈائجسٹ

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ …؍اکتوبر 2026ء)

جبل احد

جنگ اور اخلاق کے الفاظ عمومی تناظر میں متضاد ہی سمجھے جاتے ہیں بلکہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جنگ میں سب کچھ جائز ہوتا ہے اہل دنیا کا یہ طریقہ آج بھی ہے اور زمانہ گذشتہ میں بھی یہی حال تھا قرآن کریم اس امر کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچتا ہے کہ جب بادشاہ کسی ملک میں داخل ہوتے ہیں تو اسے تباہ کر دیتے ہیں اور اس کے باشندوں میں سے معزز لوگوں کو ذلیل کر دیا کرتے ہیں اور وہ اسی طرح کرتے چلے جاتے ہیں۔ (النمل:35)

نصیر احمد انجم صاحب

اس پس منظر میں جب ہم آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ کا جائزہ لیتے ہیں تو ایک مختلف دنیا میں جا پہنچتے ہیں۔ جب آپ پر مخالفین کی طرف سے جنگ مسلط کی گئیں تو ان جنگوں میں بھی آپؐ نے اخلاق حسنہ کے جوہر دکھائے اور اخلاقِ محمدی کی تلوار کی چمک دوسروں کی آنکھوں کو خیرا کرتی رہی۔ اس حوالے سے ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ کے ’’سیرت خیرالوریٰؐ نمبر‘‘ برائے نومبرو دسمبر 2012ء میں ایک مضمون مکرم نصیر احمد انجم صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
٭… عبدکامل: قرآن مجید میں آنحضرت ﷺ کو عبداللہ کے لقب سے یاد کیا گیا ہے۔ آپؐ بلا شبہ عبد کامل اور عبودیت کا حق ادا کرنے والے وجود تھے۔ شامِ اُحد بھی اس کی گواہ ہے۔ غزوۂ اُحد کے روز آپؐ کی آخری مصروفیت مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کرنا تھی۔ زخمی بدن تھکاوٹ سے چُور تھا۔ جب آپؐ گھر پہنچے تو گھوڑے سے اتر نہیں پارہے تھے۔ رانوں سے جلد چھلنی ہوگئی تھی۔ آنحضور ﷺ سعدینؓ(سعد بن عبادہؓ اور سعد بن معاذؓ) کا سہارا لے کر بمشکل اترے اور گھر تشریف لے گئے۔ کچھ ہی دیر بعد مغرب کا وقت آن پہنچا۔ حضرت بلالؓ نے اذان دی۔ حضور ﷺ اسی طرح سعدینؓ کے کندھوں کا سہارا لے کر مسجد تشریف لے آئے اور خدا کے حضور نماز ادا کرتے ہوئے سجدہ ریز ہوئے پھر اسی طرح واپس گھر پہنچائے گئے۔ عشاء کے وقت حضرت بلالؓ نے اذان دی اور انتظار کرنے لگے مگر آپؐ تشریف نہ لائے۔ جب ایک تہائی رات گزری تو حضرت بلال ؓآپؐ کے در پر حاضر ہوئے اور گویا ہوئے کہ نماز تیار ہے۔ چنانچہ آپؐ دُکھتے بدن کے ساتھ پھر آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہوئے مسجد تشریف لائے اور نماز ادا کی ۔ پس اس دن آپؐ کے اخلاق کے جھنڈوں میں سے سب سے بلند تر جھنڈا عبادتِ الٰہی کا تھا ۔
٭…توکّل علیٰ اللہ: غزوہ احزاب کے لیے خندق کھودی جارہی تھی۔ جب حضرت جابرؓ کو معلوم ہوا کہ آنحضرتﷺ نے تین دن سے کھانا نہیں کھایا اور پتھر پیٹ پر باندھ کر کام کررہے ہیں تو اس عاشق کا دل تڑپ اٹھا۔ وہ گھر آئے اور ایک بکروٹا ذبح کیا۔ پھر جَو پیس کر آٹا گوندھا اور اہلیہ کو کہا کہ کھانا تیار کرو۔ پھر واپس آکر رازداری سے حضورﷺ سے عرض کیا کہ کچھ کھانا تیار ہے آپؐ ایک دو افراد کو ساتھ لے لیں اور میرے غریب خانے پر تشریف لے آئیں۔ آپؐ نے جابرؓ سے کھانے کی تفصیل پوچھی۔ جب انہوں نے بتایا تو خدا کے اس متوکّل بندے نے کہا کہ بہت ہے۔ اور پھر اعلان عام کروادیا کہ جابر نے ہماری دعوت کی ہے، چلو اس کے گھر جا کر کھانا کھاتے ہیں۔ حضرت جابرؓ بھاگے بھاگے گھبرائے ہوئے گھر آئے اور بیوی کو ماجرا سنایا۔ اُس نے کہا کہ کیا آپ نے کھانے کی تفصیل حضور کو بتا دی تھی؟ جابر نے کہا: جی۔ وہ کہنے لگی: تو پھر گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ۔
آنحضورﷺ نے جابرؓ سے کہا کہ جا کر بیوی سے کہو کہ ہنڈیا چولہے سے نہ اتارے اور تنور سے روٹی نہ نکالے۔ آپ گھر تشریف لائے تو روٹی نکالتے اور اس پر سالن ڈال کر صحابہ کو پیش کرتے رہے۔ اور صحابہ باری باری کھانا سیر ہو کر کھاتے رہے۔ سب نے پیٹ بھر کر کھایا لیکن کھانا پھر بھی موجود تھا۔ پھر آپؐ نے اہل خانہ سے فرمایا کہ تم بھی کھاؤ اور اَوروں کو تحفے کے طور پر بھی بھجواؤ کیونکہ لوگوں کو بھوک نے ستا رکھا ہے۔
اس واقعے سے اخلاق محمدی ؐکے کتنے چشمے رواں ہوتے نظر آتے ہیں۔ جب صرف آپؐ کو دعوت دی گئی تو آپؐ نے یہ گوارا نہ کیا کہ صحابہؓ کو بھوکے چھوڑ کر خود کھانا جا کر کھا لیں۔ مساوات کا یہ نظارہ صرف نور محمدیؐ کی کرنوں میں ہی جلوہ گر نظر آسکتا ہے۔ پھر آپ کا خدا پر توکّل کیسا فقیدالمثال تھا کہ چند لوگوں کے لیے جو کھانا تھا، اس کے لیے آپؐ نے سینکڑوں صحابہؓ کو دعوت دے دی۔ آپؐ کا یہ اقتداری معجزہ تھا جس میں خدا نے عارضی طور پر اپنی رزاقیّت کی صفت کا پرتَو آپؐ کی ذات کو بنادیا۔
٭… دعاؤں کے تیر: کوئی بھی معرکہ درپیش ہو تو آنحضرت ﷺ نے کبھی افرادی قوّت یا ظاہری اسباب پر بھروسہ نہیں کیا۔ ویسے بھی تعداد ہویا سامانِ حرب ، دشمن کا پلّہ ہمیشہ ظاہری اسباب کے لحاظ سے بہت بھاری ہوتا۔ ان حالات میں آنحضور ﷺ اپنے ربّ کے حضور تہی دست چند جاںنثاروں کے حوالے سے عرض کرتے کہ جھوٹے خداؤں سے ناطہ توڑ کر تیرے آستانے پر سر جھکانے والوں کا یہ چھوٹا سا گروہ ہے، اگر آج یہ ہلاک ہوگئے تو دنیا میں تیری عبادت کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔
آپؐ کی عاجزانہ دعائیں رنگ لاتیں،کبھی غزوۂ بدر میں اور کبھی غزوۂ خندق میں ریت کی مٹھی آندھی کی شکل اختیار کرلیتی۔ غزوۂ خندق میں تو مدینہ کے اندر سے یہود بھی بدعہدی کے مرتکب ہوچکے تھے۔ ایسے میں آپؐ نہایت درد سے اپنے ربّ کے حضور گریہ و زاری کررہے تھے۔ ان دعاؤں کی قبولیت یوں ظاہر ہوئی کہ بنوقریظہ کی بدعہدی کے باوجود کوئی کامیابی کفّار کو نہ مل سکی اور بالآخری ایسی آندھی چلی جیسی بدر میں چل چکی تھی کہ خیموں کی طنابیں ٹوٹ گئیں، آگ کے الاؤ بجھ گئے، کفّار کا لشکر افراتفری کا شکار ہوکر بھاگنے لگا۔ ایسے میں خدا تعالیٰ نے آپؐ کو آپؐ کے خیمے میں اطلاع دی کہ کفّار کے لشکر کو ہم نے بھگا دیا ہے۔ چنانچہ آپؐ نے ابوحذیفہؓ کو خبر لانے کے لیے بھیجا۔ انہوں نے جاکر دیکھا تو لشکر کا نام و نشان نہ تھا اور شکست خوردہ لشکر کی باقیات ہر طرف بکھری پڑی تھیں۔
٭… ترکِ رضائے خویش پئے مرضیٔ خدا: جب نبی کریم ﷺ نے رؤیا میں دیکھا کہ آپؐ خانہ کعبہ کا طواف کررہے ہیں تو آپؐ نے صحابہؓ کو حکم دیا اور حج کے ارادے سے نہ کہ جنگ کے ارادے سے، قربانیوں کے جانور ساتھ لے کر مدینہ سے اڑھائی سو میل دُور مکّہ کے قریب جاپہنچے۔ لیکن وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ کفّارِ مکّہ مزاحم ہیں کہ کسی طَور آپؐ کو مکّہ میں داخل نہ ہونے دیں گے۔ چنانچہ آپؐ نے حدیبیہ کے میدان میں پڑاؤ کیا اور کفّار کو مذاکرات کے ذریعے آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ ایسے میں صحابہؓ پُرجوش تھے اور لڑائی پر بھی آمادہ تھے۔ بعض کو ابتلاء بھی پیش آگیا کہ جب خدا نے حج کرتے ہوئے دکھایا ہے تو پھر ہم کیوں بات چیت کریں۔ ایسے میں آنحضورﷺ جو نہ صرف ایک زیرک جرنیل تھے بلکہ خداتعالیٰ کی راہنمائی بھی آپؐ کو حاصل تھی، کفّار سے ایسی شرائط پر صلح کرنے پر تیار ہوگئے جو بظاہر کفّار کے حق میں تھیں۔ لیکن بعد کے حالات نے یہ ثابت کردیا کہ آپؐ کا فیصلہ ہی درست تھا اور مسلمانوں کے خلاف نظر آنے والی ہر شرط مسلمانوں کے لیے ہی فائدہ مند ثابت ہوئی۔ یہ وہ جنگ تھی جس میں انسانی خون کا ایک قطرہ بھی نہیں بہایا گیا، دراصل یہ نفس اور ضبطِ نفس کی جنگ تھی۔ یہ رضائے خویش اور مرضیٔ خدا کی جنگ تھی۔
٭…رسول امین: آنحضورﷺ کی امانت و دیانت کا تذکرہ ہر دَور میں نمایاں نظر آتا ہے۔ غزوۂ خیبر کے دوران مسلمان کئی روز سے خیبر کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔ گھروں سے میلوں دُور تھے اور راشن ختم ہونے کو آچکا تھا۔ جب کسی یہودی رئیس کا گلّہ بان بکریاں چرانے قلعہ سے باہر آیا اور آپؐ سے ملا تو آپؐ کی تبلیغ سے متاثر ہوکر ایمان لے آیا۔ اس کے پاس چار سو بکریاں تھیں۔ اُس نے کہا کہ اسلام قبول کرنے کے بعد وہ واپس نہیں جائے گا لیکن ان بکریوں کا کیا کروں؟
یہ بکریاں مسلمان لشکر کے لیے لمبے عرصے تک خوراک کا کام دے سکتی تھیں یا ان کو فروخت کرکے راشن اور ہتھیار خریدے جاسکتے تھے۔ لیکن مکارم اخلاق پہ فائز رسولؐ نے نومسلم سے فرمایا کہ یہ بکریاں تمہارے پاس امانت ہیں، ان کا منہ قلعے کی طرف کرکے ان کو ہانک دو۔ ایسا ہی کیا گیا اور جب بکریاں قلعے کے پاس پہنچیں تو یہود نے دروازہ کھول کر انہیں اندر داخل کرلیا۔
٭…مذہبی رواداری: دنیاوی رواج یہی ہے کہ جنگ و جدل میں مخالف کو جذباتی طور پر تکلیف دی جائے۔ یہود کو تو اُن کی مذہبی کتاب استثناءمیں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جب تیرا خدا وند تیرا خدا تجھ کو اُس ملک میں جس پر قبضہ کرنے کے لیے تُو جارہا ہے پہنچادے … اور تُو اُن کو مارے تو اُن کو بالکل نابود کر ڈالنا۔ تُو اُن سے کوئی عہد نہ باندھنا اور نہ اُن پر رحم کرنا۔
تاریخ میں ایسے ہی ظلم یہود پر بھی ہوئے جب اسیری کلدانی اور رومی بادشاہوں کے ذریعے اُن کے ہیکل میں Zeus بُت کے سامنے سؤر کی قربانی کرنے پر یہود کو مجبور کیا گیا، ٹائٹس رومی نے ہیکل تباہ کیا۔ تورات کے نسخے کئی بار جلائے گئے۔ لیکن غزوۂ خیبر میں جب مسلمانوں کو فتح حاصل ہوگئی اور اُنہیں قلعے میں سے تورات کے چند نسخے ملے تو یہود نے آنحضورﷺ سے عرض کی کہ ہماری مقدّس کتاب ہمیں واپس کردی جائے۔ چنانچہ آپؐ کے ارشاد پر ایسا ہی کیا گیا۔
آنحضورﷺ نے مفتوح اقوام سے جو معاہدات کیے اُن میں اُن اقوام کی مذہبی آزادی کا پورا پورا خیال رکھا۔ یہ معاہدات کتاب ’’الوثائق السیاسیۃ‘‘ میں محفوظ ہیں۔
٭…عفو و درگزر: آنحضور ﷺ کا طریق تھا کہ غزوات کی تیاری کو بالعموم راز میں رکھتے تھے۔ اس جنگی حکمت عملی کی وجہ سے دشمن کو تیاری کا موقع نہیں ملتا تھا۔ فتح مکّہ کی تیاری بھی راز میں جاری تھی کہ ایک صحابی حاطب بن ابی بلتعہ نے اپنی سادہ لوحی کی بِنا پر اہلِ مکّہ کے نام ایک خط دے کر ایک عورت کو مکّہ روانہ کردیا جس میں اس راز کو فاش کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے آپؐ کو اس کی اطلاع دی تو آپؐ نے حضرت علیؓ اور حضرت زبیر بن العوامؓ کو روانہ کیا کہ اس عورت سے خط نکال لاؤ۔ دونوں صحابہؓ نے راستے میں عورت کو جالیا۔ خط مانگنے پر پہلے اُس نے انکار کیا لیکن پھر اپنے بالوں میں سے نکال کر خط دے دیا۔ جب حضرت حاطبؓ سے ایسا کرنے کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے عرض کی: یارسول اللہ! مَیں یہ تو جانتا تھا کہ آپؐ اللہ کے سچے رسول ہیں اور اللہ ضرور آپؐ کو غلبہ دے گا۔ مکّہ میں چونکہ میرے عزیزو واقارب ہیں اس لیے مَیں نے اہلِ مکّہ پر احسان کرکے چاہا کہ وہ میرے اقارب کو نقصان نہ پہنچائیں۔ حضرت عمرؓ بہت غصہ میں تھے اور چاہتے تھے کہ حاطبؓ کی گردن اُڑادی جائے۔ لیکن نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ اہلِ بدر میں سے ہے، یہ اس کی غلطی ہے جو قابل معافی ہے۔ چنانچہ آپؐ نے حاطبؓ کو معاف فرمادیا۔
فتح مکّہ کے روز کفّار کے لشکر کے سردار ابوسفیان، ہندہ اور ابوجہل کے بیٹے عکرمہ کو بھی معاف فرمادیا۔ غزوۂ خیبر کے دوران یہودی عورت سلام بن مشکم کو بھی معاف فرمادیا جس نے آپؐ کو کھانے میں زہر دیا تھا۔ جنگ خندق کے دوران جب مشرک سردار نوفل بن عبداللہ نے خندق پار کرکے مسلمانوں پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو گھوڑے سمیت خندق میں گر کر ہلاک ہوگیا۔ اُس کے قبیلے نے ایک سو اونٹ نعش واپس لینے کے بدلے میں دینے کی پیشکش کی۔ اُنہیں خوف تھا کہ رواج کے مطابق مسلمان اُن کے سردار کی نعش کا مثلہ نہ کریں۔ لیکن آنحضورﷺ نے یہ فرماتے ہوئے نعش واپس کردی کہ ہم مُردوں کے چہرے نہیں بگاڑتے اور نہ لاشوں کی قیمت وصول کرتے ہیں۔
٭…حکمت، فراست اور دلیری: غزوۂ اُحد میں جب چند مسلمانوں کی طرف سے نبی کریم ﷺ کے حکم کی من و عن اطاعت نہ کی گئی تو مسلمانوں کی فتح شکست میں بدل گئی۔ کفّار ستّر مسلمانوں کو شہید کرکے فتح کے نعرے لگاتے مکّہ کی طرف لَوٹ گئے۔ لیکن روحاء کے مقام پر پہنچے تو سوچا کہ ہم نے چند مسلمانوں کو قتل کرنے کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں کیا، نہ مدینہ میں داخل ہوسکے اور نہ کسی کو لونڈی یا غلام بنایا۔ چنانچہ اپنے بدارادے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے روحاء میں ہی رُک کر تیاری کرنے لگے۔ دوسری طرف آنحضورﷺ نے اُحد کے اگلے ہی روز اعلان فرمایا کہ آج ہم کفّار کا پیچھا کریں گے لیکن اسلامی لشکر میں وہی زخمی اور تھکن سے چُور سپاہی شریک ہوں گے جو اُحد کے لشکر میں شامل تھے، ان کے علاوہ کوئی ایک بھی شامل نہ ہوگا۔ چنانچہ آپؐ کی قیادت میں زخم خوردہ صحابہؓ کا لشکر کئی منزلیں طے کرتے ہوئے جب حمراءالاسد پہنچا تو کفّار کے ہوش اُڑ گئے۔ وہ اس بات کا تصور بھی نہ کرسکتے تھے۔ چنانچہ مسلمانوں کے عزم و حوصلہ کی تاب نہ لاکر وہ وہاں سے بھاگے اور مکّہ پہنچ کر ہی دم لیا۔ مسلمان تین دن تک وہاں پڑاؤ کرنے کے بعد واپس مدینہ آئے۔ تاہم آنحضورﷺ کے اس صائب فیصلے سے جہاں زخم خوردہ اسلامی لشکر میں(جو نفسیاتی طور پر کمزور پڑرہا تھا) ایک نیا ولولہ اور جوش پیدا ہوگیا اور دوسری طرف کفّار کے اچانک دوبارہ حملے کا سدّباب ہوگیا جس کے نتیجے میں غیرمعمولی نقصان پہنچ سکتا تھا۔
٭…محنت شاقّہ اور جانفشانی: غزوۂ احزاب میں جب عرب قبائل مل کر مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے تو حضرت سلمان فارسیؓ کے مشورے سے آنحضورﷺ نے مدینہ کے شمال اور مشرقی جانب خندق کھدوائی۔ سینکڑوں صحابہؓ نے سخت سردی کے دنوں میں مسلسل محنت اور اذیت اٹھاکر یہ خندق کھودی۔ بھوک اور افلاس کا دَور تھا۔ ان مزدوروں کے سرخیل آقائے دوجہاں تھے لیکن سب کے ساتھ مل کر اپنے حصے کی خندق کھودنے میں مصروف تھے۔ صحابہ دس دس کی ٹولیوں میں تقسیم کیے گئے تھے اور ہر ٹولی کے ذمے قریباً بتیس میٹر کھدائی لگائی گئی تھی۔ ایسے میں ایک صحابی آنحضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پیٹ سے کپڑا اٹھاکر دکھایا کہ پیٹ پر پتھر باندھ لیا ہے تاکہ بھوک کا احساس جاتا رہے۔ اس پر آقاﷺ نے اپنے بطن مبارک سے کپڑا اٹھایا تو وہاں بھی پتھر بندھے ہوئے تھے۔ پس سیرۃالنبیﷺ کا کوئی بھی پہلو ہو، ہر پہلو سے روشن اور دوسروں سے ممتاز نظر آئے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *