حضرت عبدالرحیم صاحبؓ

حضرت عبدالرحیم صاحبؓ عرف میاں پولا نے قریباً 93 سال کی عمر میں 2؍نومبر 1957ء کو وفات پائی۔ آپؓ کا ذکر خیر مکرم مسعود احمد جہلمی صاحب کے قلم سے روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 29؍دسمبر 1997ء میں شائع ہوا ہے۔
حضرت عبدالرحیم صاحبؓ کا آبائی گاؤں موضع بھاگی ننگل، قادیان سے تین میل کے فاصلہ پر تھا۔ قادیان میں آپؓ کے سسرال رہتے تھے جن کے ہاں اکثرآپؓ کا آنا جانا رہتا تھا۔حضرت مسیح موعودؑ کے دعویٰ کی خبر سن کر آپؓ بھی حضورؑ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے اور قریبا 1893ء میں قبول احمدیت کی سعادت پالی۔ بیعت کے بعد حضورؑ کے فیوض و برکات سے استفادے کیلئے نماز فجر سے پہلے قادیان پہنچ جاتے اور عشاء کی نماز پڑھ کر واپس روانہ ہوتے۔
موضع ننگل میں سوائے آپؓ کے خاندان کے چند گھروں کے باقی ساری آبادی سکھوں کی تھی اور گاؤں میں کوئی مسجد نہ تھی۔ آپؓ نے ابتداء میں اپنے گھر میں نماز کیلئے جگہ مخصوص کرلی۔ پھر گاؤں میں مسجد کی تعمیر شروع کی اور انتہائی مخالفت کے باوجود بھی ثابت قدمی سے اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرلی تو مخالفین نے آپؓ کو گاؤں کے کنوئیں سے پانی لینے کی ممانعت کردی۔ اس پر آپؓ نے مسجد میں کنواں بنوالیا۔ موضع ننگل میں جماعت کا قیام آپ کی کوششوں کے باعث عمل میں آیا اور آپؓ ہی پہلے صدر مقرر ہوئے اور 1939ء میں قادیان سے نقل مکانی کرنے تک اس عہدہ پر فائز رہے۔ آپؓ نے ایک ملحقہ گاؤں میں بھی جماعت کی داغ بیل ڈالی۔ اورضلع امرتسر کے ایک گاؤں جبووالی میں جب آپ ایک شادی پر تشریف لے گئے تو یہ دیکھ کرکہ وہاں کوئی مسجد نہیں ہے آپؓ نے وہاں مسجد کی تعمیر کی تحریک کی اور متوقع اخراجات کا نصف خود ادا کردیا۔
ننگل کے ایک سکھ کے ہاں کوئی نرینہ اولاد نہ تھی۔ اس نے منت مانی کہ اگر حضرت مرزا صاحب اپنے دعاوی میں سچے ہیں تو میرے گھر نرینہ اولاد پیدا ہو اور اگر ایسا ہو جائے تو میں مرزا صاحب کے مریدوں کو گنے کا رس پلاؤں گا۔ لیکن اس کی اس منت کی سخت مخالفت اسکی بیوی نے کی۔کچھ عرصہ بعد اس کو اسقاط حمل ہوگیا جس سے وہ خائف ہوگئی اور پھر اپنے خاوند سے مل کر یہی منت مانگی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں لڑکا عطا کیا اور انہوں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر تمام آنے والے مہمانوں کو گنے کا رس پلایا۔… آپؓ کے ہاں بھی کوئی نرینہ اولاد نہ تھی چنانچہ گاؤں کے لوگوں نے آپ کو طعنہ دینا شروع کیا کہ تمہارے مرزا صاحب کی برکت سے سکھ کے گھر تو لڑکا پیدا ہوگیا لیکن تمہارے ہاں نہ ہوا۔ اس پر آپؓ نے حضرت مصلح موعودؓ سے درخواست دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھی ایک لڑکا عطا فرمایا۔
حضرت میاں پولا صاحبؓ مہمان نوازی اور دیگر جماعتی امور میں بہت وسیع الحوصلہ تھے۔ ابتداء میں جب بٹالہ سے قادیان تک آمد و رفت کی سہولتیں نہ تھیں تو آپؓ راستہ میں مہمانوں کیلئے کافی مقدار میں کھانا وغیرہ تیار کروایا کرتے اور گھوڑوں پر آنے والے مہمانوں کے گھوڑوں کے لئے خوراک بھی مہیا فرماتے۔ اسی طرح جلسہ سالانہ کے موقع پر کسیر کی فراہمی میں بھی سالہا سال امداد کرتے رہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/q5rBi]

اپنا تبصرہ بھیجیں