خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 13؍جولائی 2007ء

ایک سچے مومن کی مختلف نشانیوں کا قرآن مجید کی آیات کے حوالہ سے ذکر اور ان اوصاف کو پوری طرح اپنانے کی نصیحت
اللہ کے فضل سے جماعت میں مال خرچ کرنے کی طرف بہت توجہ رہتی ہے، جماعتی ضروریات کے لئے بھی احمدی بڑے کھلے دل سے قربانیاں کرتے ہیں۔
اس سال بھی اکثر ممالک کی جماعتوں نے اپنے بجٹ اور گزشتہ سال کی قربانیوں سے بہت بڑھ کر قربانیاں کی ہیں۔
خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
(فرمودہ مورخہ 13 ؍جولائی 2007ء (13؍ وفا 1386ہجری شمسی)

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

گزشتہ خطبہ میں اللہ تعالیٰ کی صفت مومن کا بیان ہوا تھا اور اس لفظ کی تعریف مختلف لغات اور مفسرین کے حوالہ سے بیان کی تھی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی صفتِ مومن کے تحت امن دینے والا ہے اور اپنے انبیاء کی تصدیق کرنے والا ہے، ان کی تائید میں نشانات و معجزات دکھانے والا ہے۔ اور جب انسان اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے انبیاء پر ایمان لے آئے تو وہ اپنی مخلوق کو ہر شر سے امن میں رکھتا ہے اور دنیا و آخرت میں ان ایمان لانے والوں کو طمانیت قلب عطا فرماتا ہے، اپنے انعامات سے نوازتا ہے اور اپنے مومن بندوں کو اپنی رضا کی جنتوں میں داخل کرتا ہے۔ لیکن جیسا کہ مَیں نے ابھی بتایا ایک انسان کو اللہ تعالیٰ کی اس صفت سے فیض پانے کے لئے مومن بننا ہوگا۔ مومن بننے کے لئے کیا لوازمات ہیں؟ کون کون سی شرائط ہیں جن پر پورا اتر کر ایک انسان حقیقی مومن بن سکتا ہے؟ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کئی جگہ مومن کی مختلف خصوصیات بیان فرمائی ہیں کہ ایک مومن بندہ اللہ تعالیٰ کی اس صفت سے فیض پانے کے لئے ایمان کے مدارج طے کرتے ہوئے ان باتوں کو اپنائے گا تو وہ حقیقی مومن کہلائے گا اور فیض پانے والا ہوگا۔
قرآن کریم کے شروع میں ہی مومن کی تعریف کا بیان شروع ہو گیا ہے۔ فرمایا

اَلَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ۔وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَآاُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَبِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْن (البقرۃ:5-4)

مومن کی پہلی نشانی یہ ہے کہ وہ غیب پر ایمان لانے والا ہے۔ اس کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ نمازوں کو قائم کرنے والا ہے۔ تیسری بات اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والا ہے یا جو اللہ تعالیٰ کے احکامات ہیں ان کے مطابق خرچ کرنے والا ہے۔ چوتھی خصوصیت، آنحضرتﷺ پر جو تعلیم اتری، اللہ تعالیٰ کی شریعت اتری اس پر ایمان لانے والا اور پانچویں یہ کہ پہلے انبیاء پر ایمان لانے والا اور چھٹی بات یہ کہ آخرت پر یقین کرنے والا ہے۔ یعنی وہ باتیں جن کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ ہوں گی۔ ان پر یقین کرنا۔
پہلی بات یا خصوصیت جو ایک مومن کی بیان فرمائی گئی ہے وہ غیب پر ایمان ہے، اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان کہ وہ سب قدرتوں والاہے۔ جب یہ کامل ایمان ہوتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ بھی اپنے وجود کا پتہ ایک سچے مومن کو مختلف طریقوں سے دیتا ہے۔ اسی طرح فرشتوں پر ایمان ہے، مرنے کے بعد کی زندگی پر ایمان ہے، یہ سب ایمان کی مثالیں ہیں۔ پھر غیب پر ایمان یہ ہے کہ ہر حالت میں اپنے ایمان کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا۔ نیک اعمال جو کرنے ہیں وہ کسی کو دکھانے کے لئے نہیں کرنے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے،اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ہر حالت میں مجھے دیکھ رہا ہے، ان پرعمل کرنا ہے۔ دشمنوں کا خوف یا کسی قسم کی روک یا نفسانی لالچیں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے سے نہ روکیں۔ یہ ایمان کی مضبوطی کی پہلی شرط ہے۔
مومن ہونے کے لئے دوسری اہم شرط نمازوں کا قیام ہے۔ نمازوں کا قیام یہ ہے کہ ایک توجہ کے ساتھ اپنی نمازوں کی نگرانی رکھنا، ان میں باقاعدگی اختیار کرنا کیونکہ اگر نمازوں میں باقاعدگی نہیں ہے، کبھی پڑھی کبھی نہ پڑھی، کبھی نیند آرہی ہے تو عشاء کی نماز ضائع ہو گئی اور بغیر پڑھے سوگئے، کبھی گہری نیند سورہے ہیں تو فجر کی نماز پر آنکھ نہ کھلی۔ بعض لوگ نمازچھوڑ دیتے ہیں حالانکہ اگر وقت پر آنکھ نہیں بھی کھلی تو جب بھی آنکھ کھلے فجر کی نماز پڑھنی چاہئے۔ سورج نکلے پڑھیں گے تو گھر والوں کے سامنے بھی شرمندگی ہوگی یا اپنے آپ کو احساس ہوگا اور ضمیرملامت کرے گا کہ اتنی دیر سے نماز پڑھ رہاہوں اور پھر اگلے دن اس احساس سے ایک مومن وقت پر اٹھنے کی کوشش کرتا ہے۔ پھرکام کرنے والے ہیں، کام کی وجہ سے ظہر اور عصر کی نمازیں ضائع ہوجاتی ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مومن تو وہ لوگ ہیں جو نمازوں کا قیام کرتے ہیں اور قیام کس طرح کرتے ہیں،

عَلٰی صَلَاتِھِمْ دَآئِمُوْنَ (المعارج:24)

اپنی نمازوں پر ہمیشہ قائم رہتے ہیں۔ اس میں باقاعدگی رکھتے ہیں، یہ نہیں کہ کبھی نماز ضائع ہو گئی توکوئی حرج نہیں بلکہ آگے فرمایا کہ

عَلٰی صَلَاتِھِمْ یُحَافِظُوْنَ (المعارج:35)

نمازوں کی حفاظت پر کمربستہ رہتے ہیں۔انسان جتنی کسی عزیز چیز کی حفاظت کرتا ہے، وہ نمازوں کی حفاظت عزیز ترین شے سے بھی زیادہ کرتے ہیں۔ ایک مومن نمازوں کی حفاظت اس سے بھی زیادہ توجہ سے کرتا ہے۔ اگر نماز ضائع ہو جائے تو بے چینی پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ حالت ہوگی تو تب ایمان میں مضبوطی آئے گی۔ پھر باقاعدہ نماز پڑھنا ہی کافی نہیں بلکہ

اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتٰبًا مَّوْقُوْتًا (النساء:104)

یقینا نماز مومنوں پر وقت مقررہ پر ادا کرنا ضروری ہے اور حقیقی مومن وہی ہیں جو نماز وقت پر ادا نہ ہوسکے تو بے چین ہو جاتے ہیں۔
کہتے ہیں ایک شخص کی ایک دن فجر کی نماز پر آنکھ نہیں کھلی، نماز قضاء ہوگئی، اس کا سارا دن اس بے چینی میں اور رو رو کر اور استغفار کرتے ہوئے گزرا۔ لگتا تھا کہ یہ غم اسے ہلاک کر دے گا، اگلے دن نماز کا وقت آیا، اس کو آواز آئی کہ اٹھو اور نماز پڑھو۔ اس نے پوچھا کون ہو تم؟ اس نے کہا مَیں شیطان ہوں۔ پوچھا کہ شیطان کا کیا کام ہے نماز کے لئے جگانے کا؟ تو اس نے جواب دیا کہ کل تم نے جو رورو کر اپنی حالت بنائی تھی اور جتنا استغفار کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے تم کو کئی گنا نماز کا ثواب دے دیا۔ میرا تو مقصد یہ تھا کہ تم ثواب سے محروم ہوجاؤ گے تو بجائے اس کے کہ تم کئی گنا ثواب لو اس سے بہترہے کہ مَیں تمہیں خود ہی جگا دوں اور تم تھوڑا ثواب حاصل کرو، اتنا ہی جتنا نماز کا ملتا ہے۔ نہیں تو پھر رو رو کے وہی حالت کروگے اورپھر زیادہ ثواب لے جاؤگے تو میرا مقصد تو پورا نہیں ہوگا۔ تو یہ نمازیں چھوڑنے والوں کا درد ہوتا ہے۔
پھر ایک مومن کی نمازوں کی شان نمازپڑھتے ہوئے پوری توجہ کے ساتھ پڑھنا ہے۔ ایک مومن کو باجماعت نماز پڑھنے کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔ قیام نماز اس وقت مکمل ہوگا جب باجماعت نماز کی طرف توجہ ہوگی۔ اس لئے حتی الوسع باجماعت نماز کی کوشش کرنی چاہئے۔ اس لئے حدیث میں آیا ہے کہ باجماعت نماز کا ثواب ستائیس گنا تک ہے۔ (مسلم کتاب الصلوٰۃ باب فضل صلوٰۃ الجماعۃ)
پھر ایک مومن کی ایک یہ شان ہے کہ نہ صرف خود نمازوں کا اہتمام کرے بلکہ دوسروں کو بھی تلقین کرتا رہے۔ جماعتی نظام بھی ایک خاندان کی طرح ہے۔ اس میں ہر ایک کو اپنے ساتھ اپنے بھائی کی بھی فکر کرنی چاہئے۔ جو چیز اپنے لئے پسند کرتا ہے، اپنے عزیزوں کے لئے بھی پسند کرنی چاہئے۔ یہ ثواب کمانے اور نیکی پھیلانے کا ذریعہ ہے۔ لیکن پیار سے توجہ دلانی چاہئے۔ جس کو توجہ دلائی جارہی ہو اس کوبھی برا نہیں منانا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

وَاْمُرْاَھْلَکَ بِالصَّلٰوۃِ وَاصْطَبِرْعَلَیْھَا (سورۃ طٰہ :133)

اور تو اپنے اہل کو نماز کی تلقین کرتا رہ اور خود بھی نماز پر قائم رہ۔ پس جہاں ماں باپ، بہن بھائیوں کو ایک دوسرے کو نماز کی تلقین کرنی چاہئے وہاں پر ہر احمدی کو دوسرے احمدی کو بھی پیار سے اور نظام جماعت جو اس کام پرمامور ہے ان کو بھی دوسروں کو نمازوں کی طرف توجہ دلاتے رہنا چاہئے۔ یہی چیز ہے جو مومنین کی جماعت کو مضبوطی عطاکرتی ہے۔ یہی چیز ہے جس سے بندے اور خدا کے درمیان ایک تعلق قائم ہوتا ہے جو بندے کو خدا کے قریب کرتا ہے اور یہ تعلق اس لئے نہیں کہ دنیاوی مقاصد حاصل کرنے ہیں بلکہ اصل مقصد روحانیت میں ترقی کرنا اور خدا کا قرب پانا ہے۔ پس جب اس مقصد کے حصول کے لئے ایک دوسرے کو توجہ دلارہے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ کے بے انتہا فضلوں کو سمیٹنے والے بن رہے ہوں گے اور جماعتی مضبوطی بھی پیدا ہورہی ہوگی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے شرط وہی لگائی کہ خود بھی نمازوں کی طرف توجہ کرو۔ اپنے عمل کی شرط ضروری ہے۔
پھر ایک سچے مومن کی ایک نشانی یہ ہے کہ

وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ

اور جو کچھ اللہ نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ یعنی اللہ کی راہ میں بھی خرچ کرتے ہیں اور اپنے بھائیوں کے حقوق کی ادائیگی کے لئے بھی خرچ کرتے ہیں اور یہ خرچ دولت کا بھی ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو صلاحیتیں دی ہیں، جو کسی کو بھی دوسرے سے زیادہ عطا کی ہیں اس کودوسروں کی بہتری کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ اور یہی بے نفس خدمت ہے جو پھر ایک مومن کو دوسرے مومن کے ساتھ ایسے رشتے میں پیوست کر دیتی ہے جو پکا اور نہ ٹوٹنے والا رشتہ ہوتا ہے۔ مومنین کی جماعت میں ایک ایکا اور وحدانیت پیدا ہوجاتی ہے، ایک مضبوطی پیدا ہوجاتی ہے اور ہر سطح پر اگر اس سوچ کے ساتھ ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہوئے، اپنی دولت اور اپنی دوسری صلاحیتوں کو خرچ کیا جائے تو ایسا معاشرہ جنم لیتا ہے جس میں محبت، پیار، امن اور سلامتی نظر آتی ہے۔ گھروں کی سطح پر خاوند بیوی کا خیال رکھ رہا ہوگا۔ بیوی خاوند کا خیال رکھ رہی ہوگی۔ ماں باپ بچوں کی بہتری کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور ذرائع کا استعمال کررہے ہوں گے۔ بچے ماں باپ کی خدمت پر ہر وقت کمربستہ ہوں گے، ان کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کررہے ہوں۔ ان کی خدمت کی طرف توجہ دے رہے ہوں گے۔ ہمسایہ، ہمسائے کے حقوق ادا کررہا ہوگا، غریب امیر کے لئے اپنی صلاحیتیں استعمال کرے گا اور امیر غریب کی بہتری کے لئے خرچ کررہا ہوگا اور یہ سب اس لئے ہے کہ ہم مومن ہیں اور اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ یہ کرو اور اس طرح پر سب مل کر پھر جماعتی ترقی کے لئے اپنے مال اور صلاحیتوں کو خرچ کررہے ہوں گے اور پھر وہ معاشرہ نظر آئے گا جومومنین کا معاشرہ ہے۔
اللہ کے فضل سے جماعت میں مال خرچ کرنے کی طرف بہت توجہ رہتی ہے، جماعتی ضروریات کے لئے بھی احمدی بڑے کھلے دل سے قربانیاں کرتے ہیں، ہر وقت تیار رہتے ہیں اور ہر روز اس کی مثالیں دیکھنے میں آتی ہیں۔ جون کا مہینہ جو گزرا ہے، یہ مہینہ جماعت کے چندوں کا، جماعتی سال کا آخری مہینہ ہوتا ہے۔ ہر سال مختلف ممالک کی جماعتوں کو فکر ہوتی ہے کہ بجٹ پورا ہوجائے اور نہ صرف بجٹ پورا ہوجائے بلکہ گزشتہ سال کی نسبت قدم ترقی کی طرف بڑھے اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مومنین کی جماعت پر اس کا اظہار فرماتا ہے کہ ان کے قدم آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں۔ اس سال بھی اکثر ممالک کی جماعتوں نے اپنے بجٹ اور گزشتہ سال کی قربانیوں سے بہت بڑھ کر قربانیاں کی ہیں۔ کئی چھوٹے چھوٹے ملک بھی ہیں کہ اپنے بجٹ سے کئی کئی گنا زائد وصولی کی ہے۔ پاکستان میں بھی باوجود حالات خراب ہونے کے قربانیوں میں ترقی کی ہے، مثلاً کراچی کے حالات بہت خراب تھے، مئی کے شروع میں جب وہاں فساد ہوئے تو امیر صاحب کراچی کا بڑی پریشانی کا فون آیا۔پھر فیکس آئی کہ حالات ایسے ہیں اور سال کا آخر ہے چندوں میں کمی ہورہی ہے۔ خیر اللہ نے فضل فرمایا اور ہو گیا، لیکن عموماً جماعت کامزاج یہ ہے کہ سال کے آخری مہینے کے آخری دنوں میں اپنے چندوں کی ادائیگی پوری طرح کرتے ہیں۔ تو جون کے آخر میں پھرکراچی کے حالات موسم کے لحاظ سے بڑے خراب ہوگئے، اور کہتے ہیں کہ 30 ؍جون کو تو یہ حال تھا کہ شدید بارشیں،سڑکوں کے اوپر پانی، گھر سے کوئی باہر نہیں نکل سکتا تھا اور بڑی فکر تھی، بجٹ میں کافی کمی تھی لیکن شام تک کہتے ہیں، پتہ نہیں کیا معجزہ ہوا ہے کہ نہ صرف بجٹ پورا ہوگیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت بڑھ کر وصولی ہو گئی اور اس طرح کئی جگہوں پر ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں جب کوئی گھر سے باہر نہیں نکل سکتا تھا تو اللہ تعالیٰ کی یہ خاص تائید اور مدد تھی جس نے یہ ساری کمیاں پوری کردیں۔ یہ نظارے اللہ تعالیٰ اس لئے دکھاتا ہے کہ مسیح موعود کی یہ جماعت مومنین کی ایک سچی جماعت ہے اور ان باتوں کو دیکھ کر تم اپنے ایمانوں میں مزید مضبوطی پیدا کرو اور میرے احکامات پر عمل کرو تاکہ میرے فضلوں کو انفرادی طور پر بھی اور جماعتی طورپر بھی حاصل کرنے والے بنو اور بنتے چلے جاؤ۔
پھر جیسا کہ مَیں پہلے ذکر کرچکا ہوں۔ ایک مومن کے لئے آنحضرتﷺ پر جو تعلیم اتری ہے اسے ماننا ضروری ہے۔ آپؐ کو خاتم الابنیاء ماننا ضروری ہے۔اس یقین پر قائم ہوں اور یہ ایمان ہو کہ قرآن کریم آخری شرعی کتاب ہے اور اس کے تمام احکامات ہمارے لئے ہیں اور ہمیں اس پر ایمان لانا اور ماننا اور عمل کرنا ضروری ہے۔
پھر جس طرح قرآن کریم میں بتایا گیا ہے کہ آنحضرتﷺ سے پہلے جو انبیاء آئے تھے وہ بھی برحق تھے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے تھے، بعض کا ذکر قرآن کریم میں ہے اور بہت سوں کا نہیں ہے، ان سب پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اور یہ بھی ایک مومن کی خصوصیت ہے اور یہ صرف اسلام کی خصوصیت ہے کہ اس نے پہلے انبیاء کی صداقت پر بھی مہر لگا دی اور آنحضرتﷺ کو یہ مہر لگانے والا بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا کہ

اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا (البقرۃ:120)۔
وَاِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیْھَا نَذِیْرٌ (فاطر:25)

ہم نے تجھے حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ہو شیار کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور کوئی ایسی قوم نہیں جس میں ہوشیار کرنے والا نہ آیا ہو تو ہر قوم میں جو انبیاء آئے ان کی بھی اطلاع دے دی۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے ذریعہ سے یہ اعلان کروا دیا کہ تمام قوموں میں رسول آئے ہیں اس لئے جس قوم کا بھی یہ دعویٰ ہے کہ اس میں نبی آیا اور نبی کا نام لیتے ہیں ان کوماننا ضروری ہے۔ ایک مومن کو یہ حکم دیا کہ ان تمام رسولوں پر ایمان لانا بھی تمہارے مومن ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط ہے۔
اورپھر فرمایا کہ آخرت پر بھی یقین رکھو، یہ بھی ایمان کا ایک حصہ ہے۔ اب یہ آخرت کیا ہے؟ آخرت کے معانی سیاق و سباق کے ساتھ یہ ہوسکتے ہیں کہ آنحضرتﷺ کے بعد جو آپؐ کی غلامی میں آئے اس پر جو وحی نازل ہو اس پر بھی یقین رکھنا۔ جو مسیح موعود اور مہدی معہود آئے گا یقین رکھو کہ وہ آئے گا اور اس پر ایمان لے آنا، یہ بھی ایک مومن کے ایمان کا حصہ ہے۔ آخرت کو اخروی زندگی بھی کہا جاتا ہے، لیکن جو پہلے معانی ہیں اس سیاق و سباق کے لحاظ سے وہ زیادہ بہتر ہیں اور یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فہم قرآن اور اللہ تعالیٰ کی رہنمائی کا نتیجہ ہیں کہ یہ معانی ہم تک پہنچے ہیں اور ہم اس پر ایمان لائے ہیں۔ پس یہاں یہ بیان فرما کر کہ جس طرح تمہارے لئے پہلے انبیاء پر ایمان لانا ضروری ہے اور آنحضرتﷺ پر ایمان لانا ضروری ہے، اسی طرح تمہیں اس یقین پر بھی قائم رہنا ہوگا کہ آخرین میں جو آنحضرتﷺ کے غلام کی بعثت ہوگی اس پر بھی ایمان لانا ضروری ہے۔ جیسا کہ مَیں نے کہا تھا کہ یہ نکتہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں بتایا۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ’’آج میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ قرآن شریف کی وحی اور اس سے پہلی وحی پر ایمان لانے کا ذکر تو قرآن شریف میں موجود ہے، ہماری وحی پر ایمان لانے کا ذکر کیوں نہیں۔ اسی امر پر توجہ کررہا تھا کہ خداتعالیٰ کی طرف سے بطور القاء کے یکایک میرے دل میں یہ بات ڈالی گئی کہ آیۂ کریمہ

وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَآاُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَبِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْن (البقرۃ:5)

میں تینوں وحیوں کا ذکر ہے

بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ

سے قرآن شریف کی وحی اور

مَآاُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ

سے انبیاء سابقین کی وحی اور اٰخِرَۃ سے مراد مسیح موعود کی وحی ہے۔ اٰخِرَۃ کے معنی ہیں پیچھے آنے والی۔وہ پیچھے آنے والی چیز کیا ہے۔ سیاق کلام سے ظاہر ہے کہ یہاں پیچھے آنے والی چیز سے مراد وہ وحی ہے جو قرآن کریم کے بعد نازل ہوگی کیونکہ اس سے پہلے وحیوں کا ذکر ہے۔ ایک وہ جو آنحضرتﷺ پر نازل ہوئی۔ دوسری وہ جو آنحضرتﷺ سے قبل نازل ہوئی اور تیسری وہ جو آپؐ کے بعد آنے والی تھی‘‘۔ (تفسیر حضرت مسیح موعودعلیہ السلام سورۃ البقرۃ زیر آیت 5)
پس جیسا کہ مَیں نے گزشتہ خطبہ میں بتایا تھا کہ آنحضرتﷺ کی تصدیق ان مومنین کے لئے ہوگی جو پہلے انبیاء کی بھی تصدیق کریں گے اور آنحضرتﷺ پر ایمان لانے والے بھی ہوں گے اور بعد میں آنے والے کو بھی مانیں گے۔تو اس آیت نے اور وضاحت نے دلیل کو مزید مضبوط کردیا۔ پس ہر ایک احمدی جو حقیقی مومن ہے اور اس ایمان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بنا ہے اس کو اس پیغام کو ماننے کے بعد اپنے ایمان میں ترقی کرنے اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کو بجالانے کی طرف مزید کوشش کرنی چاہئے۔
پھر ایک مومن کی خصوصیت یہ ہے، جس کاقرآن کریم میں یوں ذکر آتا ہے کہ

وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْآاَشَدُّ حُبًّا لِلّٰہِ (البقرۃ:166)

یعنی اور جو لوگ مومنین ہیں وہ سب سے زیادہ اللہ ہی سے محبت کرتے ہیں۔ پس مومن ہونے کی یہ نشانی ہے کہ ایک سچے مومن کی زندگی صرف ایک ذات کے گرد گھومتی ہے اور گھومنی چاہئے کیونکہ اس کے بغیر ایک مومن،مومن کہلا ہی نہیں سکتا۔ ایک مومن کا غیب پر ایمان، نمازیں پڑھنا، قربانی کرنا، انبیاء پر ایمان، اس وقت کامل ہوگا جبکہ وہ اللہ تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے ان تمام احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کررہا ہوگا جو اللہ تعالیٰ نے دیئے ہیں۔
آنحضرت ﷺ نے اس شدید محبت کا کیسا اعلیٰ نمونہ ہمارے سامنے رکھا کہ کفار بھی یہ کہہ اٹھے کہ

عَشِقَ مُحَمَّدٌ رَبَّہٗ

کہ محمد تو اپنے ربّ پر عاشق ہو گیا۔ اور آپؐ نے ہمیں کیا خوبصورت دعا سکھائی ہے کہ اے اللہ مَیں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں اور اس کی محبت جو تجھ سے محبت کرتا ہے۔ مَیں تجھ سے ایسے عمل کی توفیق مانگتا ہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دے۔ اے اللہ اپنی اتنی محبت میرے دل میں ڈال دے جو میری اپنی ذات، میرے مال، میرے اہل اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ ہو۔ (صحیح الترمذی کتاب الدعوات)
پس ایک مومن کامعیار اور خصوصیت یہ ہے جس کو حاصل کرنے کی ایک مومن کو کوشش کرنی چاہئے۔ کوئی چیز بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر نہیں مل سکتی۔ اس لئے اس محبت کے حصول کے لئے بھی اسی کے آگے جھکنا اور اس سے دعائیں کرنا ضروری ہے۔
پھر مومن کی ایک خصوصیت یہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَاللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْھِمْ اٰیٰتُہٗ زَادَتْھُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ (الانفال:3)

یعنی مومن تو صرف وہی ہیں جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل ڈر جائیں اور جب ان کے سامنے اس کی آیات پڑھی جائیں تو وہ ان کے ایمان کوبڑھا دیں اور وہ جو اپنے ربّ پر توکل کرتے ہیں۔
صرف مومن ہونے کا دعویٰ ہی کافی نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے یہاں جن باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے، جن خصوصیات کی طرف ایک مومن کو توجہ دلائی ہے، وہ یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا خوف ان کے دل میں ہوتا ہے۔ وہ سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والے ہیں جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے، یہ خوف ہے کہ میرے محبوب کے حوالے سے میرے سامنے کوئی بات کی جائے اور میں اس پر توجہ نہ دوں، یہ کس طرح ہو سکتا ہے؟ احکامات پر عمل، ان نصائح پر عمل جو خداتعالیٰ کی طرف منسوب کرکے کی جائیں یا جو اللہ تعالیٰ نے بھیجی ہوں وہ اس لئے کرتا ہے کہ میرا محبوب کہیں مجھ سے ناراض نہ ہوجائے۔ پس اس حوالے سے ہر نصیحت جو ایک مومن کو کی جاتی ہے اس کو اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور ایک صحیح مومن اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ میرا خدا جو سب سے زیادہ پیار کرنے والا ہے میری نافرمانی سے کہیں مجھ سے ناراض نہ ہوجائے۔
اور دوسری بات (یہ ہے کہ) جو ایک مومن کے سامنے جب اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھی جاتی ہیں، جب ان نشانات کا ذکر کیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی وجہ سے ایک مومن پر ظاہر ہوتے ہیں تو یہ چیز اسے اس کے ایمان میں مزید ترقی کا موجب بنا دیتی ہے۔
اور تیسری اہم بات (یہ)ہے کہ ایمان کی زیادتی کے ساتھ مومن کا معیار توکل بڑھتا ہے۔ اس کا یقین اللہ تعالیٰ کے سلوک کی وجہ سے بڑھتا چلا جاتا ہے اور ایمان میں بڑھنے کے ساتھ اس کا توکل بھی بڑھتا چلا جاتا ہے، اس میں وہ ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔ وہ دنیاوی چیزوں پر گرنے کی بجائے اور انہی پر مکمل انحصار کرنے کی بجائے اپنی کوشش کرنے کے بعد جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اسباب کا استعمال بھی ہونا چاہئے اور محنت بھی ہونی چاہئے، پھر بہتر نتائج کے لئے اللہ تعالیٰ پر معاملہ چھوڑتا ہے۔ اونٹ کا گھٹنا باندھنے کے بعد اس رسّی پر توکل نہیں کرتا جس سے گھٹنا باندھا گیا ہے بلکہ اس مالک پر توکل کرتا ہے جس کے قبضۂ قدرت میں ہر چیز ہے، جو نگراں ہے، جو حفاظت کرنے والا ہے پس یہ توکل ہے جو ایک مومن کا طرہ امتیاز ہے اور ہونا چاہئے اور یہ اس کی خصوصیت ہے۔
پھر ایک مومن کی نشانی یہ بتائی کہ

اِنَّمَا کَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْآ اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ لِیَحْکُمَ بَیْنَھُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا۔ وَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(النور: 53)

مومنوں کا قول جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے محض یہ ہوتا ہے کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی اور یہی ہیں جو مراد پانے والے ہیں۔
اللہ اور رسول کی کامل اطاعت تبھی ہوگی جب ان تمام احکامات کی پیروی ہوگی جو اللہ اور رسول نے دیئے ہیں۔ صرف منہ سے کہہ دینا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی کافی نہیں۔ مثلاً اہم معاملات میں جو مسائل اور جھگڑے کھڑے ہوتے ہیں اُن میں بھی اللہ اور رسول کا حکم ہے کہ میرے امیرکی اور نظام کی اطاعت کرو۔اس کی پوری پابندی کرنا بھی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے کہ

فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا (النسآء : 66)

نہیں، تیرے ربّ کی قسم وہ کبھی ایمان نہیں لاسکتے جب تک وہ تجھے ان امور میں منصف نہ بنالیں جن میں ان کے درمیان جھگڑا ہوا ہے پھر تُوجو بھی فیصلہ کرے اس کے متعلق وہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور کامل فرمانبرداری اختیار کریں۔
یہ صرف آنحضرتﷺ کے بارے میں نہیں ہے گو پہلے مخاطب آپؐ ہی ہیں، اس کے بعد آپ کانظام ہے۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے امیر کی اطاعت اور نظام کی اطاعت کا بھی حکم دیا ہے۔ خلفاء اور نظام جماعت کی اطاعت بھی ہر ایک مومن پر جو بیعت میں شامل ہے، ماننے والا ہے، حقیقی مومن ہے، اس کی پابندی کرنا ضروری ہے۔ اور اطاعت اور فیصلوں کی پابندی صرف نہیں کرنی بلکہ خوشی سے ان کو ماننا ہے۔ سزا کے ڈر سے نہیں ماننا بلکہ اطاعت کے جذبے سے اور یہی چیز ہے جو مسلمانوں میں مضبوطی پیدا کرنے والی ہوگی۔
پس ہر احمدی کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ جھگڑوں کی صورت میں، (جو ذاتی جھگڑے ہوتے ہیں)، اپنے دماغ میں سوچے ہوئے فیصلوں کو اہمیت نہ دیا کریں بلکہ نظام کی طرف سے جو فیصلہ ہو جائے، قضا کی طرف سے ہوجائے جو کئی مرحلوں میں سے گزرنے کے بعد ہوتا ہے اسے اہمیت دیں۔ پھر بعض وقت خلیفۂ وقت کی طرف سے بھی انہی فیصلوں پر صاد ہوتا ہے۔ اس کے باوجود یہ زور ہوتا ہے کہ نہیں، فیصلہ غلط ہوا ہے۔ ٹھیک ہے، فیصلہ غلط ہوسکتاہے لیکن فیصلہ کرنے والے کی نیت پر شبہ نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس سے پھر فتنہ پیدا ہوتا ہے۔ اورپھر مسلسل اس کے خلاف باتیں کرنا اورپھر یہ کہنا کہ اب مجھے دنیاوی عدالتوں میں بھی جانے کی اجازت دی جائے تو یہ ایک مومن کی شان نہیں ہے۔ مومن وہی ہیں جو خوشی سے اس فیصلے کو تسلیم کرلیں۔ اگر کسی نے اپنی لفاظی کی وجہ سے یا دلائل کی وجہ سے اپنے حق میں فیصلہ کروالیا ہے یا غلط ریکارڈ کی وجہ سے فیصلہ کروالیا ہے اور دوسرا فریق اپنی کم علمی کی وجہ سے یا ریکارڈ میں کمی کی وجہ سے اپنے حق سے محروم بھی ہوگیا ہے تو پھر اللہ کے رسول ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ غلط فیصلہ کروانے والا آگ کا گولہ لیتا ہے یا اپنے پیٹ میں بھرتا ہے تو پھر وہ اس کا اور خدا کا معاملہ ہوگیا۔ مومنین کی شان یہ ہے کہ فتنے سے بچیں۔ نظام کے خلاف باتیں کرکے، بول کر اپنے حق سے محروم کئے جانے والا شخص اگر اپنے زُعم میں، اپنے خیال میں اپنے آپ کو صحیح بھی سمجھ رہا ہے تو اپنے آپ کواور اپنے گھر والوں کو بھی ایمان سے محروم کررہا ہوتا ہے۔ بعض دفعہ یہ چیز دیکھنے میں آتی ہے۔ پس مومن کی ایک بہت بڑی خصوصیت اطاعت ہے۔ امن قائم کرنے کے لئے تھوڑا سا نقصان بھی برداشت کرنا ہو تو کرلینا چاہئے اور اطاعت کو ہر چیز پر حاوی کرنا چاہئے اور اس کو ہر چیز پر مقدم سمجھنا چاہئے۔ اللہ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنا اور اس پر توکل کرنا ایسی چیز ہے جس پر اللہ تعالیٰ انعامات سے نوازتا ہے اورپھر ایسے ذرائع سے مدد فرماتا ہے کہ انسان سوچ بھی نہیں سکتا یہ بھی اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ ایک جگہ مومنین کی یہ خصوصیت بیان فرماتا ہے کہ

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِّرُوْا بِھَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّھِمْ وَھُمْ لَایَسْتَکْبِرُوْنَ(السجدۃ: 16)

یقینا ہماری آیات پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب اُن آیات کے ذریعہ سے انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ کرتے ہوئے گرجاتے ہیں اور اپنے ربّ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔
پس جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی آیات ایک مومن کو خوف میں بڑھاتی ہیں اور اس کے ایمان میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ پس خوف اور ایمان میں بڑھتے ہوئے اور اس دلی خواہش کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ کے قرب پانے والے بنیں، مومنین تسبیح کرتے ہیں، حمدکرتے ہیں، عبادتوں کی طرف توجہ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کے حوالے سے جو بات کی جائے توپھراطاعت کرتے ہیں اور اپنے آپ کو ایمان میں بڑھاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو ان خصوصیات کا حامل بنائے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں۔:’’مومن کی تعریف یہ ہے کہ خیرات و صدقہ وغیرہ جو خدا نے اس پر فرض ٹھہرایا ہے بجالاوے اور ہر ایک کارخیر کرنے میں اس کو ذاتی محبت ہو اور کسی تصنع و نمائش وریاء کو اس میں داخل نہ ہو۔ یہ حالت مومن کی اس کے سچے اخلاص اور تعلق کو ظاہر کرتی ہے اور ایک سچا اور مضبوط رشتہ اس کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ پیدا کردیتی ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ اس کی زبان ہوجاتاہے جس سے وہ بولتا ہے اور اس کے کان ہوجاتا ہے جس سے وہ سنتا ہے اور اس کے ہاتھ ہوجاتا ہے جس سے وہ کام کرتاہے۔ الغرض ہرایک فعل اس کا اور ہر حرکت اور سکون اس کا اللہ ہی کا ہوتاہے۔ اس وقت جو اس سے دشمنی کرتا ہے وہ خدا سے دشمنی کرتا ہے اور پھر فرماتا ہے کہ مَیں کسی بات میں اس قدر تردد نہیں کرتا جس قدر کہ اس کی موت میں۔ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ مومن اور غیرمومن میں ہمیشہ فرق رکھ دیا جاتا ہے۔ غلام کو چاہئے کہ ہر وقت رضائے الٰہی کو ماننے اور ہر ایک رضا کے سامنے سر تسلیم خم کرنے میں دریغ نہ کرے۔ کون ہے جو عبودیت سے انکار کرکے خدا کو اپنا محکوم بنانا چاہتا ہے‘‘۔
(ملفوظات جلد نمبر3صفحہ344-343۔جدید ایڈیشن)
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ اللہ تعالیٰ سے ایک سچا اور مضبوط رشتہ قائم کرتے ہوئے ان تمام خصوصیات کو اپنانے والے بنیں جو ایک سچے مومن کے لئے ضروری ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیں اپنی رضا کی راہوں پر چلائے اور ہمیں اپنے فضلوں کی چادر میں ہمیشہ لپیٹے رکھے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں