خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 11؍جولائی 2008ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
امریکہ اور کینیڈا کا سفر اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کی برکتیں سمیٹے ہوئے تھا۔ جلسہ کے علاوہ دوسرے پروگرامز بھی تھے۔ غیروں کو بھی مختلف رنگ میں اسلام کی خوبصورت تعلیم پہنچانے کی توفیق ملی۔ اس کا مثبت ردّعمل بھی ہوا۔
اللہ تعالیٰ نے اس سال خلافت احمدیہ کے سو سال پورے ہونے پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعویٰ اور جماعت کے تعارف کی دنیا میں ایسی ہوا چلائی ہے جو خداتعالیٰ کے خاص فضل سے ہی ہے۔
کیلگری مسجد کے افتتاح کے موقع پر تقریب میں کینیڈا کے وزیر اعظم کی شمولیت اور جماعت کے متعلق نیک خیالات کا اظہار۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر ملک کے دورے احمدیت اور اسلام کے حقیقی پیغام کو پہنچانے کا ذریعہ بنتے ہیں اوریہ اس خدا کے وعدے کی وجہ سے ہے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو فرمایا تھا کہ مَیں تجھے عزت کے ساتھ شہرت دوں گا۔ یہ الٰہی تقدیر ہے اس کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ بدقسمت مولوی جتنا چاہے زور لگالیں، ان کے مونہوں کی بک بک کے سوا اس کی کچھ بھی حیثیت نہیں جو وہ کہتے ہیں۔ احمدیوں کو عارضی تکلیفیں دے کر خوش ہو رہے ہیں لیکن نہیں جانتے کہ خداتعالیٰ کی تقدیر بھی ان کے خلاف چل چکی ہے اور یہ انشاء اللہ تعالیٰ اپنے بدانجام کوپہنچنے والے ہیں۔
وقت آتا ہے کہ یکدم یورپ اور امریکہ کے لوگوں کو اسلام کی طرف توجہ ہوگی
(سلسلہ کے پرانے واقف زندگی، مبلغ سلسلہ مولانا نورالدین صاحب منیر کی وفات پر ان کا ذکرخیر اور نمازجنازہ غائب)
خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
فرمودہ مورخہ 11؍جولائی 2008ء بمطابق11؍وفا 1387 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لند ن (برطانیہ)

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

جیسا کہ احباب جماعت کے علم میں ہے، گزشتہ دنوں مَیں امریکہ اور کینیڈا کے جلسوں میں شمولیت کے لئے وہاں سفر پہ گیا ہوا تھا۔ جلسے کے علاوہ دوسرے پروگرامز بھی تھے، غیروں کو بھی مختلف رنگ میں اسلام کی خوبصورت تعلیم پہنچانے کی توفیق ملی۔ اس کا مثبت ردّ عمل بھی اس طبقے کی طرف سے ہوا جنہوں نے یہ باتیں سنیں، یا جن کو کسی بھی رنگ میں جماعت سے تعارف حاصل ہوا۔ اسلام کے متعلق ان کے دل میں جو شبہات اور شکوک تھے وہ دُور ہوئے۔ بہرحال مجموعی طور پر یہ سفر اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کی برکتیں سمیٹے ہوئے تھا۔ اللہ تعالیٰ اپنوں اور غیروں میں اس کے جاری اور دور رس نتائج پیدا فرمائے۔ یہ تمام باتیں یا اثرات جو اپنوں میں بھی اور غیروں میں بھی ہمیں سننے اور مشاہدہ کرنے کو ملے، یہ نہ تو صرف جماعت کی انتظامیہ کی اعلیٰ پلاننگ یا تعلقات کا نتیجہ تھے۔ نہ ہی مَیں یہ کہہ سکتا ہوں کہ مَیں نے جس طرح غیروں میں مضامین بیان کئے انہوں نے ان کی توجہ اپنی طرف کھینچی اور اسلام کے بارے میں ان کے شکوک دور ہوئے یا اس کا انہوں نے اظہار کیا۔ یقینا قرآن اور حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا علم کلام دلوں پر اثر کرتا ہے۔ لیکن اگر خداتعالیٰ کی مرضی اور منشاء نہ ہو تو یہی خدا کا کلام اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق ان کو جو بغض اور عناد اور دشمنی پر تلے ہوئے ہوں، خسارے کے علاوہ کسی چیز میں نہیں بڑھاتا۔ پس دلوں کا کھولنا، ان میں اثر پیدا کرنا، یہ بھی خداتعالیٰ کا کام ہے۔ اور جب وہ چاہے ایسا ماحول اور حالات پیدا کرتا ہے کہ ایک بات اثر کرتی ہے۔ پس اس زمانہ میں خداتعالیٰ نے چاہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ اسلام کا پیغام دنیا تک پہنچے اور پھر ان لوگوں میں سے جو نیک فطرت ہیں وہ اسے قبول کریں اور پھر درجہ بدرجہ ہر ایک اس کا اثر اپنے دل پر محسوس کرے۔ اور کم از کم جن کو اسلام کی خوبصورت تعلیم پہنچتی ہے اگر کچھ نہ کچھ ان میں نیکی ہے تویہ ردّ عمل ان سے ضرور ہوتا ہے کہ وہ اسلام کی دشمنی سے باز آجاتے ہیں کیونکہ اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے اس لئے مبعوث فرمایا ہے تا اسلام کا خوبصورت چہرہ لوگوں کو دکھائیں۔
اور اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی ہیں جو اسلام کاحقیقی چہرہ دکھا سکتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اب یہ مقدر کر دیا ہے کہ اسلام کا حسن آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کے ذریعہ سے دنیا پر ظاہر ہو۔ آپ کو یہ الہام ہوتا ہے کہ’’آسمانی تائیدیں ہمارے ساتھ ہیں ‘‘۔ پس جب آسمانی تائیدیں ساتھ ہوں تو نیک نتائج بھی نکلا کرتے ہیں۔ آج اگر اسلام کی تعلیم کا لوگوں پر اثر ہوتا ہے، آج اگر یہ برملا اظہار کیا جاتا ہے کہ یہ تو بالکل نئی باتیں ہیں جو آج ہمیں اسلام کے بارے میں پتہ لگ رہی ہیں تو یہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ آسمانی تائیدات کے ساتھ ہونے کا وعدہ پورا فرما رہا ہے، دلوں اور سینوں کو کھول رہا ہے۔
پس یہ نظارے جو ہم نے دورہ کے دوران دیکھے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نام ہم نے دیکھا کہ عزت سے لیا جا رہا ہے، آپؑ کی جماعت کے بارہ میں عمدہ تاثرات کا اظہار کیا جا رہا ہے، اسلام کی حقیقی تعلیم کے بارے میں بغیر کسی تبصرے کے انہی الفاظ میں بیان کیا جا رہا ہے جو ان لوگوں کو بتایا گیا تو یہ اللہ تعالیٰ کی خاص تائیدہے ورنہ ان ملکوں کے لوگ تو بڑے آزاد خیال اوردلوں میں بڑائی رکھنے والے لوگ ہیں۔ باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے والے ہیں۔ اسلام کے خلاف تو ہر بات کو ہوا دی جاتی ہے لیکن حق میں اگرکوئی بات کرنی ہو تو کم ہی ہے کہ انصاف سے کام لیا جائے۔ پس بغیر کسی خاص کوشش کے اور خرچ کئے بغیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پیغام کو جب دنیا میں سنا جاتا ہے، آپ کا نام عزت و احترام سے لیا جاتا ہے، آپؑ کے خلفاء کے ساتھ بھی غیر لوگ عزت سے پیش آتے ہیں، آپؑ کی جماعت کی تعریف ہر و ہ شخص جو تعصب سے پاک ہے کرتا ہے تو یہی تائیدی نشانات ہیں۔ ان کامشاہدہ مَیں نے اپنے اس دورے کے دوران بھی کیا جو امریکہ اور کینیڈا کا تھا۔ بلکہ ان ملکوں کے رہنے والے احمدیوں نے بھی کیا۔ کیونکہ ہر احمدی نے خاص طور پر وہ جو کسی نہ کسی رنگ میں جو بعض فنکشنز ہوئے ان کے انتظامات میں شامل تھے یا اپنے قریبی دوستوں کو اور واقف کاروں کو دعوت دینے والے تھے، فنکشن میں لانے والے تھے، انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ ہماری توقع سے بڑھ کر، ہماری دعوت پر باتیں سننے کے لئے لوگوں کی توجہ پیدا ہوئی ہے۔ اخبارات اور دوسرے میڈیا نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور اسلام کے حقیقی پیغام کو کوریج دی اور لوگوں تک پہنچایا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے فرمایا تھا کہ مَیں تجھے عزت کے ساتھ شہرت دوں گا اور پھر اللہ تعالیٰ کا جو وعدہ آپ کے ساتھ ہے کہ مَیں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔ یہ بھی ہم دنیا کے ہر ملک اور براعظم میں پورا ہوتے دیکھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس سال خلافت احمدیہ کے سو سال پورے ہونے پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعویٰ اور جماعت کے تعارف کی دنیا میں ایسی ہوا چلائی ہے جو خداتعالیٰ کے خاص فضل سے ہی ہے۔ اس کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو آپ کا پیغام پہنچا رہا ہے، ورنہ ہم تو جیسا کہ مَیں نے کہا کوشش بھی کرتے تو اس طرح جماعت کا تعارف اور آپؑ کی آمد کا اعلان نہ کر سکتے اور پھر خاص طور پر ان ملکوں میں جہاں اسلام کو ویسے بھی بڑی تنقید کی نظر سے دیکھا جا تا ہے۔
امریکہ میں اس کے پوراہونے کا مشاہدہ ہم نے اس طرح کیا اور یقینا ہر غور کرنے والے دل نے اس بات کو محسوس کیا، پنسلوانیا کے شہر اور دارالحکومت ہیرسبرگ (Harrisburg) جہاں ہمارا جلسہ سالانہ ہوا، اس سال جیسا کہ مَیں نے کہا کہ خلافت جوبلی کے حوالے سے کچھ شہرت بھی جلسے کو ملی۔ بلکہ یہ کہنا چاہئے جیسا کہ مَیں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ ہوا چلائی کہ اس حوالے سے جماعت کا تعارف ہو۔ تو بہرحال یہاں کی سٹیٹ اسمبلی نے کھلے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بعض ممبران کے کہنے پر جماعت کو اس شہرمیں جلسے کے حوالے سے خوش آمدید کہنے اور خلافت کے سو سال پورے ہونے پر مبارک دینے کے لئے ریزولیوشن پاس کرنے کا فیصلہ کیا لیکن وہاں اسمبلی کے ایک ممبر نے اس پہ اعتراض اٹھایا کہ یہ نہیں ہو سکتا۔ کوئی کٹّرعیسائی تھا، ویسے بھی امریکہ میں یہاں کی نسبت عیسائیت کے معاملے میں کافی بڑی تعداد میں سختی اور کٹر پن ہے۔ بہرحال اس نے ریزولیوشن کی مخالفت کی۔ یہاں یہ واضح کر دوں کہ ہماری طرف سے اس بارہ میں کوشش نہیں کی گئی تھی کہ ہمارے سو سالہ فنکشن کے موقع پر ہو اور خلیفہ وقت آرہا ہے اس لئے یہ ہونا چاہئے۔ ان لوگوں میں سے چند کو خود ہی خیال آیا اور توجہ پیدا ہوئی اور انہوں نے اسمبلی میں پیش کیا۔ تو مَیں کہہ رہا تھا کہ ایک ممبر نے مخالفت کی اور اس دلیل کے ساتھ مخالفت کی کہ کیونکہ یہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا نہیں مانتے اس لئے کوئی جواز نہیں کہ ان کو خوش آمدید کہا جائے۔ اس سے یہ کہلوانا بھی اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے تھا کیونکہ اگر یہ خاموشی سے ہو جاتا تو یا اسمبلی کو پتہ ہوتا یا ہمارے پاس ایک کاغذ کا ٹکڑا آجاتا یا ہلکی سی ایک اخبار میں خبر لگ جاتی۔ اخلاقاً تو ہم ان کے ممنون ہوتے کہ انہوں نے ہماری پذیرائی کی اور یہ اخلاق دکھانا اور شکریہ ادا کرنا بھی ہمارا فرض ہے اور اسلام کا حکم ہے لیکن جیسا کہ مَیں نے کہا کہ یہ مخالفت بھی خداتعالیٰ کی تقدیر تھی کیونکہ اس ممبر اسمبلی کے اس سوال کو اخباروں اور میڈیا نے خوب اچھالا اور آج کل تو انٹرنیٹ پر ہر قسم کی ویسے بھی خبر آتی ہے اور اس پر بحث شروع ہو جاتی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں میں سے بے شمار لوگوں کو اس بات کے خلاف کھڑا کر دیا۔ ایک بحث شروع ہو گئی کہ ایک طرف تو ہم سیکولر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور دوسری طرف اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔ یہودیوں نے بھی سوال اٹھا دیا کہ ہم بھی عیسیٰ کو خدا نہیں مانتے بلکہ یہ لوگ تو مخالفت میں بھی بہت زیادہ بڑھے ہوئے ہیں۔ پتہ نہیں حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں کیا کچھ کہہ جاتے ہیں۔ سیاسی مقاصد کے لئے بے شک یہ لوگ آج کل چپ ہوں لیکن دل تو ان کے خلاف ہیں۔ جبکہ ہم احمدی حضرت عیسیٰؑ کو قابل احترام نبی مانتے ہیں۔ بہرحال ان یہودیوں نے بھی سوال اٹھایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا بھی امریکہ میں رہنے اور آزادی کا حق سلب کرنے کی آئندہ کوششیں ہوں گی۔
اس بات پر خیال آیا کہ یہودیوں نے جو ہمارے حق میں بیان دیا ہے تو شایدمولوی یہ شور مچائے کہ دیکھو کہ ہم پہلے ہی کہتے تھے کہ قادیانی اور یہودی ایک ہیں۔ لیکن وہ اس بات کو بھول جائیں گے کہ ہماری مخالفت اگر ہے تو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے ایک عاجز بندے کو ہم خدا نہیں مانتے۔ تو بہرحال یہ ان مخالفین کا کام ہے، مولوی کا کام ہے کئے جائیں یہی ان سے توقع ہے۔
اس ممبر اسمبلی نے ہمارے خلاف آواز اٹھائی توخود عیسائیوں اور دوسرے مذاہب اور ہر طبقے میں اس نے ایک ایسی فضا پیدا کر دی جو ہمارے حق میں تھی اور جیسا کہ مَیں نے کہا ویب سائٹس اور اخباروں میں بحث شروع ہو گئی۔ اور اس وجہ سے پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اور جماعت کا تعارف بھی خوب ہوا۔ اس کی وجہ سے اخبارو ں نے جلسے اور خلافت جوبلی کے حوالے سے ہماری خوب خبریں شائع کیں۔ لیکن جو تعارف اور مشہوری اس مخالفت کی وجہ سے ہوئی، جیسا کہ مَیں نے کہا اگر وہ خاموشی سے ہو جاتا تو اس طرح نہ ہوتی۔ تو یہ ہیں اللہ تعالیٰ کے طریقے جماعت کے تعارف کے کہ مخالف کی جوکوششیں ہمیں نیچا دکھانے کے لئے ہوتی ہیں وہی ہماری شہرت اور تعارف کا باعث بن جاتی ہیں۔ آج پاکستان اور انڈونیشیا یا بنگلہ دیش یا ہندوستان کے بعض مسلم اکثریت کے علاقوں میں خاص طور پر حیدر آباد دکن میں جماعت کی مخالفت زوروں پر ہے۔ اس سے ان ملکوں میں بھی اور دنیا میں بھی جماعت کا تعارف مزید بڑھ رہا ہے۔ بعض ہندوؤں کو، انتظامیہ کو اور دوسرے لوگوں کوہندوستان میں جماعت کا تعارف نہیں تھا۔ ان کو وہاں مخالفت سے مزید تعارف پیدا ہوا ہے۔
اب یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے کہ مخالف یا دشمن جو حربہ بھی استعمال کرے گا خداتعالیٰ اسی میں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پیغام کو دنیا میں مزیدپھیلانے اور آپ کی عزت کے سامان پیدا کر دے گا اور کر دیتا ہے۔ افراد جماعت کو بعض دفعہ جذبات کی یا مال کی یا کبھی جان کی بھی قربانی دینی پڑتی ہے لیکن یہ قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔ ان قربانی کرنے والوں کی ذات بھی اور ان کے خاندان بھی اللہ تعالیٰ کے انعاموں اور فضلوں کے وارث بنتے ہیں اور جماعتی طور پر بھی اللہ تعالیٰ اپنے فضلو ں کے سامان پیدا فرما دیتا ہے۔ اس حوالے سے مزید جماعت کا تعارف ہوتا ہے۔ تو جیسا کہ مَیں نے کہا اخبارات نے اس حوالے سے جماعت کا خوب تعارف کروایا اور ہمارے امریکہ کے جلسہ کی اخباروں اور دوسرے میڈیا نے خبریں دیں۔ انٹرویو لینے کے لئے نمائندے بھی آئے، جلسوں میں شامل بھی ہوتے رہے، میرے ساتھ علیحدہ وقت لے کر بھی ایک نمائندے نے انٹرویو کیا، سوال کئے، پھر انہیں شائع بھی کیا۔ یہ ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ جو بھی صورتحال ہو اللہ تعالیٰ نے ایسی ہوا چلائی تھی کہ جو کچھ کہا انہوں نے بغیر کسی کانٹ چھانٹ کے اس کو شائع بھی کیا۔ بعض باتیں ان کے مذہب اور عقیدے کے خلاف بھی تھیں۔ پنسلوانیا کے ایک اخبار Journal Lancaster Intelligence کے نمائندہ نے میرے سے جو انٹرویو لیا تھا اور اس کو شائع بھی کیا۔ 19کو لیا تھا 20کو شائع کیا اور تقریر بھی دی۔ اس میں یہ لکھا کہ اسلام کا خلیفہ اختتام ہفتہ کے روز دنیااور خاص طورپرHarrisburgکے لوگوں کے لئے ایک پیغام لا رہے ہیں۔
ہرجگہ جو امریکہ میں اخباروں نے دیا وہ اسلام کا خلیفہ لکھا۔ اس سے بعض مسلمانوں کو اور خاص طورپر مولویوں کو اور زیادہ تکلیف ہوگی۔
یہ لکھتاہے کہ مرزا مسرور احمد نے اپنے پیغام میں کہا کہ تم اپنے خالق کو پہچان سکتے ہو جب تم اس کی مخلوق سے محبت کرو۔ یہ پیغام امریکیوں کے لئے ہی نہیں۔ یہ پیغام تمام دنیا کے لئے ہے جو مسیح موعود لائے ہیں۔ یہ اس نے خلاصہ بیان کر دیا جومَیں نے کہا تھا کہ اپنے خدا کو بھی پہچانو۔ یہی دو مقاصد ہیں کہ اپنے خدا کو پہچانو اور اس کی مخلوق کے حقوق ادا کرو۔
پھر یہ لکھتا ہے کہ اگر ہر کوئی اس پیغام کو یاد رکھے اور اس پر عمل کرے تو دنیا میں دشمنی باقی نہ رہے گی۔ لوگوں کے دل کینے سے پاک ہو جائیں گے۔ دنیا میں امن قائم کرنے کا یہی ایک طریقہ ہے۔ دنیا میں ایٹم بموں کی ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ کی ہر مہیا کردہ چیز کو لوگوں کی بہتری کے لئے استعمال میں لایا جائے۔
پھریہ میرے حوالے سے لکھتا ہے کہ اس نے کہا کہ امریکہ آنے کا مقصد لوگوں سے ملنا اور ہر اس شخص سے ملنا ہے جو انہیں ملنا چاہے۔ احمد نے کہا کہ ان کا پیغام صرف یہی نہیں کہ تمام مسلمان فرقے متحد ہو جائیں بلکہ وہ کہتے ہیں کہ تمام مذاہب کے لوگ آگے آئیں اور ہاتھ میں ہاتھ دیں اوروہ شخص جس کے وہ منتظر ہیں یعنی مسیح کے، وہ مسیح آچکا ہے۔ امریکہ میں خاص طور پر اس کا بڑا انتظار کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ مَیں نے کہا کہ امریکہ میں ایک بڑا حصہ مذہب سے دلچسپی رکھتا ہے اور عیسیٰ کی آمد ثانی کے منتظر ہیں۔ تو ان کے اخبار کا یہ لکھنا کہ جس مسیح کے تم منتظر ہو وہ آگیا ہے، بہرحال کچھ نہ کچھ لوگوں کو متوجہ کرے گا اور یہ سب انتظامات خداتعالیٰ کے ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے پیغام کو پھیلانے کے لئے اللہ تعالیٰ مزید انتظامات فرمائے گا اور فرماتا رہا ہے۔
اسی طرح دوسرے اخبارات نے جلسے اور دورے کی بھی خبریں شائع کیں۔ 22 اخبارات نے وہاں اس کو کوریج دی۔ 2 ریڈیو سٹیشنز نے اچھی خبریں دیں۔ 3ٹی وی سٹیشنز نے خبریں نشر کیں۔ انٹرنیٹ پر 15مختلف سائٹس پر خبریں آئیں۔ تو جیسا کہ مَیں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام فرمایا کہ جماعت تو اپنے وسائل کے لحاظ سے کبھی بھی اس طرح وسیع پیمانے پر یہ نہ کر سکتی۔ ہر دیکھنے والی آنکھ دیکھتی ہے اور ہر پاک دل یہ محسوس کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی تائیدات فرما رہا ہے۔
امریکہ میں ایک ہوٹل میں ایک ریسیپشن (Reception) بھی تھی۔ اچھے پڑھے لکھے لوگ مختلف طبقوں کے وہاں آئے ہوئے تھے۔ وہاں مَیں نے قرآن کریم، آنحضرت ﷺ کے اقوال اور احادیث اور اسوہ رسول ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم کی رو سے جہاد کی حقیقت کے بارے میں بیان کیا۔ اسی طرح حضرت مسیح موعودؑ کے اپنے حوالے سے بھی یہ پیغام دیا کہ آپؑ نے فرمایاکہ مَیں عیسیٰ ابن مریم ہوں۔ مَیں نے انہیں کہا کہ عیسیٰ ابن مریم، حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کی شخصیت میں آچکے ہیں اور یہ بھی کہاکہ امریکہ ایک بڑی طاقت ہے اور اس حیثیت سے یہ کوشش کرے کہ انصاف قائم ہو تاکہ دنیا میں امن قائم ہو سکے اور انصاف ہو گا تو حق ادا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان سب لوگوں پر اس کا بڑا اچھا اثرہوا۔ مختلف لوگوں نے میرے پاس آکر اس بات کا اظہار کیا کہ آج ہمیں نئی باتیں پتہ چلی ہیں۔
اصل میں تو کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کے اسوہ کا حقیقی رخ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں دکھایا ہے۔ جس کو آج کل کے مُلّاں غلط رنگ دے کر اسلام کی بدنامی کا باعث بنا رہے ہیں۔
جماعت امریکہ کا جلسہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت کامیاب ہوا۔ جماعتی روایات کے مطابق وہاں بھی تمام شعبہ جات کام کرتے ہیں لیکن اس دفعہ انہوں نے وہاں جگہ لی تھی۔ ایک بڑا علاقہ ہے جس میں مختلف فنکشنز اور Exhibitions ہوتے ہیں۔ اس میں بڑے بڑے ہال ہیں۔ اس لحاظ سے یہ سہولت رہی کہ جلسہ گاہ، کھانا پکانے کی جگہ، کھانا کھانے کے ہال اور دوسرے شعبہ جات، نمائش وغیرہ ایک ہی چھت کے نیچے آگئی۔ اور ان کی نمائش جو خاص طورپر خلافت کے موضوع پر تھی، اس لحاظ سے بھی مجھے اچھی لگی کہ اس میں انفرادیت تھی۔ حضرت آدمعلیہ السلامسے لے کر حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی خلافت کے تمام دوروں کی تاریخ اس میں انہوں نے بیان کی۔
امریکہ میں یہ میرا پہلا دورہ تھا اور تقریباً دس سال کے بعد خلیفہ وقت کا دورہ تھا۔ ایک نئی نسل جوان ہو کر جماعت کے کاموں میں شامل ہو گئی ہے۔ شعور نہ رکھنے والے بچے جو کچھ سال پہلے، 10سال پہلے، بہت چھوٹے تھے۔ وہ جوانی کی عمر میں داخل ہو رہے ہیں۔ پھر مغربی ماحول کا بھی اپنا ایک اثر ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں جماعت کے ساتھ اخلاص و وفا کا تعلق ہے۔ خلافت کے ساتھ گہری وابستگی ہے۔ جلسہ کے کاموں میں اور ڈیوٹیوں میں بڑی تندہی سے سب نے کام کیا۔ یہ سب باتیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی طرف توجہ پھیرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کیسے کیسے پیارے لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو عطا فرمائے ہیں۔
امریکہ میں ایک خاصی تعداد افریقن امریکن احمدیوں کی ہے۔ اسی طرح کچھ سفید امریکن بھی ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے کاموں میں، ڈیوٹیوں میں ہر ایک بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والا تھا۔ اور خلافت کے لئے محبت، ان مقامی احمدیوں کے دلوں سے بھی پھوٹی پڑتی تھی۔ ان کی آنکھوں میں ایک پیار اور احترام خلافت کے لئے نظر آتا تھا۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو اخلاص ووفا میں بڑھائے۔
امریکہ کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے کینیڈا کا جلسہ تھا۔ کینیڈا میں جماعت کی تعداد کے لحاظ سے جلسہ بھرپور ہوتا ہے۔ مَیں پہلے بھی دو دفعہ جلسہ پر وہاں جا چکا ہوں۔ اُس وقت امریکہ کے لوگ بھی وہاں آجاتے تھے۔ اس دفعہ کیونکہ امریکہ سے مَیں ہوکر گیا تھا اس لئے جو تین چار ہزار کی تعداد عموماً امریکہ سے کینیڈا کے جلسے کے لئے آتی تھی وہ نہیں آئی۔ پھر کیلگری میں مسجد کے افتتاح پر جانا تھا وہاں سے یا اس کے قریب کے علاقوں سے بھی کم لوگ آئے۔ اس علاقہ میں بھی تقریباً تین چار ہزار کی تعداد تھی۔ وہاں فاصلے زیادہ ہیں۔ کینیڈا بہت وسیع ملک ہے۔ ایک ہی ملک میں رہتے ہوئے وقت میں بھی دو گھنٹے کافرق پڑ جاتا ہے۔ جہاز کا سفر بھی ٹورانٹو سے کیلگری تک چارگھنٹے کا ہے۔ بہرحال کینیڈا کے جلسے کی حاضری، جیسا کہ مَیں نے بتایا تھا کہ ان حالات کے باوجود 15 ہزار تھی۔ اور کینیڈا کا جلسہ تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے پہلے بھی (کئی دفعہ بتا چکاہوں) بڑے آرگنائزڈ طریقے سے ہوتا ہے۔ ایک تو وہاں اکثریت پاکستانیوں کی ہے جو پاکستان میں ڈیوٹیاں دے کر تجربہ کار ہو چکے ہیں۔ دوسرے وہاں بھی امریکہ کی طرح ایک چھت کے نیچے تقریباً تمام انتظامات ہوتے ہیں۔ سوائے کھانا پکانے کے جو پک کر جلسہ گاہ میں چلا جاتا ہے۔ بہرحال پکے انتظامات کی وجہ سے بہت سہولت رہتی ہے۔ لیکن آپ لوگ یہاں بیٹھ کے پریشان نہ ہوں۔ یہ بتا دوں کہ جو محنت کرکے اورعارضی انتظامات سے یو کے جلسے کی رونق ہے، اس کا ایک اپنا ہی مزا ہے۔ چاہے مہمانوں اور میزبانوں دونوں کی حالت بارش میں اور کیچڑ کی وجہ سے خراب ہی ہو رہی ہو لیکن ایک مزا آرہا ہوتا ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ یہاں بھی وقت آئے گا، ہمارے اپنے انتظامات پکے ہو جائیں گے۔
بہرحال کینیڈا کا جلسہ بڑا کامیاب رہا اور اس جلسہ کی وہاں کی پانچ بڑے اخباروں نے بڑے وسیع پیمانے پر کوریج دی۔ ان کے پڑھنے والوں کی تعداد ڈھائی ملین ہے۔ اس کے علاوہ چھوٹے اخبار ہیں۔ ریڈیوسٹیشن نے کوریج دی۔ چھ ٹی وی سٹیشنوں نے کوریج دی اور انٹرنیٹ کی سائٹس پر بھی خبریں آتی رہیں۔ بہرحال یہ جلسہ خاص طور پر جب جلسہ خلیفہ وقت کی موجودگی میں ہوتا ہے تو جماعتی تعارف اور احمدیت کے پیغام پہنچانے کا زیادہ ذریعہ بنتا ہے۔ اور اس سال تو اللہ تعالیٰ نے خاص ہوا چلائی، امریکہ میں بھی اور کینیڈا میں بھی۔ احمدیوں کو جو ان ملکوں میں رہتے ہیں، خود بھی حیرت تھی (جیسا کہ مَیں پہلے بھی کہہ چکا ہوں) کہ ان کی توقعات سے بڑھ کر جماعت کا تعارف دنیا تک پہنچا ہے۔
کینیڈا میں اس دفعہ خلافت جوبلی کے حوالے سے ایک زائد پروگرام کینیڈا کی جماعت نے یہ بھی رکھا تھا جس میں ایک ریسیپشن (Reception) دعوت تھی، جس میں اسمبلیوں کے نمائندے، سرکاری افسران اور دوسرے پڑھے لکھے اور مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے۔ اس میں بھی مَیں نے قرآن اورآنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حوالے سے اسلام کی امن پسند اور خوبصورت تعلیم کا ذکر کیا اور اسلام کے بارے میں ان کے دلوں کے شکوک دور کرنے کی کوشش کی۔ انہیں یہ بھی بتایا کہ ایک واحد ویگانہ خدا کو پہچانو کہ اس میں دنیا کی بقا ہے اور یہ حقیقی خدا ہے جو اسلام پیش کرتا ہے۔ اس تقریب میں تقریباً ساڑھے پانچ سو کی تعداد میں مہمان شامل تھے۔ اونٹاریو صوبہ کے وزیراعلیٰ بھی اس میں شامل تھے۔ کئی مرکزی اور صوبائی وزیر بھی تھے۔ اسمبلیوں کے ممبر تھے۔ وزیراعظم کے خصوصی نمائندہ تھے۔ تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اچھا اثر ہوا۔ کئی عیسائی پادریوں نے اور یونیورسٹی کے پروفیسروں اور دوسرے لوگوں نے انفرادی طور پر مل کر اظہار بھی کیا کہ آج اسلام کے بارے میں ہمیں نئی باتیں پتہ چلی ہیں۔
اسی طرح کیلگری مسجد کا افتتاح جو جمعہ کوہوا تھا اس کے اگلے ر وز ہفتہ کو ایک دعوت کا اہتمام غیروں کے لئے تھا۔ اس میں بھی مسجد کے حوالے سے اسلام کا تعارف کروانے اور پیغام پہنچانے کی توفیق ملی۔ بڑے غور سے لوگوں نے سب باتوں کو سنا، بڑی توجہ سے سن رہے تھے۔
یہ مسجد بھی جیسا کہ مَیں گزشتہ خطبہ میں بتا چکا ہوں، بڑی خوبصورت مسجد ہے۔ جب مَیں نے اس کی بنیاد رکھی تھی، اس دن بارش بھی شدید تھی اور سڑکیں بھی ایسی تھیں، علاقہ بڑا عجیب لگ رہا تھا اور مَیں اس وقت یہ سوچ رہا تھا کہ یہاں مسجد تو بنا رہے ہیں لیکن بظاہر لگتا ہے کہ مسجد کی شایان شان جگہ نہیں ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام فرمایا کہ ان تین سالوں میں اس کے قریب ہائی وے بن گئی۔ سڑکیں بڑی خوبصورت بن گئیں۔ اس علاقہ کی سڑکیں بھی بہت اچھی ہو گئیں اور بہت سی نئی ڈویلپمنٹ ہوئی۔ مسجد کے سامنے ایک خوبصورت پارک بھی بن گیا اس کا بہت بڑا حصہ کونسل نے جماعت کو ہی Maintenance کے لئے دے دیا ہے۔ پھر گزشتہ سال وہاں ریلوے سٹیشن بھی بن گیا جو مسجد سے صرف10منٹ کے پیدل فاصلے پر ہے اور شہر کی ہر جگہ سے ٹرین وہاں آتی ہے اس لئے وہاں تک پہنچنا بھی آسان ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی بڑی تعداد دس پندرہ منٹ کی ڈرائیو(Drive) پر اس کے قریب رہتی ہے۔ مسجد کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے تمام سہولتوں کے سامان بھی مہیا فرما دئیے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ایک خاص فضل ہے۔ ائرپورٹ بھی وہاں سے 20منٹ کے فاصلے پر ہے۔ اس مسجد نے علاقہ میں بھی اور پورے ملک بلکہ دنیا کی بھی توجہ اپنی طرف کھینچی ہے۔ جیسا کہ مَیں نے کہا کہ ہفتہ کو وہاں مہمان مدعو تھے۔ اس میں ملک کے وزیراعظم باوجود اپنی تمام مصروفیات کے ہمارے پروگرام میں شامل ہونے کے لئے آئے۔ اس دن انہوں نے بیرون ملک سفر پر جانا تھا اور وہیں سے سیدھا سفر پر روانہ ہوگئے۔ انہوں نے مسجد دیکھی۔ وہاں فنکشن میں تقریر کی۔ جماعت کے متعلق نیک خیالات کا اظہار کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کو بھی جزا دے۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ تقریب بھی جماعت کے تعارف اور تبلیغ کا ذریعہ بنی۔ یہاں بھی بعض پادریوں نے میری تقریر’’اسلام کی تعلیم عبادت گاہوں کے حوالے سے‘‘ پر بڑی حیرت کا اظہار کیا۔ ایک احمدی نے مجھے بتایا کہ ایک عیسائی جو اس تقریب میں موجود تھے، میری تقریر کے بعد رو پڑے کہ اصل میں تو یہ تعلیم ہے جو فطرت کے مطابق ہے۔ اسلام کی تعلیم تو ہر معاملے میں بڑی جامع ہے اگر اس کو صحیح طور پر اگلے کو پہنچایا جائے۔ اگر انسان نیک فطرت ہو تو اس کے لئے کوئی راہ فرار نہیں بجز اس کے تسلیم کرنے کے۔
ایک افغانی دوست جو عرصہ سے جماعت سے تعارف میں تھے۔ اس تقریب کے بعد مجھے ملے اور ان کا رو رو کے بُرا حال تھا۔ بعد میں ان کے احمدی دوست نے بتایا جن کے ذریعہ سے وہ ملنے کے لئے آئے تھے کہ وہ کہتے ہیں کہ آج میرے لئے اب اور کوئی روک نہیں چاہئے، اس لئے آج ہی مَیں بیعت کرتا ہوں۔ اس طرح اور بیعتیں بھی ہوئیں۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر ملک کے دورے احمدیت اور اسلام کے حقیقی پیغام کو پہنچانے کا ذریعہ بنتے ہیں اوریہ اس خدا کے وعدے کی وجہ سے ہے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو فرمایا تھا کہ مَیں تجھے عزت کے ساتھ شہرت دوں گا۔ یہ الٰہی تقدیر ہے اس کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ بدقسمت مولوی جتنا چاہے زور لگا لیں، ان کے مونہوں کی بک بک کے سوا اس کی کچھ بھی حیثیت نہیں جو وہ کہتے ہیں۔ احمدیوں کو عارضی تکلیفیں دے کر خوش ہو رہے ہیں لیکن نہیں جانتے کہ خداتعالیٰ کی تقدیر بھی ان کے خلاف چل چکی ہے اور یہ انشاء اللہ تعالیٰ اپنے بدانجام کوپہنچنے والے ہیں۔
اس مسجد کے افتتاح سے میڈیا کے ذریعہ جو جماعت کا تعارف ہوا ہے، اس کی کچھ تھوڑی سی تفصیل بتا دوں کہ نو(9) ٹیلیویژن سٹیشنز نے کیلگری مسجدکے افتتاح کو کوریج دی جن کے دیکھنے والوں کی تعداد 3.1 ملین ہے۔ 31لاکھ لوگوں تک پیغام پہنچا۔ 9ریڈیو سٹیشنز نے مسجد کے افتتاح کو کوریج دی۔ 23 لاکھ لوگوں تک پیغا م پہنچا۔ پرنٹ میڈیا میں پورے کینیڈا کے مختلف شہروں سے نکلنے والے اخبارات نے وسیع پیمانے پر کوریج دی۔ اخبار پڑھنے والوں کی تعداد 40لاکھ ہے۔
ان ملکی اخبارات کے علاوہ بہت سارے غیر ملکی اخبارات نے بھی کوریج دی ہے۔ آسٹریلیا، جرمنی، نیوزی لینڈ، انڈیا، پاکستان، (پاکستان میں شاید مخالفت میں خبر آئی ہو) اٹلی، برطانیہ، امریکہ، بلجیم، متحدہ عرب امارات اور کینیا اور مسلمان اور عرب دنیا کے 41اخباروں نے اس کی خبر دی ہے۔ ایران، ترکی، سعودی عرب، اردن، فلسطین، لبنان۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا تعارف اس طرح کرایا گیا کہ اسلام کا ایک فرقہ ہے جنہوں نے مسجد بنائی ہے۔ بہرحال ایک رَو چلی ہے، کسی رنگ میں پیغام پہنچا ہے، اگر مخالفت میں پیغام پہنچے تو وہ بھی جیسا کہ مَیں نے بتایا بعض دفعہ، بعض دفعہ نہیں بلکہ یقینی طور پر ترقی کا باعث بنتا ہے اور دنیا بھرمیں انٹرنیٹ کی 130 مختلف سائٹس نے اس کو کوریج دی ہے۔
اس کوریج میں جہاں مختلف مہمانوں کے تاثرات کا ذکر ہے، وہ بے تحاشا ہیں۔ ان میں سے ایک دو مَیں بیان کرتا ہوں۔ کیتھولک بشپ نے کہا کہ اخلاقیات کے متعلق جماعت کی تشریح قابل تعریف ہے۔ کیلگری کے میئر جو انتہائی شریف النفس انسان ہیں اور جماعت سے بڑا گہرا محبت کا تعلق رکھتے ہیں۔ دراصل یہی اپنے وزیراعظم کو اس فنکشن میں لانے کی بھی وجہ بنے۔ ان کے اس سے قریبی تعلقات ہیں۔ انہوں نے جماعت کی تعریف کی اور مسجد کے بارہ میں کہا کہ یہ مسجد کیلگری کے افق پر طلوع ہونے والا ایک تابناک اضافہ ہے۔ اسی طرح وزیراعظم نے کہا کہ جماعت احمدیہ اسلام کا حقیقی اور امن پسند چہرہ اجاگر کرتی ہے اور یہ مسجد امن اور سماجی ہم آہنگی کی علامت ہے۔ CBC کینیڈا نے اپنی ملکی خبروں میں جو تمام کینیڈا میں نشر کی جاتی ہیں، میرے گزشتہ خطبہ کی خبر دو منٹ تک نشر کی۔ خطبہ کا ابتدائی حصہ بھی دیا اور مسجد کی تصویر دی۔ سیدنا حضرت اقدس
مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تصویردکھائی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اپنی تصویر کھنچوانے کا مقصد یہی تھا تاکہ نیک لوگ جو چہرہ دیکھ کر پہچانتے ہیں ان تک تصویر پہنچے اور اللہ تعالیٰ ان کو حق پہچاننے کی توفیق دے۔
دنیا کے مختلف ممالک سے جو بیعتیں آتی ہیں، ہمارے ذریعہ سے تو بہت ساری بیعتیں نہیں ہو رہی ہوتیں کئی ان میں سے ایسی ہیں جنہوں نے خواب میں کسی بزرگ کو دیکھا ہوتا ہے اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تصویر کو دیکھ کرپہچان جاتے ہیں کہ یہی وہ بزرگ تھے جن کے ذریعے سے ہمیں حق پہچاننے کی توفیق ملی جنہوں نے یہ یہ کہا۔ جس کی وجہ سے توجہ پیدا ہوئی، تلاش پیدا ہوئی، جستجو پیدا ہوئی۔ یا بعض دفعہ کسی گھر میں گئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تصویر دیکھ کر یا ایم ٹی اے پر دیکھ کر تجسس پیداہوتا ہے اور پھر تحقیق شروع کرتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے کینیڈامیں بڑے و سیع پیمانے پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تصویر کے ساتھ احمدیت کے تعارف کا موقع پیدا فرما دیا۔
اللہ تعالیٰ نیک فطرت لوگوں کے سینے کھولے۔ مسلمان ملکوں میں بھی اور عیسائی ممالک میں بھی حق کو پہچاننے کی ان نیک فطرت لوگوں کو توفیق عطا فرمائے۔ مسلمان ملکوں کے لئے خاص طور پر دعا کرنی چاہئے کہ یہ لوگ نام نہاد علماء کے پیچھے چل کر اپنی دنیاو عاقبت کو مزید خراب کرنے والے نہ بنیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی ہدایت کے سامان پیدا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو حق کو پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے۔ عیسائیوں اور دوسرے غیرمسلموں کو بھی اسلام کی خوبصورتی اور حقیقت کو دیکھنے اور سمجھنے اور قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ اسی میں ان لوگوں کی نجات ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:’’اب وقت آتا ہے کہ یکدم یورپ اور امریکہ کے لوگوں کو اسلام کی طرف توجہ ہو گی اور وہ اس مردہ پرستی کے مذہب سے بیزار ہو کر حقیقی مذہب اسلام کو اپنی نجات کا ذریعہ یقین کریں گے‘‘۔ (ملفوظات جلد 8صفحہ 137)
اللہ کرے کہ وہ دن ہماری زندگیوں میں آئیں جب ہم اسلام کا جھنڈا دنیا کے ہر ملک میں بڑی شان سے لہراتا ہوا دیکھیں۔
کینیڈا کے جلسہ کے حوالے سے ایک بات کرنا بھول گیا تھا۔ ان کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ تھوڑا سا ذکر کیا جائے۔ ڈیوٹی دینے والے بھی اور دوسرے لوگوں کا بھی اخلاص و وفا اللہ تعالیٰ کے فضل سے دیکھنے والا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اخلاص میں بڑھ رہے ہیں۔ خاص طور پر جس دن مَیں ٹورانٹو سے روانہ ہوا ہوں لوگوں کا ایک ہجوم تھا۔ پیس ویلج کے کافی وسیع رقبے پر ایسا تھا جیسے تل دھرنے کو جگہ نہیں ہے اور ہر ایک کی جذباتی کیفیت عجیب تھی۔ اللہ تعالیٰ سب احمدیوں کو بھی اخلاص و وفا میں بڑھائے اور انہیں اسلامی تعلیم کا صحیح نمونہ بنائے تاکہ ہم وہ پیغام پہنچانے کا حق ادا کرنے والے بنیں جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس دنیا میں لے کر آئے۔
حضور انور نے خطبہ ثانیہ میں فرمایا :
یہ ایک افسوسناک اطلاع ہے۔ آج تقریبا 20دن ہو گئے ہمارے ایک بہت پرانے واقف زندگی اور مبلغ سلسلہ مولانا نورالدین منیر صاحب جو مشرقی افریقہ میں مبلغ رہے ہیں، نائب وکیل التبشیر بھی رہے ہیں، تصنیف کے بھی رہے ہیں۔ کراچی میں 93 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔

اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔

یہ ایسٹ افریقہ میں تھے۔ 55ء سے 59ء تک کینیا میں مربی سلسلہ رہے۔ ایسٹ افریقہ ٹائمز کے ایڈیٹر رہے۔ پھر ماہنامہ تحریک جدید ربوہ اور ریویو آف ریلیجنز کے بھی ایڈیٹر رہے۔ بڑے علمی آدمی تھے اور تاریخ لجنہ اماء اللہ کی چار جلدوں کا انہوں نے انگریزی میں ترجمہ کیا ہے۔ مختصر تاریخ احمدیت کا بھی انگریزی میں ترجمہ کیا، مرتب کی۔ احکام القرآن کے عنوان سے ان کی کچھ کتب چھپ چکی ہیں۔ ان کے تین بیٹے ہیں اور ان کی تدفین وہیں بہشتی مقبرہ ربوہ میں ہوئی ہے۔ ابھی نماز جمعہ کے بعد انشاء اللہ مَیں ان کی نماز جنازہ غائب پڑھاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت کا سلوک فرمائے، درجات بلند فرمائے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/SMvg7]

اپنا تبصرہ بھیجیں