قادیان میں دورِ درویشی کی ابتداء

محترم ملک صلاح الدین صاحب 1947ء کے بعد کے ابتدائی درویشان کے حالات بیان کرتے لکھتے ہیں کہ ایک لمبے عرصہ تک درویشان قادیان میں محصور ہوکر رہ گئے۔ نہ کوئی باہر جاسکتا تھا اور نہ ہی کوئی چیز باہر سے منگوائی جا سکتی تھی۔ صرف گندم ابال کر کھائی جاتی اور مرکز کی حفاظت کے لئے دن رات مستقل ڈیوٹی دی جاتی۔ حضرت مولوی عبدالرحمٰن جٹ صاحب امیر مقامی تھے۔ خزانہ میں پیسہ نہیں تھا اس لئے کفایت اس حد تک تھی کہ باتنخواہ کارکنان کے سوا دوسروں کو لنگر سے کھانا اور دیگر ضروریات کیلئے پانچ روپے ماہوار ملا کرتے تھے۔ پھر آہستہ آہستہ احمدیوں نے بازار جانا شروع کیا۔ ابتداء میں بازار جانے والوں کے نام ایک کاپی میں نوٹ کئے جاتے اور ان کے واپس آنے پر بھی اندراج ہوتا۔ بٹالہ اور امرتسر جانا پڑتا تو تھانے میں رپٹ درج کی جاتی اور سلسلہ کے خرچ پر ایک سپاہی ساتھ جاتا۔ آہستہ آہستہ حصار میں نرمی ہونے لگی لیکن جب جلسہ سالانہ 1947ء کا انعقاد مسجد اقصیٰ کے برآمدہ کے شمالی حصہ میں ہوا تو اس میں ’’داغ ہجرت‘‘ کی پیشگوئی کے حوالے سے یہ بیان کیا گیا کہ یہ ہجرت مقدر تھی اور انشاء اللہ واپسی بھی ہوگی … اس اعلان پر جماعت کا شدید بائیکاٹ کیا گیا اور کوئی چیز بھی قادیان میں پہنچنے نہ دی جاتی تھی۔ احمدی دوبارہ محصور ہوکر رہ گئے … ان حالات میں حضرت مصلح موعودؓ کی ہدایات یہ تھیں کہ خرچ بہت کم کیا جائے، غیرمسلموں سے حسن سلوک کیاجائے اور دعائیں بہت کی جائیں… حضورؓ نے ایک درویش سے یہ بھی فرمایا کہ اگر مجھ پر خلافت کی ذمہ داری نہ ہوتی تو میں بھی قادیان کے درویشوں میں ٹھہرتا۔
آہستہ آہستہ درویشوں نے اپنے اہل خانہ منگوانے شروع کردیئے۔ جماعتی حالات اس حد تک دگرگوں تھے کہ جماعتی رقم جو بنک میں جمع تھی اس کے دینے سے بھی انکار ہوگیا۔ جماعتی جائیدادیں چھین لی گئیں اور درویشان کے محلہ پر بھی کرایہ عائد کردیا گیا… ایسے تکلیف دہ حالات میں حضرت مصلح موعودؓ نے درویشان کے نام یہ پیغام ارسال فرمایا کہ میں آسمان پر خدا تعالیٰ کی انگلی کو احمدیت کی فتح کی خوشخبری لکھتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ نیز نصیحت فرمائی کہ تم نرمی کرو اور عفو سے کام لو تو اللہ تعالیٰ جس کے ہاتھ میں حاکموں کے بھی دل ہیں وہ ان کے دلوں کو بدل دے گا یا ایسے حاکم بھیج دے گا جو انصاف اور رحم کرنا جانتے ہوں۔ تم لوگ جن کو قادیان میں رہنے کا موقع ملا ہے تاریخ احمدیت میں عزت کے ساتھ یاد کئے جاؤگے اور آنے والی نسلیں تمہارا نام عزت اور احترام سے لیں گی۔ اپنی آنکھیں نیچی رکھو لیکن اپنی نگاہ آسمان کی طرف بلند کرو۔
بعد ازاں مسلسل کوششوں اور حکام سے ملاقاتیں کرنے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے تقریباً تمام معاملات میں کامیابی عطا فرمائی۔جب حالات معمول پر آگئے تو پھرسکول اور کالج بھی کھل گئے، تحریک جدید کے دفاتر جاری ہوئے، 1951ء میں اخبار ’’بدر‘‘ بھی جاری کردیا گیا اور پھر وقف جدید کی نظامت بھی قائم ہوگئی۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں