محترمہ صاحبزادی قدسیہ بیگم صاحبہ کی خوبصورت یادیں

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 9 و 10؍جنوری 2003ء میں محترمہ صاحبزادی قدسیہ بیگم صاحبہ اپنی خوبصورت یادوں کو بیان کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ پاکستان بننے کے بعد حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نے ہم سب سے کہا کہ جس کو جو کام آتا ہے، وہ کرے۔ اُس وقت جماعت کو پیسے کی بہت ضرورت تھی۔ مجھے سلائی آتی تھی اور مَیں نے اڑہائی روپے کے حساب سے کئی قمیصوں کی سلائی کی۔ حضرت اماں جانؓ نے بھی خاص طور پر مجھے قمیصیں سینے کے لئے دیں۔ جو رقم جمع ہوئی وہ چندہ میں دیدی۔
آپا عائشہ زمانی کے والد حکیم محمد زمان صاحب اکیلے احمدی ہوئے اور غیراحمدی رشتہ داروں کے تنگ کرنے پر ہجرت کرکے قادیان آگئے۔ حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ نے انہیں ابا حضور (حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ) کے پاس مالیرکوٹلہ بھجوادیا۔ انفلوئنزا کی وبا پھیلی تو اُن کی وفات ہوگئی۔ وفات سے پہلے انہوں نے اباحضور سے کہا کہ میرے بچوں (تین بیٹیوں اور ایک بیٹے) کو اپنے پاس ہی رکھ لیں تاکہ یہ احمدیت سے دُور نہ ہوجائیں۔ چنانچہ ابا حضور نے سب کی پرورش کی۔ اُن کی ایک بیٹی عائشہ زمانی بہت بزرگ خاتون تھیں۔
ایک یتیم لڑکا جس کو بابو کہتے تھے اور اس کی والدہ ہمارے ہاں پرانی ملازمہ تھی، جب کھانا لگتا تو اباجان (حضرت نواب عبداللہ خان صاحبؓ) کرسی پر بیٹھنے سے پہلے ایک پلیٹ میں ہر چیز لگاکر پہلے اُس بچے کو دیتے اور پھر اپنے لئے کھانا ڈالتے تھے۔
ایک دفعہ لاہور میں قیام کے دوران مَیں بڑے ماموں جان (حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ) کے ہاں گئی جہاں ناشتہ لگا ہوا تھا اور شاید کسی نے ناشتہ سے انکار کیا تھا۔ ماموں جان نے فرمایا کہ ناشتہ ضرور کرنا چاہئے۔ مثال ہے کہ ’’یک لقمہ صباحی بہتر از مرغ و ماہی‘‘ کہ صبح کا ایک لقمہ سارے دن کی مرغ و مچھلی سے بہتر ہے۔
میرا بڑا بیٹا محمود (مودی) تین سال کا تھا جب اس کی کوئی بات لطیفہ بن گئی۔ بڑے ماموں جان کو سنائی گئی تو وہ بھی بہت ہنسے۔ انہوں نے مودی کو بلایا مگر مودی جاتا نہیں تھا۔ آپؓ کہنے لگے کہ میاں بشیر کے پاس بچے بہت دوڑ دوڑ کر جاتے ہیں، کیا بات ہے؟ بڑی امی (حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ) نے کہا کہ وہ اپنے پاس بچوں کے کھانے پینے کی چیزیں رکھتے ہیں۔ چنانچہ حضورؓ (جو اُن دنوں جابہ میں تھے) نے بھی سرگودھا آدمی بھجوایا اور بچوں کے لئے کھانے کی چیزیں منگوائیں۔
منجھلے ماموں جان (حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ) ہر وقت کچھ نہ کچھ بچوں کے لئے رکھتے تھے اور بچے کچھ زیادہ ہی دوڑ دوڑ کر جاتے تھے۔ اکثر قادیان سے کیلے آتے تھے۔ کیلا پاکستان میں اُن دنوں نایاب تھا۔ اس لئے گھر کے بچے بچیاں کیلے دیکھ کر فوراً پہنچ جاتے۔ کیلے اکثر پورے گچھوں میں ہوتے جو چھت پر لٹکادیئے جاتے تھے اور آہستہ آہستہ پکتے تھے۔ ایک بچی کیلے دیکھ کر پہنچی اور کہا: اباجان! السلام علیکم۔ ماموں جانؓ کہنے لگے: وعلیکم مگر کیلے ابھی کچے ہیں۔
بھائی جان (محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب) نے مجھے بتایا تھا کہ ایک بار ماموں جان (حضرت مصلح موعودؓ) نے انہیں دس روپے دیئے کہ لاہور جا رہے ہو، واپسی پر اس کا پھل لیتے آنا۔ چنانچہ وہ واپسی پر بہت سا پھل لے کر آئے۔ چند دن بعد ماموں جان نے پوچھا کہ پھل کتنے کا آیا تھا۔ بھائی مبارک نے بتایا کہ نو روپے چودہ آنے کا آیا تھا۔ ماموں جان نے کہا کہ تم نے دو آنے کیوں واپس نہیں کئے؟۔ دو آنے کی کوئی حیثیت نہیں تھی لیکن سمجھایا کہ لین دین الگ چیز ہے اور حساب ہمیشہ صاف رکھنا چاہئے۔ امی بھی کہا کرتی تھیں کہ تحفہ الگ چیز ہے لیکن جب کسی سے کوئی چیز منگواؤ تو اس کے پیسے ضرور دو خواہ لانے والا یہ کہے کہ یہ میری طرف سے تحفہ ہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/ZHPry]

اپنا تبصرہ بھیجیں