جناب مظفر منصور کے ساتھ ایک شام

جناب مظفر منصورغزل کے ایک جانے پہچانے اور مانے ہوئے احمدی شاعرہیں۔ ادبی دنیا میں جاذبیت، نمایاں حیثیت، شخصیت اور ہنر کے نمائندہ شاعر ہیں۔ آپ کی شاعری کے بارہ میں سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے اپنے ایک خط میں تحریر فرمایا:
’’چشم بددُور، واہ! واہ! کیا کلام ہے۔بہت ہی اعلیٰ درجے کا کلام ہے۔دیکھ کر حیران رہ گیا ہوں‘‘۔
ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ‘‘ کینیڈا کے شمارہ برائے مارچ 2011ء میں جناب مظفرمنصور صاحب کے ساتھ ایک شعری نشست کی رپورٹ مکرم محمد اکرم یوسف صاحب کے قلم سے شائع ہوئی ہے۔ یہ نشست 18دسمبر 2010ء کی شا م منعقد ہوئی۔
جناب مظفر منصور کے خوبصورت کلام میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:

کس پہ کھلتا ہوں کتنا کھلتا ہوں
تنگ ہوں اپنی بے شماری پہ
…………………
وہ اِس ادا سے مرے ہم خرام چلتا ہے
بدن میں روح کاجیسے نظام چلتا ہے
فلک کی گردشیں ہیں اُس کے نقش پا میں اسیر
وہ آسماں سے یوں ہم کلام چلتا ہے
…………………
ایک تیرا ہی خواب ہو جیسے
اور سب کچھ عذاب ہو جیسے
یہ سمندر کہ میرا سینہ ہو
اور تُو ماہتاب ہو جیسے
…………………

لاہور کے شہیدوں کے نام:

چمکے گا یہ عالم اِنہی چہروں کی ضیاء سے
ٹُک میرے شہیدوں کو سرِدار تو دیکھو
پھر نعرۂ منصور سے روشن ہوا مقتل
ایک شمع فروزاں ہے سرِدار تو دیکھو
…………………

حضرت مسیح موعودؑ سے وابستگی کا اندازہی نرالا ہے :

یہ میری زندگی ورنہ گناہوں کے سوا کیا ہے
میں جیتا ہوں تمہارے ہی سہارے میرزا صاحب
گماں کرتا ہوں جیسے آپ نے مجھ کو پکارا ہو
میرا گر نام کوئی بھی پُکارے میرزا صاحب
…………………

ایک اور غزل میں یوں بیان کرتے ہیں:

اُس کی آنکھوں میں ہیں کتنی کائناتوں کے سکوت
اُس کے قدموں سے سنورتاہے جو رستہ دیکھنا
ورنہ ہر اِک آن ہے اِک حشراپنی زندگی
ٹال دیتا ہے قیامت اُس کا چہرہ دیکھنا
اُس کی خوشبو ئے بدن سے جی اُٹھا میرا وجود
چشم ویراں کو گُلِ تر ہے مسیحا دیکھنا
…………………

قادیان کی مقدس بستی کی عظمت کا اظہار:

اک نگر جب قاضیاں سے قادیاں ہونے لگا
پھر ظہورِ مہدئ آخر زماں ہونے لگا
مرکزِ توحیدِ باری چُن لیا تقدیر نے
بے امانوں کے لئے دارلاماں ہونے لگا
…………………

تقریب کے اختتام سے قبل مہمان خصوصی جناب تسلیم الٰہی زُلفی نے بھی اپناکلام پیش کیا۔ آپ ایک معروف دانشور، مقبول صحافی، ’اردو ٹی وی‘ کے میزبان اور مشہور شاعر ہیں۔ آپ کے کلام میں سے چند شعر ملاحظہ فرمائیے :

صرف امید کے ساحل پہ کھڑے رہنے سے
پار ہوتا نہیں قسمت کا سمندر زلفی
خود کو بدلوگے ، تو ہر چیز بدل جائے گی
یونہی بدلا نہیں کرتا ہے مقدر زلفی
دم رخصت، کوئی چاہت بھرا فقرہ کہنا
کیا خبر، آخری ملنا ہو، مقدر زلفی

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں