مکرم ڈاکٹر حبیب اللہ خان صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 21؍جنوری 2003ء میں مکرم پروفیسر محمد شریف خان صاحب اپنے والد محترم ڈاکٹر حبیب اللہ خان صاحب ابوحنیفی کا ذکرخیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آپ 10؍اکتوبر 1885ء کو ضلع گوجرانوالہ کے چک سان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد عبدالحکیم قریشی آپ کی پیدائش سے قبل ہی آسٹریلیا چلے گئے تھے جہاں انہوں نے دوسری شادی کرلی۔
مکرم حبیب اللہ خانصاحب کو ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد لاہور بھجوادیا گیا جہاں تعلیم ختم کرکے آپ فوج کی میڈیکل کور میں بھرتی ہوکر مشرقی افریقہ چلے گئے اور وہیں 1923ء میں محترم شیخ مبارک احمد صاحب مرحوم کے ذریعے احمدیت کی روشنی سے منور ہوئے اور پھر بڑی تیزی سے اخلاص میں ترقی کی۔ 1924ء میں نظام وصیت سے منسلک ہوگئے۔ تحریک جدید کی پانچ ہزاری فوج میں بھی شامل ہوئے۔ اپنے بیٹے محمد منیر شامی کو خدمت دین کے لئے وقف کیا لیکن وہ 1947ء میں مرکز احمدیت کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوگئے تو پھر چھوٹے بیٹے (مضمون نگار) سے وقف کرنے کی خواہش کا اظہار کیا جس پر مضمون نگار نے لبیک کہا۔
قبول احمدیت کے بعد آپ کے والدین اور رشتہ داروں نے سخت مخالفت کی لیکن آپ نے پامردی سے اس مخالفت کا مقابلہ کیا۔ تعلیم و تربیت کی غرض سے اپنے بچوں کو قادیان میں رکھا۔ پاکستان بننے کے بعد اپنے آبائی گاؤں آگئے۔ بچوں کی تربیت کے لئے بہت محنت کی۔ گکھڑمنڈی کی جماعت میں بہت خدمت کی توفیق پائی اور لمبا عرصہ وہاں سیکرٹری مال بھی رہے۔
1940ء میں آپ کو TB ہوگئی تو دعا کرتے ہوئے ایک رات سوتے میں آواز آئی کہ تمہیں سترہ دن کی چھٹی دی جاتی ہے۔ پریشانی کے عالم میں حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں خواب تحریر کی تو حضورؓ نے تحریر فرمایا کہ یہ تو مبشر خواب ہے، آپ کو سترہ دن چھوڑ ، سترہ سے زیادہ سالوں کی زندگی کی خوشخبری دی گئی ہے۔ چنانچہ حضورؓ کی دی ہوئی بشارت کے مطابق آپ مزید 34 سال زندہ رہے اور 20؍ستمبر 1974ء کو ربوہ میں وفات پائی اور بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں