نیوٹن ، آئن سٹائن اور عبدالسلام

ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ‘‘ کینیڈا کے مارچ اور اپریل 1995ء کے شماروں میں دنیا کے تین عظیم سائنسدانوں کی کامیاب زندگیوں کے نشیب و فراز اور طبائع میں اتفاقات و اختلافات پر مکرم محمد زکریا ورک صاحب نے تفصیلاً روشنی ڈالی ہے۔
آئن سٹائن کے بارے میں بیان کیا گیا ہے کہ شراب سے اس کو نفرت تھی البتہ وہ سگریٹ نوشی کا عادی تھا۔ شام کو لمبی سیر ہی اس کی ورزش تھی۔ اس کی طرز تحریر نیوٹن کی طرح خوشنما تھی۔ آئن سٹائن نے کئی ممالک کا سفر اختیار کیا۔ اس کو اسرائیل کا صدر بننے کی پیشکش کی گئی جو اس نے رَد کردی۔ آئن سٹائن اور نیوٹن دونوں طبیعت کے سادہ اور اصولوں کے پابند انسان تھے۔ دونوں اپنے آپ کو مذہبی سمجھتے تھے اور دونوں بلاتردد گھنٹوں کام کرسکتے تھے۔ نیوٹن اکیلے کام کرنا پسند کرتا تھا جبکہ آئن سٹائن کے ساتھ اس کا ایک نائب ہوتا تھا۔ نیوٹن کے برعکس آئن سٹائن کسی نفسیاتی بیماری کا شکار نہ ہوا۔
محترم ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کی پیدائش سے قبل ہی ان کے والد محترم کو ایک دفعہ نماز جمعہ کے نوافل کی ادائیگی کے وقت ایک فرزند کی بشارت ملی جس کا نام ’’عبدالسلام‘‘ تجویز کیا گیا۔ ڈاکٹر سلام اور آئن سٹائن ۔۔۔ دونوں کو نوبل انعام سے نوازا گیا، دونوں کے ایک ایک بچے نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، دونوں کے ایک ایک شاگرد نے نوبل انعام حاصل کیا۔ لیکن آئن سٹائن نے جرمن شہریت ترک کرکے امریکی شہریت حاصل کرلی جبکہ پروفیسر سلام نے پاکستانی شہریت کو ہمیشہ حرزِ جاں بنائے رکھا۔نیوٹن اور آئن سٹائن کو ادب سے کوئی خاص شغف نہیں تھا لیکن پروفیسر سلام کو ادب سے خاص لگاؤ ہے اور ان کے پسندیدہ شعروں میں فیض کا یہ شعر بھی ہے

کئی بار اس کی خاطر ذرے ذرے کا جگر چیرا
مگر یہ چشم حیراں جس کی حیرانی نہیں جاتی

نیوٹن، آئن سٹائن اور سلام تینوں اپنے والدین کی پہلی اولاد تھے۔ تینوں کے خاندان اقتصادی لحاظ سے مڈل کلاس تھے۔ تینوں نہایت زیرک اور ہوشیار طالبعلم تھے اور تینوں نے بہترین درسگاہوں میں تعلیم حاصل کی ۔ تینوں بچپن سے ہی بہت اچھی صحت کے مالک تھے۔ تینوں کو شراب سے سخت نفرت تھی۔ تینوں اپنے اپنے عقیدہ یعنی عیسائیت، یہودیت اور اسلام پر کامل یقین رکھتے تھے۔ تینوں نے نہایت سادہ زندگی بسر کی۔ تینوں اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے اور تینوں کو لکھنے کی قابلیت سے رشک کی حد تک نوازا گیا تھا۔
نیوٹن نے بہت سے مقالے لکھے لیکن انہیں شائع کروانے کا شوق نہ تھا۔ آئن سٹائن نے تین سو کے قریب مقالے لکھے جبکہ سلام نے اڑہائی صد مقالے لکھے جو اعلیٰ جرائد میں شائع ہوکر دادِ تحسین حاصل کرچکے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں