Thursday, 15th October, 2026
»»
الفضل ڈائجسٹ آنحضور ﷺ کی طہارت و پاکیزگی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 25؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 18؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 11؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 04؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ28؍اگست 2026ء الفضل ڈائجسٹ آنحضور ﷺ کی طہارت و پاکیزگی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 25؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 18؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 11؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 04؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ28؍اگست 2026ء
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

آنحضور ﷺ کی طہارت و پاکیزگی

October 15, 2026 • 10 مناظر • الفضل ڈائجسٹ

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ …؍اکتوبر 2026ء)

مسجد نبوی مدینہ منورہ

ماحول کا انسانی طبائع پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ طہارت و پاکیزگی دو ایسی صفات ہیں جو انسان کے اشرف المخلوقات ہونے اور لقاء الٰہی کے حصول کے لیے اختیار کرنا ضروری ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یقیناً اللہ کثرت سے توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور پاک صاف رہنے والوں سے بھی محبت کرتا ہے۔ (البقرۃ:223)
آنحضور ﷺ نے صفائی کو اتنی اہمیت دی کہ امّت کو نصیحت فرمائی: صفائی نصف ایمان ہے۔ آپؐ کی طہارت و پاکیزگی کے حوالے سے ایک مضمون ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ کے ’’سیرت خیرالوریٰؐ نمبر‘‘ برائے نومبرو دسمبر 2012ء میں مکرم اسفند یار منیب صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
آنحضورﷺ کا لباس سادہ مگر ہمیشہ صاف ستھرا ہوتا تھا۔ آپؐ سفید لباس پہننا پسند فرماتے تھے۔ حدیث میں آتا ہے کہ سفید لباس پہنا کرو کیونکہ یہ زیادہ پاک و صاف ہوتا ہے۔ نیز فرمایا: اپنے لباس کو صاف ستھرا اور درست رکھا کرو۔
کئی روایات میں آتا ہے کہ آنحضورﷺ اپنے بالوں اور داڑھی کو بھی سنوار کررکھتے۔ سر اور داڑھی کے بالوں پر تیل بھی لگایا کرتے اور کنگھی کرتے تھے۔ آنحضورﷺ نے دانتوں کی صفائی پر بھی بےحد زور دیا۔ آپؐ خود بھی روزانہ ایک سے زیادہ بار مسواک کرتے۔ چنانچہ آپؐ کے دانت ہر وقت صاف اور فم مبارک معطّر رہتا تھا۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آنحضورﷺ نے دس باتوں کو انسانی فطرت کا حصہ قرار دیا ہے: مونچھیں تراشنا، داڑھی رکھنا، مسواک کرنا، پانی سے ناک صاف کرنا، ناخن کٹوانا، انگلیوں کے پورے صاف رکھنا، بغلوں کے بال لینا، زیرناف بال لینا، استنجاء کرنا۔ دسویں بات مَیں بھول گئی شاید کھانے کے بعد کُلّی کرنا۔
وضو کی اہمیت بھی صفائی قائم رکھنے کے لیےہے۔ آنحضورﷺ نے فرمایا: وضو کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
جمعہ کے دن کو اسلام میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ آنحضورﷺ نے ایک خطبہ جمعہ میں فرمایا: ’’اے مسلمانو! اس دن کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے عید بنایا ہے۔ اس روز نہایا کرو اور مسواک ضرور کیا کرو۔‘‘ چنانچہ اس روز غسل کرنا، صاف لباس پہننا اور خوشبو لگانا سنّت ہے۔
آنحضورﷺ نے ماحول کی صفائی کی بھی تاکید فرمائی ہے۔ جگہ جگہ تھوکنے سے منع فرمایا۔ مجمع میں بدبودار چیز کھاکر آنے سے منع فرمایا۔ خوشبو لگانے کو پسند فرمایا۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ اپنی مساجد کو اپنے ناسمجھ بچوں، دیوانوں، خریدو فروخت یا لڑائی جھگڑا کرنے والوں اور شور سے محفوظ رکھو۔ مسجد کے دروازے کے باہر طہارت خانے بناؤ اور جمعہ وغیرہ کے موقع پر مساجد میں خوشبو کی دھونی دیا کرو۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: ’’اگر قرآن کو غور سے پڑھو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ خدا تعالیٰ کے بےانتہا رحم نے یہی چاہا ہے کہ انسان باطنی پاکیزگی اختیار کرکے روحانی عذاب سے نجات پاوے اور ظاہری پاکیزگی اختیار کرکے دنیا کے جہنم سے بچا رہے جو طرح طرح کی بیماریوں اور وباؤں کی شکل میں نمودار ہو جاتا ہے اور اس سلسلے کو قرآن شریف میں اول سے آخر تک بیان فرمایا گیا ہے جیسا کہ مثلاً یہی آیت اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِینَ وَیُحِبُّ المُتَطَہِّرِینَ صاف بتلا رہی ہے کہ تَوَّابِین سے مراد وہ لوگ ہیں جو باطنی پاکیزگی کے لیے کوشش کرتے ہیں اور مُتَطَہِّرِینَ سے وہ لوگ مراد ہیں جو ظاہری اور جسمانی پاکیزگی کے لیے جدوجہد کرتے رہتے ہیں۔‘‘ (ایام الصلح، روحانی خزائن جلد14 صفحہ337۔ 338)
آپؑ نے یہ بھی فرمایا کہ ’’روحانی پاکیزگی چاہنے والوں کے لیے ظاہری پاکیزگی اور صفائی بھی ضروری ہے کیونکہ ایک قوت کا اثر دوسری پر اور ایک پہلو کا اثر دوسرے پر ہوتا ہے۔… جو شخص باطنی طہارت پر قائم ہونا چاہتا ہے وہ ظاہری پاکیزگی کا بھی لحاظ رکھے۔… ظاہری پاکیزگی اندرونی طہارت کو مستلزم ہے۔‘‘ (ملفوظات جلداوّل صفحہ164)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *