رسول اللہﷺ کی غریب پروری

October 10, 2026 • 21 مناظر • الفضل ڈائجسٹ

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ …؍اکتوبر 2026ء)

مسجد نبوی مدینہ منورہ

آنحضور ﷺکی ذات میں معاشرے کے کمزور طبقے کا خیال رکھنے کا وصف بعثت سے پہلے ہی سے موجود تھا۔ چنانچہ مکہ کے مظلومین کی امداد کے لیے کیا جانےوالا معاہدہ حلف الفضول اس کا گواہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ دعویٔ نبوت کے بعد آپؐ پر ایمان لانے والوں کی اکثریت اسی پسے ہوئے طبقے سے تعلق رکھتی تھی۔ اس حوالے سے ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ کے ’’سیرت خیرالوریٰؐ نمبر‘‘ برائے نومبرودسمبر2012ء میں ایک مضمون مکرم عبدالکبیر قمر صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
جب آنحضورﷺ پر وحی کا نزول ہوا اور آپؐ اس ذمہ داری سے گھبراگئے تو حضرت خدیجہؓ نے جن الفاظ میں آپؐ کو تسلّی دی ان میں اس صفت کا بھی ذکر تھا کہ آپؐ کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔
آنحضورﷺ کے غلام حضرت زیدؓ کے والد اُن کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے مکہ پہنچے اور آنحضورﷺ سے اُن کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ آنحضورﷺ نے بخوشی انہیں ساتھ لے جانے کی اجازت عطا فرمادی لیکن حضرت زیدؓ نے آزادی کی زندگی کی بجائے آنحضورﷺ کی غلامی میں رہنے کو ترجیح دی۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ زاہر بن حرام نامی ایک دیہاتی اکثر آنحضورﷺ کے لیے گاؤں کی چیزیں تحفہ کے طور پر لایا کرتا تھا اور آپؐ بھی شہر کی کوئی نہ کوئی سوغات اُسے ضرور عنایت کیا کرتے تھے۔ آپؐ کو زاہرؓ سے بےحد اُنس تھا۔ زاہرؓ کی شکل و صورت اچھی نہ تھی۔ ایک دن وہ اپنا سودا بیچ رہا تھا کہ حضورﷺ نے پیچھے سے آکر اُس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیے۔ زاہرؓ نے محسوس کیا کہ یہ رسول اللہﷺ ہیں تو اپنی کمر آپؐ کے مطہر جسم کے ساتھ ملنے لگا۔ آپؐ نے فرمایا: یہ غلام کون خریدتا ہے؟ زاہرؓ کہنے لگا: یارسول اللہ! تب تو آپؐ مجھے ناقص مال پائیں گے۔ آپؐ نے فرمایا: مگر اللہ کے نزدیک تو تُو ناقص مال نہیں ہے۔
آنحضورﷺ نے ایک بار فرمایا کہ مَیں نے جنّت میں دیکھا تو اس میں زیادہ غریب و مفلس لوگ تھے۔
آپؐ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے خدا! مجھے مسکین زندہ رکھ، مسکین اُٹھا اور مسکینوں کے ساتھ ہی میرا حشر کر۔ حضرت عائشہؓ نے اس دعا کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ مسکین دولتمند سے پہلے جنت میں جائیں گے۔ پھر فرمایا: اے عائشہ! کسی مسکین کو اپنے دروازے سے نامراد نہ پھیر گو چھوہارے کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔ اے عائشہ! غریبوں سے محبت رکھ اور اُن کو اپنے سے نزدیک کر تو خدا بھی تم کو اپنے سے نزدیک کرے گا۔
ایک بار آپؐ مسجد نبوی میں تشریف لائے تو غریب مہاجر ایک طرف حلقہ بنائے بیٹھے تھے۔ آپؐ اُن کے ساتھ جاکر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ فقراء مہاجرین کو بشارت ہو کہ وہ دولت مندوں سے چالیس برس پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ یہ سن کر اُن کے چہرے خوشی سے چمک اُٹھے۔
آنحضورﷺ نے امراء سے فرمایا کہ تم کو جو نصرت اور روزی میسر آتی ہے وہ غریبوں ہی کی بدولت آتی ہے۔
آنحضورﷺ نے معاشرے کو مصیبت زدہ کی امداد کا درس یوں بھی دیا کہ جب حضرت جابربن عبداللہؓ کے والد اُحد میں شہید ہوگئے تو وہ مقروض تھے۔ قرض خواہوں نے ورثاء سے مطالبہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے قرض خواہوں کو نصیحت کی کہ جو ملتا ہے وہ لے لو، باقی چھوڑ دو اور معاف کردو۔
حالتِ سفر بھی غربت کی حالت ہوتی ہے۔ اسی لیے مسافر کو غریب الوطن بھی کہا جاتا ہے۔ حدیث میں تو سفر کو عذاب کا ٹکڑا قرار دیا گیا ہے۔ آنحضورﷺ مسافروں کی مدد کی طرف خاص توجہ فرماتے۔ ایک دفعہ ایک ایسا قبیلہ حاضرِ خدمت ہوا جن کی حالت خراب تھی، لباس مکمل نہ تھا، پاؤں میں جوتے نہ تھے۔ بدن پر کھالیں پہنی ہوئی تھیں اور تلواریں گلے میں لٹکائی ہوئی تھیں۔ آپؐ اُن کی حالت دیکھ کر افسردہ ہوگئے اور پریشانی کے عالم میں گھر گئے۔ پھر باہر آئے اور نماز کے بعد حاضرین کو اس غریب مسافر قافلے کی مدد کی تحریک فرمائی۔
آپؐ نے ایک موقع پر فرمایا کہ سوال کرنے سے بچو، اوپر والا (خیرات کرنے والا) ہاتھ نیچے والے (خیرات لینے والے) ہاتھ سے بہتر ہے۔
آنحضورﷺ کی غریب پروری ایک حسین امتزاج اپنے اندر رکھتی تھی۔ آپ غرباء کی توقیر قائم کرتے ہوئے اُن کا خیال رکھنے اور اُنہیں اُن کے پاؤں پر کھڑا کرنے کی تلقین فرماتے تاکہ وہ معاشرے پر بوجھ نہ بنیں ۔ آپؐ نے فرمایا: خداتعالیٰ کے مقرر کردہ دیگر فرائض کی طرح محنت کی کمائی بھی فرض ہے۔ نیز فرمایا: پاکیزہ خوراک وہ ہے جو تم خود کماکر کھاؤ اور تمہاری اولاد بھی تمہاری عمدہ کمائی میں شامل ہے۔
پھر فرمایا: جو شخص جنگل سے جاکر لکڑیاں کاٹ کر لاتا ہے اور انہیں بیچ کر گزارہ چلاتا ہےلیکن اپنی آبرو پر حرف نہیں آنے دیتا وہ بہت ہی معزز ہے اور اُس کا طرزعمل بھیک مانگنے سے ہزار درجے بہتر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *