Sunday, 16th August, 2026
»»
خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍جون 2026ء الفضل ڈائجسٹ ایمان میں تازگی الفضل ڈائجسٹ محترم صوفی منظور احمد صاحب خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍جون 2026ء الفضل ڈائجسٹ ایمان میں تازگی الفضل ڈائجسٹ محترم صوفی منظور احمد صاحب
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ
فونٹ سائز:

میرا الفضل

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، الفضل انٹرنیشنل 27؍اکتوبر2025ء)
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ کے صدسالہ جوبلی سوونیئر 2013ء میں مکرم ڈاکٹر مطیع اللہ درد صاحب (لندن) رقمطراز ہیں کہ 10؍ستمبر1934ء کو برکت اللہ صاحب کے ہاں پیدا ہونے والے بچے کی پیدائش کی خبر ایک ہفتے بعد الفضل میں شائع ہوئی۔ حضرت مصلح موعودؓ نے نام مطیع اللہ عطا فرمایا تھا۔
بہت بچپن سے ہی مَیں نے الفضل کو پڑھنا شروع کردیا تھا یعنی مَیں 75؍سال سے الفضل کا قاری ہوں۔ گو دیگر ذرائع ابلاغ بھی ترقیاتِ زمانہ کے ساتھ معرض وجود میں آتے رہے ہیں لیکن جو مقام اور عظمت الفضل نے میرے دل و دماغ میں بٹھائی ہے وہ کسی اَور کی نہیں ہوسکی۔ اب بھی جب تک الفضل پڑھ نہ لوں ایک بےچینی سی رہتی ہے۔ مختلف ممالک مثلاً فجی، نیوزی لینڈ، برطانیہ وغیرہ میں رہائش کے دوران تبلیغ اور تربیت کے کاموں میں یہ ہمیشہ میرا ممد رہا ہے۔ تاریخ احمدیت محفوظ کرنے میں الفضل کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ دنیابھر کے احمدیوں کو ایک دوسرے کے حالات سے باخبر رکھتا ہے گویا ہم سب ایک ہاتھ پر اکٹھے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *