چشمۂ فیض کہ ہر آن رواں رہتا ہے – نظم

April 18, 2019 5 مناظر الفضل ڈائجسٹ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 4؍ستمبر 2003ء میں شامل اشاعت مکرم عبدالصمد قریشی صاحب کی ایک نظم سے انتخاب پیش ہے:

چشمۂ فیض کہ ہر آن رواں رہتا ہے
باغ احمد میں بہاروں کا سماں رہتا ہے
میرے احساس کی دنیا میں سدا رہتے ہیں
ہر گھڑی پاس ہیں وہ ایسا گماں رہتا ہے
دل کی دھڑکن میں تمناؤں میں اور سانسوں میں
ایک ہی نام ہے جو زیر بیاں رہتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *