بیت المقدس

یروشلم یعنی سلامتی کا شہر تین بڑے مذاہب کے پیروکاروں یعنی یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کے نزدیک ایک مقدّس بستی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس شہر سے بہت سے انبیاء کی یادیں وابستہ ہیں۔ یروشلم کے مشہور مقامات میں مسجد اقصیٰ، قبۃالصخریٰ، دیوار گریہ اور قبر مسیح (جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب سے اتار کر رکھا گیا تھا) شامل ہیں۔ ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ اکتوبر 2009ء میں مکرم لقمان احمد صاحب کے قلم سے یروشلم کے بارہ میں ایک مضمون شائع ہوا ہے جو ’’اسلامی انسائیکلوپیڈیا‘‘ کی مدد سے لکھا گیا ہے۔
اسرائیل کے دارالحکومت یروشلم کی آبادی قریباً چار لاکھ ہے۔یہ یہودیوں کا تعلیمی اور دینی مرکز بھی ہے۔ اس کی بنیاد حضرت یعقوب اسرائیل علیہ السلام نے رکھی تھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور میں بنی اسرائیل فراعین کے ظلم سے تنگ آکر مصر سے نکلے لیکن اپنی نافرمانی کی وجہ سے چالیس برس تک اپنے آبائی وطن فلسطین میں داخل نہ ہوسکے۔ پھر حضرت داؤد علیہ السلام کے دَور میں بنی اسرائیل نے یبوسی قوم کو شکست دے کر اس شہر پر قبضہ کرلیا۔ حضرت داؤدؑ کے بیٹے حضرت سلیمانؑ نے یروشلم کی عظمت کو چار چاند لگادیئے اور بہت سی تعمیرات کے علاوہ ایک عالیشان معبد کی بنیاد بھی ڈالی جسے عبرانی میں ہیکل کہتے ہیں۔ یہ ’ہیکل سلیمانی‘ کہلاتا ہے۔
598قبل مسیح میں بابل کے ایک حکمران بخت نصر نے یروشلم پر حملہ کرکے بہت سے یہودیوں کو قتل کردیا اور ہزاروں کو قیدی بناکر اپنے ساتھ لے گیا اور ہیکل سلیمانی کو بھی توڑ پھوڑ دیا۔ اس کے بعد یہودی غلامی کی زندگی بسر کرنے لگے۔ آخر ایران کے بادشاہ ذوالقرنین (خورس) نے بابل کی غلامی سے یہودیوں کو آزاد کروایا اور وہ دوبارہ یروشلم آکر آباد ہوگئے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت کے وقت یروشلم پر رومیوں کا قبضہ تھا اگرچہ یہودی اپنے فرائض کی بجاآوری میں آزاد تھے۔ پھر یہود کی وجہ سے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ہجرت پر مجبور ہونا پڑا تو آپؑ نے روانہ ہوتے وقت یروشلم کی جلد تباہی کی انذاری پیشگوئی فرمائی۔ چنانچہ 70ء میں قیصر روم Titus نے یہودیوں کی بغاوت کو کچلنے کے لئے یروشلم کو تباہ کردیا اور یہودیوں کا قتل عام کرکے ہزاروں کو غلام بنالیا۔ اُس نے ہیکل سلیمانی کو بھی تباہ کردیا اور اس کی جگہ اپنے دیوتا جیوپیٹر کی قربان گاہ بنادی۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت یروشلم پر عیسائی قابض تھے۔ آپؐ پہلے یروشلم کی طرف منہ کرکے نماز پڑھا کرتے تھے لیکن ہجرت کے سترہ ماہ بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپؐ نے خانہ کعبہ کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھنی شروع کردی۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دَور میں یروشلم فتح ہوا اور حضرت عمرؓ نے وہاں جاکر مسجد اقصیٰ کی بنیاد رکھی۔
گیارھویں صدی عیسوی میں یورپ کو بیت المقدس پر قبضے کا جنون پیدا ہوگیا اور 15 اگست 1099ء کو صلیبی لشکروں نے یروشلم میں داخل ہوکر ستر ہزار افراد کو قتل کردیا۔ اکتوبر 1187ء میں ایک عظیم کرد مسلمان فاتح سلطان صلاح الدین ایوبی نے ان صلیبی لشکروں کو بری طرح شکست دی اور یروشلم پر قبضہ کرلیا اور سلطان نے مفتوحین کے ساتھ وہ اعلیٰ اخلاق کا نمونہ دکھایا جس کی بدولت عیسائیوں نے اُنہیں ’’شریف نائٹ‘‘ کا لقب دیا۔
بیسویں صدی عیسوی میں انگریزوں نے ایک بار پھر بیت المقدس پر قبضہ کرلیا اور اسے اپنی فتح عظیم قرار دیا۔ 1920ء میں صلح کانفرنس میں فلسطین پر برطانوی حکومت قائم کردی گئی اور پہلے برطانوی کمشنر سر ہربرٹ سیموئل (جو یہودی تھا) نے یہودی مہاجرین کے لئے فلسطین کے دروازے کھول دیئے۔
1948ء میں مسلح یہودیوں نے فلسطین کے وسیع علاقوں پر قبضہ کرکے اسرائیل کے نام سے ایک نئی مملکت کا اعلان کردیا جسے امریکہ اور روس نے فی الفور تسلیم کرلیا۔ چنانچہ عربوں کو فلسطین سے باہر دھکیل دیا گیا۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/qOmfa]

اپنا تبصرہ بھیجیں