تیزابیت اور الکلیت کے ہمہ گیر مظاہر

ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ ربوہ فروری 2011ء میں ایک آیتِ قرآنی میں پوشیدہ سائنسی حقیقت کے حوالہ سے شائع ہونے والے ایک علمی مضمون میں مکرم محمود احمد اشرف صاحب نے تیزابیت اور الکلیت کی خصوصیات پر روشنی ڈالی ہے۔
تیزاب کو انگریزی میں ایسڈ (Acid) کہتے ہیں جو لاطینی میں کھٹے کے معانی دیتا ہے۔ کائنات میں (خصوصاً زندہ اجسام میں) جو کیمیائی طور پر توڑپھوڑ کا عمل جاری ہے اُس کا ایک باعث تیزابیت بھی ہے مثلاً معدہ میں غذا کو سادہ تر اجزاء میں توڑنے کے لیے بھی ایک تیزاب استعمال ہوتا ہے تاکہ وہ ہضم ہوجائے۔ چونکہ اس ضروری عمل کے مضر اثرات بھی ہوسکتے ہیں مثلاً اگر معدہ میں تیزاب زیادہ مقدار میں ہو تو معدہ کی دیواروں کو زخمی کرکے السر کردے گا۔ چنانچہ تیزاب کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنے کا بھی اللہ تعالیٰ نے انتظام کررکھا ہے۔
تیزاب کی طرح بعض دیگر کیمیائی مرکبات بھی کاٹنے، جلانے اور توڑنے کا کام کرتے ہیں لیکن اپنی مخصوص صفات کی وجہ سے الکلائی (alkali) کہلاتے ہیں مثلاً صابن وغیرہ۔ دونوں کیمیائی مادوں کی ایک صفت ایک دوسرے کے اثر کو زائل کرنا بھی ہے۔ چنانچہ شہد کی مکھی کاٹتی ہے تو جِلد میں ایک تیزاب داخل کرتی ہے جس کی جلن کو صابن سے کم کیا جاسکتا ہے۔ لیکن بِھڑ کاٹے تو وہ جسم میں الکلائی داخل کرتی ہے اور اس کی جلن کو زائل کرنے کے لیے کوئی تیزاب مثلاً سرکہ وغیرہ لگایا جاسکتا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ تیزابیت اور الکلائیت، دونوں مادوں کا لازمی جزو ہائیڈروجن ہے جو کائنات کا سب سے چھوٹا عنصر ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہمارے جسم میں تیزابیت اور الکلائیت کا توازن برقرار رکھنے کا خاص انتظام کیا ہے کیونکہ اس کے بغیر زندہ رہنا ناممکن ہے۔ تیزابیت اور الکلائیت کی پیمائش کے لیے پی ایچ سکیل بنائی گئی ہے جو 1 سے 14 تک ہوتی ہے۔ پی ایچ کا مطلب ہے Power of Hydrogen۔ چنانچہ جس محلول کا پی ایچ 7 ہوگا وہ نیوٹرل ہوگا جبکہ اس سے کم تیزابیت اور 7 سے زیادہ الکلائیت کی نشاندہی کرے گا۔ چنانچہ نمبر جتنا کم ہوگا تیزاب اُتنا ہی طاقتور ہوگا اور الکلائی کا نمبر جتنا بڑا ہوگا وہ اُتنی ہی طاقتور ہوگی۔ چنانچہ لیموں کا تیزاب طاقتور ہے جس کی پی ایچ 2.5 ہے۔ سرکہ کی 2.9، مالٹے کے جوس کی 3.2 اور چائے کی 5.2 ہے۔ جبکہ شہد کی 4.5سے 3.2 تک ہوتی ہے جو کئی قسم کے بیکٹیریا کی افزائش کو روک دیتی ہے۔ اور دودھ کی پی ایچ 6.8 ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ سورۃ النحل آیت 67 میں فرماتا ہے کہ‘‘تمہارے لیے چارپایوں میں یقینا نصیحت حاصل کرنے کا ذریعہ (موجود) ہے۔ جو کچھ اُن کے پیٹوں میں ہوتا ہے اس میں سے یعنی گوبر اور خون کے درمیان سے ہم تمہیں پینے کے لیے صاف دودھ مہیا کردیتے ہیں جو پینے والوں کے لیے خوشگوار (اور) گلے سے آسانی سے اُترنے والا ہوتا ہے’’۔ یہاں لذّت کا ذکر نہیں ہے بلکہ گلے سے باآسانی اُترسکنے کی خصوصیت (سَائِغًا) کا ذکر ہے۔ دراصل اس میں دودھ کی پی ایچ کے نیوٹرل کے قریب ترین ہونا مراد ہے۔ کیونکہ دیگر مشروبات میں تیزابیت کے نتیجہ میں منہ اور گلے پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بلکہ دانتوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ بعض لوگوں کا گلا کھٹی اشیاء کھانے سے فوری خراب ہوجاتا ہے جس کی وجہ وہ تیزابیت ہے جو گلے کی جھلی (Epithilium) کو توڑ دیتی ہے۔ اس جھلّی کو دفاعی لائن بھی کہا جاتا ہے جس کے ٹوٹنے پر جراثیم کی اندرونی اعضاء تک رسائی ہوجاتی ہے۔
ان تمام شواہد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تیزاب منہ اور حلق اور غذا کی ساری نالی کے لیے نقصان کا باعث ہے جبکہ تمام مشروبات میں سے صرف دودھ ہی ہے جو تیزابیت اور الکلائیت کے اعتبار سے قریباً نیوٹرل ہے۔ شاید اس لیے بھی اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ دودھ گلے کے لیے خوشگوار ہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/0oLyL]

اپنا تبصرہ بھیجیں