جلسہ سالانہ جرمنی 2004ء سے حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا اختتامی خطاب

الٰہی حکم کے مطابق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے مارچ 1889ء میں بیعت لی۔ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مطابق کہ بیعت لو اور ایسے لوگوں کی ایک کشتی تیار کرو وہ کشتی تیار ہوتی چلی گئی۔ اللہ تعالیٰ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دی گئی خوشخبریوں کے مطابق اس کشتی کو مضبوط سے مضبوط تر کرتا چلا گیا اور کوئی آندھی، کوئی طوفان، کوئی آفت جو اس کو ڈبونے کے لئے اٹھی تھی اس کا کچھ بھی نقصان نہ کر سکی بلکہ ہر مخالف لہر اور ہر طوفان کے بعد یہ کشتی مضبوط سے مضبوط دکھائی دی اور اس کشتی کے ہر سوار نے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش ذاتی طور پر اپنے اوپر برستے دیکھی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جو پودا اپنے ہاتھ سے لگایا تھا اس نے بڑھنا ہے اور پھولنا ہے اور پھلنا ہے۔ یہی اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق جماعت احمدیہ کا مقدر ہے۔ کیونکہ یہ جماعت خدا تعالیٰ کے مامور کی جماعت ہے اور ہر دن جو نیا سورج چڑھتا ہے یا جو نیا سورج چڑھنا ہے اس نے اللہ تعالیٰ کی تائید کے نظارے ہی دکھانے ہیں اور نظارے دکھاتا ہے۔
ایسے لوگوں کا انجام ظاہر ہے کہ کیا ہو گا جو خدا کے مامور سے لڑتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم میں سے بہتوں نے اس زمانے میں بھی ایسے لوگوں کا بدانجام دیکھا ہے۔ جن کو حکومتوں پر زُعم تھا ان کی حکومتیں بھی ان کی کوئی مدد نہ کر سکیں۔ جن کو بادشاہتوں پر زُعم تھا ان کی بادشاہتیں بھی ان کی حفاظت نہیں کر سکیں۔ کسی کو اس کے قابل اعتماد جرنیل نے پھانسی پر چڑھا دیا۔ کسی کو اس کے قریبی عزیز نے قتل کر دیا۔ اور کسی کو تمام حفاظتی اقدامات ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے فضا میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے بکھیر دیا۔
مختلف ممالک میں بہت سے ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جہاں لوگوں کی ذلّت و رسوائی اور تباہی کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں جنہوں نے خدا کے مامور سے ٹکّر لینے کی کوشش کی، اس کی اہانت کرنے کی کوشش کی اور پھر ہر دشمن کا ایسا عبرتناک انجام ہوا جو ہمارے ایمانوں میں اضافہ کا باعث بنا۔ ہر ایک ملک میں احمدی جب یہ واقعات دیکھتے ہیں تو ان کے ایمانوں کو مزید تقویت پہنچتی ہے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے ارشادات کے حوالہ سے جماعت کی ترقی اور مخالفین کی ناکامی و نامرادی سے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیئے گئے وعدوں اور بشارات کا تذکرہ۔ اور ان کی روشنی میں افراد جماعت کو اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی تاکیدی نصائح
جماعت احمدیہ جرمنی کے جلسہ سالانہ کے موقع پر22؍اگست2004ء بروز اتوار سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا منہائم جرمنی میں اختتامی خطاب

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں- چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ صدیاں پہلے اپنے ایک عاشق صادق غلام اور مسیح و مہدی کے آنے کی خبر دی تھی اور بتایا تھا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب اسلام کا صرف نام باقی رہ جائے گا۔ (الجامع لشعب الایمان جلد 3 صفحہ 317-318 حدیث 1763 مطبوعہ مکتبۃ الرشد ریاض 2003ء) چنانچہ وہ وقت اس زمانے میں دین کا درد رکھنے والے ہرایک نے محسوس کیا اور دین سے محبت رکھنے والے اور اس کا درد رکھنے والے ہر شخص نے اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے فریاد کی کہ اے اللہ! اس دین کو اب سنبھال اور اس دین کی ڈولتی ہوئی کشتی کو اب بچا لے اور اس شخص کو جلد مبعوث فرما جس کے آنے کی تُو نے بھی خبر دی ہے۔ اور اے اللہ! تیرے رسول نے بھی اس کی خبر دیتے ہوئے یہ فرمایا کہ اگر ایمان ثریّا پر بھی چلا گیا تو وہ اسے واپس زمین پر لے آئے گا۔ چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابوھریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے تھے کہ آپ پر سورۃ جمعہ نازل ہوئی۔ جب آپ نے اس کی آیت

وَاٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ (الجمعۃ4:)۔

پڑھی جس کے معنی یہ ہیں کہ بعد میں آنے والے کچھ لوگ بھی ان صحابہ میں شامل ہوں گے جو ابھی ان کے ساتھ نہیں ملے۔ تو ایک آدمی نے پوچھا۔ یا رسول اللہ! یہ کون لوگ ہیں جو درجہ تو صحابہ کا رکھتے ہیں لیکن ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے۔ حضور نے اس سوال کا کوئی جواب نہ دیا۔ اس آدمی نے تین دفعہ یہی سوال کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہم میں بیٹھے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان کے کندھے پر رکھا اور فرمایا اگر ایمان ثریّا کے پاس بھی پہنچ گیا یعنی زمین سے اٹھ گیا تو ان میں سے ایک شخص، ایک جگہ رَجُل ہے ایک جگہ رِجَال ہے وہ اس کو واپس لے آئے گا۔ (صحیح البخاری کتاب التفسیر باب واٰخرین منہم … الخ حدیث 4897) یعنی آخرین سے مراد حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ ہے اور اس سے مراد آپ ہیں اور ان پر ایمان لانے والے صحابہ کا درجہ پائیں گے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ’’جو کچھ اللہ تعالیٰ نے چاہا تھا اس کی تکمیل دو ہی زمانوں میں ہونی تھی۔ ایک آپؐ کا زمانہ‘‘ (یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ) ’’اور ایک آخری مسیح ومہدی کا زمانہ۔ یعنی ایک زمانے میں تو قرآن اور سچی تعلیم نازل ہوئی۔ لیکن اس تعلیم پر فَیج اَعْوج کے زمانہ نے پردہ ڈال دیا۔ جس پردہ کا اٹھایا جانا مسیح کے زمانہ میں مقدر تھا۔ جیسا کہ فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تو موجودہ جماعت یعنی جماعت صحابہ کرامؓ کا تزکیہ کیا اور ایک آنے والی جماعت کا جس کی شان میں

لَمَّا یَلْحَقُوْابِھِمْ

آیا ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے بشارت دی کہ ضلالت کے وقت اللہ تعالیٰ اس دین کو ضائع نہ کرے گا بلکہ آنے والے زمانہ میں خدا تعالیٰ حقائق قرآنیہ کو کھول دے گا۔ آثار میں ہے کہ آنے والے مسیح کی ایک یہ فضیلت ہو گی کہ وہ قرآنی فہم اور معارف کا صاحب ہو گا اور صرف قرآن سے استنباط کرکے لوگوں کو ان غلطیوں سے متنبہ کرے گا جو حقائق قرآن کی ناواقفیت سے لوگوں میں پیدا ہو گئی ہوں گی۔ (ملفوظات جلد 1صفحہ 40۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)
بہر حال جیسا کہ مَیں نے کہا اسلام کی اس قابل رحم حالت کو دیکھ کر دین کا درد رکھنے والے اللہ تعالیٰ کے حضور جھک کر یہ دعا مانگ رہے تھے کہ اس رَجُلِ فارس کو مبعوث فرما اور اس دین کی مدد کے لئے آ اور اس ڈولتی کشتی کو اس بھنور سے نکال۔ ان آہ و بکا کرنے والوں میں، اسلام کی اس ڈولتی کشتی کو ڈوبنے سے بچانے کی فکر کرنے والوں میں سب سے اوّل حضرت مرزا غلام احمد قادیانی ہی تھے جو اللہ تعالیٰ کے حضور بھی جھکتے ہوئے اپنی سجدہ گاہ کو اس فکر میں تر رکھ رہے ہوتے تھے کہ کاش وہ شخص جلد مبعوث ہو جو اسلام کو اس بھنور سے نکالے۔ اور آپ خود دلائل سے بھی ہر دشمنِ اسلام کا منہ بند کر رہے تھے۔ آپ کو یہ فکر تھی، ایک درد تھا، ایک غم تھا کہ کس طرح اسلام کی خوبیوں کو اس کے محاسن کو دنیا کے سامنے رکھا جائے۔ دنیا کو بتایا جائے کہ آج اگر اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کا عرفان دلانے والا کوئی مذہب ہے تو وہ اسلام ہی ہے۔ چنانچہ جب آپ نے براہین احمدیہ تصنیف فرمائی تو اس وقت کے علماء نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اسلام کی تائید میں خاص طور پر ایسے حالات میں جب اسلام پر ہر طرف سے تابڑ توڑ حملے ہو رہے ہیں۔ مسلمان کہلانے والے دوسرے مذہبوں کی گود میں گر رہے ہیں۔ آج تک کوئی ایسی تصنیف اسلام کے دفاع کے لئے سامنے نہیں آئی۔ (ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد اوّل صفحہ 172) بہر حال اس وقت جب آپ اسلام کے دفاع کے سلسلے میں دن رات ایک کئے ہوئے تھے نہ آپ کے علم میں تھا اور نہ ہی کسی اور کو خیال تھا کہ وہ رَجُلِ فارس جس نے ایمان کو ثریّا سے واپس لانا ہے وہ یہی جری اللہ ہے جس کا نام حضرت مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو تو پتہ تھا۔ اللہ تعالیٰ تو آپ کی تربیت ہی ایسے طریق پر کر رہاتھا۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں تو تھا کہ وہ جری اللہ یہی ہے جس کو مَیں نے مسیح موعود اور مہدی معہود بنانا ہے۔ اس کو تو علم تھا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشق صادق جس کی غیرت گوارا نہیں کرتی کہ اپنے محبوب کے بارے میں چھوٹی سی بھی کوئی بات جو آپ کے مقام کے مطابق نہ ہو اس کو سن سکے۔ اللہ تعالیٰ کو تو علم تھا کہ یہی وہ شخص ہے جو اسلام پر ہلکا سا بھی اعتراض سن لے تو اس کا دن کا سکون اور چین ختم ہو جاتا ہے اور اس کی راتوں کی نیند حرام ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو تو علم تھا کہ یہی میرا پیارا ہے جس کے دل میں میری اور میرے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اور اس آخری شریعت کی محبت اور غیرت کُوٹ کُوٹ کر بھری ہوئی ہے اور یہی اب اسلام کی خوبیوں اور اس کے محاسن کو دنیا کے کونے کونے میں پھیلائے گا اور اس کام کے لئے خدا تعالیٰ آپ کو تیار کر رہا تھا۔ بچپن سے ہی آپ کو بچوں والے کھیل کود کے مشاغل سے کوئی زیادہ تعلق نہیں تھا۔ کوئی ایسی دلچسپی نہیں تھی۔ پھر جوانی میں تو جیسا کہ مَیں نے کہا صرف نمازیں اور قرآن اور عبادات اور قرآن کریم پر غور فکر اور تدبّر ہی آپ کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ گویا خدا، قرآن اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ آپ کو کسی چیز سے کوئی غرض نہیں تھی۔ فکر تھی تو صرف یہ کہ خدا کے سچے دین اور اس کے سچے اور آخری نبی کی عظمت دنیا میں قائم ہو۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک رؤیا میں دکھایا کہ اب یہ عظمت دوبارہ تمہارے ذریعہ سے ہی قائم ہونی ہے۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ:’’اوائل ایام جوانی میں ایک رات میں نے رؤیا میں دیکھا کہ میں ایک عالی شان مکان میں ہوں جو نہایت پاک اور صاف ہے اور اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اور چرچا ہو رہا ہے۔ مَیں نے لوگوں سے دریافت کیا کہ حضور کہاں تشریف فرما ہیں ؟ انہوں نے ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا۔ چنانچہ مَیں دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر اس کے اندر چلا گیا اور جب میں حضور کی خدمت میں پہنچا تو حضور بہت خوش ہوئے اور آپ نے مجھے بہتر طور پر میرے سلام کا جواب دیا۔ آپ کا حسن و جمال اور ملاحت اور آپ کی پُرشفقت اور پُر محبت نگاہ مجھے اب تک یاد ہے اور وہ مجھے کبھی بھول نہیں سکتی۔ آپ کی محبت نے مجھے فریفتہ کر لیا اور آپ کے حسین و جمیل چہرہ نے مجھے اپنا گرویدہ بنا لیا۔ اس وقت آپ نے مجھے فرمایا کہ اے احمد تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا چیز ہے؟ جب میں نے اپنے دائیں ہاتھ کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ میرے ہاتھ میں ایک کتاب ہے اور وہ مجھے اپنی ہی ایک تصنیف معلوم ہوئی۔ میں نے عرض کیا۔ حضور یہ میری ایک تصنیف ہے۔ آپ نے پوچھا اس کتاب کا کیا نام ہے؟ تب میں نے حیران ہو کر کتاب کو دوبارہ دیکھا تو اسے اس کتاب کے مشابہ پایا جو میرے کتب خانے میں تھی اور جس کا نام قطبی ہے۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ اس کا نام قطبی ہے۔ فرمایا اپنی یہ کتاب قطبی مجھے دکھا۔ جب حضور نے اسے لیا تو حضور کا مبارک ہاتھ لگتے ہی وہ ایک لطیف پھل بن گیا جو دیکھنے والوں کے لئے پسندیدہ تھا۔ جب حضور نے اسے چیرا جیسے پھلوں کو چیرتے ہیں تو اس سے بہتے پانی کی طرح مصفّیٰ شہد نکلا اور اس طرح بہا کہ مَیں نے شہد کی طراوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنے ہاتھ پر انگلیوں سے کہنیوں تک دیکھی۔ اور شہد حضور کے ہاتھ سے ٹپک رہا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گویا اس لئے وہ مجھے دکھا رہے ہیں تا کہ مجھے تعجب میں ڈالیں۔ پھر میرے دل میں ڈالا گیا کہ دروازے کی چوکھٹ کے پاس ایک مردہ پڑا ہے جس کا زندہ ہونا اللہ تعالیٰ نے اس پھل کے ذریعہ سے مقدر کیا ہوا ہے اور یہی مقدر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو زندگی عطا کریں۔ مَیں اسی خیال میں تھا کہ دیکھا کہ اچانک وہ مردہ زندہ ہو کر دوڑتا ہوا میرے پاس آ گیا اور میرے پیچھے کھڑا ہو گیا مگر اس میں کچھ کمزوری تھی۔ گویا وہ بھوکا تھا تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور اس پھل کے ٹکڑے کئے اور ایک ٹکڑا ان میں سے حضور نے خود کھایا اور باقی سب مجھے دے دئیے۔ ان سب ٹکڑوں سے شہد بہہ رہا تھا اور فرمایا اے احمد اس مردہ کو ایک ٹکڑہ دے دو تا اسے کھا کر قوت پائے۔ میں نے دیا تو اس نے حریصوں کی طرح اس جگہ ہی اسے کھانا شروع کر دیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کرسی اونچی ہوگئی ہے حتی کہ چھت کے قریب جا پہنچی ہے اور مَیں نے دیکھا کہ اس وقت آپ کا چہرہ مبارک ایسا چمکنے لگا کہ گویا اس پر سورج اور چاند کی شعائیں پڑ رہی ہیں۔ مَیں آپ کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھ رہا تھا اور ذوق اور وجد کی وجہ سے میرے آنسو بہہ رہے تھے۔ پھر مَیں بیدار ہو گیا اور اس وقت بھی مَیں کافی رو رہا تھا۔ تب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ وہ مردہ شخص اسلام ہے اور اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فیوض کے ذریعہ سے اب میرے ہاتھ پر زندہ کرے گا اور تمہیں کیا پتا شاید یہ وقت قریب ہو اس لئے تم اس کے منتظر رہو اور اس رؤیا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اپنے پاک کلام سے، اپنے انوار سے اور اپنے باغ قدس کے پھلوں کے ذریعہ سے میری تربیت فرمائی تھی۔’‘ (ترجمہ از آئینہ کمالات اسلام، روحانی جلد 5 صفحہ 548-549)
تو اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے کو، سب سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو دنیا میں قائم کرنے کی تڑپ رکھنے والے کو یہ خوشخبری دی کہ اے میرے پیارے! اب یہ کام تمہارے سپرد ہی ہے کہ اسلام کی اس کشتی کو بحفاظت کنارے پہنچاؤ اور تمام دنیا کو اس کے سائے تلے لے آؤ۔ اب دنیا کی نجات اسی میں ہے اور اب جو کوئی بھی تمہارے مقابل کھڑا ہو گا وہ تمہارے سے نہیں بلکہ میرے سے لڑ رہا ہو گا اور جو تیرے ہاتھ میں ہاتھ دے گا، جو تیری تائید کرے گا، جو تیری جماعت میں داخل ہو گا وہ میرے ہاتھ میں ہاتھ دے گا اور یہی لوگ ہوں گے جو میرا قرب پانے والے ہوں گے۔
1888ء میں آپ نے ایک الہام کا ذکر فرمایا ہے کہ:’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ جو لوگ حق کے طالب ہیں وہ سچا ایمان اور سچی ایمانی پاکیزگی اور محبت مولیٰ کا راہ سیکھنے کے لئے اور گندی زیست اور کاہلانہ اور غدّارانہ زندگی کے چھوڑنے کے لئے مجھ سے بیعت کریں۔ پس جو لوگ اپنے نفسوں میں کسی قدر یہ طاقت پاتے ہیں انہیں لازم ہے کہ میری طرف آویں کہ مَیں اُن کا غمخوار ہوں گا اور اُن کا بار ہلکا کرنے کے لئے کوشش کروں گا۔ اور خداتعالیٰ میری دعا اور میری توجہ میں ان کے لئے برکت دے گا بشرطیکہ وہ ربّانی شرائط پر چلنے کے لئے بدل و جان تیار ہوں گے‘‘۔ (یہ شرط ہے کہ ربّانی شرائط پر چلنے کے لئے بدل و جان تیار ہوں۔)’’یہ ربّانی حکم ہے جو آج میں نے پہنچا دیا۔ اس بارہ میں عربی الہام یہ ہے۔

اِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ وَاصْنَعِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا۔ اَلَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللہَ یَدُ اللہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ‘‘

(سبز اشتہار، روحانی خزائن جلد 2صفحہ 470) کہ جب تُو عزم کر لے تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر اور ہمارے سامنے اور ہماری وحی کے ماتحت نظام جماعت کی کشتی تیار کر جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے۔ جو لوگ تمہارے ہاتھ پر بیعت کریں گے وہ دراصل خدا کے ہاتھ پر بیعت کریں گے اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ان کے ہاتھ پر ہو گا۔
پھر 1888ء میں ہی فرمایا: ’’اُس نے اس سلسلہ کے قائم کرنے کے وقت مجھے فرمایا کہ زمین میں طوفانِ ضلالت برپا ہے۔ تُو اس طوفان کے وقت میں یہ کشتی تیار کر۔ جو شخص اس کشتی میں سوار ہو گا وہ غرق ہونے سے نجات پا جائے گا اور جو انکار میں رہے گا اس کے لئے موت درپیش ہے۔ اور فرمایاکہ جو شخص تیرے ہاتھ میں ہاتھ دے گا اس نے تیرے ہاتھ میں نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہاتھ دیا‘‘۔ (فتح اسلام، روحانی خزائن جلد 3صفحہ 24-25)
پس اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق آپ نے یہ اعلان فرمایا کہ اب اگر کہیں سچائی مل سکتی ہے، آج اگر خدا تعالیٰ سے خدا تعالیٰ کی طرف لے جانے والے صحیح راستے کی تمہیں تلاش ہے، اگر تم خدا تعالیٰ تک پہنچنا چاہتے ہو، اگر تم اپنے ایمانوں کو مضبوط کرنا چاہتے ہو، اگر تم اپنے آپ کو پاک کرنا چاہتے ہو، اگر تمہارے دلوں میں یہ خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خالص محبت اپنے دلوں میں پیدا کرو اور اس دنیا کے گند سے اپنے آپ کو بچاؤ۔ اگر تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے باہر نکلو۔ اگر تم اپنی سستیاں دور کرنا چاہتے ہو تا کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرو تو تمہارے لئے ضروری ہے کہ میرے سلسلہ بیعت میں آؤ۔ مَیں تمہیں دھوکہ نہیں دے رہا۔ مَیں کسی شیطانی تدبیر کی وجہ سے یہ باتیں نہیں کر رہا۔ بلکہ مَیں تمہارا ایک پکا ہمدرد ہوں۔ سچا ہمدرد ہوں۔ مَیں تمہیں وہ راستے بتاؤں گا جو تمہارے گناہوں کا بوجھ ہلکا کریں گے۔ میں اس ہمدردی کی وجہ سے جو مجھے تمہارے سے ہے تمہارے لئے دعائیں کروں گا جو عرش پر انشاء اللہ تعالیٰ قبولیت کا درجہ پائیں گی اور اس وجہ سے خدا تعالیٰ تمہیں پاک کرے گا۔ تمہیں صاف کرے گا۔ تمہیں برکت دے گا۔ لیکن شرط یہ ہے کہ سچے دل سے میری طرف آؤ اور خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے کی کوشش کرو۔ یاد رکھو کہ یہ سب باتیں مَیں یونہی اپنے پاس سے نہیں کہہ رہا بلکہ خدا نے مجھ پر یہ وحی کی ہے اور مجھے بتایا ہے کہ تُو جو نظامِ جماعت کی کشتی تیار کرے گا۔ یہ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہو گا اس لئے خدا تعالیٰ اس کی حفاظت بھی کرے گا۔ ایسے خالص لوگوں کو خدا تعالیٰ کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ جو لوگ تیری بیعت کر رہے ہوں گے وہ تیرے ہاتھ میں ہاتھ دے کر تیری بیعت نہیں کر رہے ہوں گے بلکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ میری بیعت کر رہے ہوں گے اور ان کے ہاتھوں پر خدا کا ہاتھ ہو گا۔ یاد رکھیں جو ہاتھ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں آجائے اور جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے والوں کا ہاتھ ہو تو اس ہاتھ کی برکت سے وہ شخص کبھی ضائع نہیں ہوتا نہ اس کی نسلیں کبھی ضائع ہوتی ہیں۔ یہ خدا تعالیٰ کا مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے وعدہ ہے اور خدا تعالیٰ کی ذات سب سے زیادہ وعدوں کا پاس کرنے والی ہے۔
پس اگر اپنی زندگیاں چاہتے ہو اور اپنے آپ کو بھی اور اپنی نسلوں کو بھی خدا تعالیٰ کا قرب دلانا چاہتے ہو تو اس چشمے کی طرف آؤ جو خدا تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ پھر جاری فرمایا ہے ورنہ موت تمہارا مقدر ہے۔ اب اس روحانی موت سے تمہیں کوئی نہیں بچا سکتا سوائے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سلسلہ میں داخل ہونے کے۔
چنانچہ اس الٰہی حکم کے مطابق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے مارچ 1889ء میں بیعت لی اور اولین بیعت کرنے والوں کی فہرست بھی تیار ہوئی۔ (تاریخ احمدیت جلد اوّل صفحہ 339) بہرحال اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق نیک اور پاک دل لوگوں کی، ان لوگوں کی جن کے دل میں اسلام کا درد تھا، جو خالصۃً اسلام کی محبت میں اسلام کی عظمت دوبارہ قائم کرنا چاہتے تھے، وہ لوگ جن کی ذاتی اَنائیں نہیں تھیں وہ بیعت میں شامل ہوتے چلے گئے اور ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مطابق کہ بیعت لو اور ایسے لوگوں کی ایک کشتی تیار کرو وہ کشتی تیار ہوتی چلی گئی۔ اللہ تعالیٰ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دی گئی خوشخبریوں کے مطابق اس کشتی کو مضبوط سے مضبوط تر کرتا چلا گیا اور کوئی آندھی، کوئی طوفان، کوئی آفت جو اس کو ڈبونے کے لئے اٹھی تھی اس کا کچھ بھی نقصان نہ کر سکی بلکہ ہر مخالف لہر اور ہر طوفان کے بعد یہ کشتی مضبوط سے مضبوط دکھائی دی اور اس کشتی کے ہر سوار نے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش ذاتی طور پر اپنے اوپر برستے دیکھی ہے۔ آج آپ لوگ جو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں ان میں سے اکثریت انہی طوفانوں کی زد میں آئے ہوئے تھے جو آج کہیں کے کہیں پہنچے ہوئے ہیں اور مخالفین ہمیشہ اپنی ناکامیوں پر اپنی حسد کی آگ میں جلتے ہی چلے گئے۔ اور جیسا کہ مَیں نے کہا کہ ہر مخالفت کے بعد اللہ تعالیٰ کے بے انتہا فضلوں کی بارش ہوئی اور ہر طوفان کے بعد انہی لوگوں میں سے نیک فطرت لوگ جماعت میں شامل ہوتے چلے گئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اور یہ ہونا تھا اور یہ ہونا ہے۔ کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کی تقدیر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو پودا اپنے ہاتھ سے لگایا تھا اس نے بڑھنا ہے اور پھولنا ہے اور پھلنا ہے۔ یہی اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق جماعت احمدیہ کا مقدر ہے۔ کیونکہ یہ جماعت خدا تعالیٰ کے مامور کی جماعت ہے اور ہر دن جو نیا سورج چڑھتا ہے یا جو نیا سورج چڑھنا ہے اس نے اللہ تعالیٰ کی تائید کے نظارے ہی دکھانے ہیں اور نظارے دکھاتا ہے۔
جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ وحی ہوئی کہ

’’یَآ اَحْمَدُ بَارَکَ اللہُ فِیْکَ۔ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللہَ رَمیٰ۔ اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ۔ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّٓا اُنْذِرَ اٰبَٓاؤُھُمْ۔ وَلِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۔ قُلْ اِنِّیْٓ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔’‘

(براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد 1صفحہ 265) یعنی اے احمد! خدا نے تجھ میں برکت رکھ دی۔ جو کچھ تُو نے چلایا تُو نے نہیں چلایا بلکہ خدا نے چلایا۔ وہ خدا ہے جس نے تجھے قرآن سکھلایا یعنی اس کے حقیقی معنوں پر تجھے اطلاع دی تا کہ تُو ان لوگوں کو ڈرائے جن کے باپ دادے نہیں ڈرائے گئے اور تا کہ مجرموں کی راہ کھل جائے اور تیرے انکار کی وجہ سے ان پر حجت پوری ہو جائے۔ ان لوگوں کو کہہ دے کہ مَیں خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر آیا ہوں اور مَیں وہ ہوں جو سب سے پہلے ایمان لایا۔ (نصرت الحق۔ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 66)
تو جو تدبیر خدا تعالیٰ نے چلائی ہے اور قرآن کا جو علم خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دیا ہے اس کا کون مقابلہ کر سکتا ہے۔ ایسے لوگوں کا انجام ظاہر ہے کہ کیا ہو گا جو خدا کے مامور سے لڑتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم میں سے بہتوں نے اس زمانے میں بھی ایسے لوگوں کا بدانجام دیکھا ہے۔ جن کو حکومتوں پر زُعم تھا ان کی حکومتیں بھی ان کی کوئی مدد نہ کر سکیں۔ جن کو بادشاہتوں پر زُعم تھا ان کی بادشاہتیں بھی ان کی حفاظت نہیں کر سکیں۔ کسی کو اس کے قابل اعتماد جرنیل نے پھانسی پر چڑھا دیا۔ کسی کو اس کے قریبی عزیز نے قتل کر دیا۔ اور کسی کو تمام حفاظتی اقدامات ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے فضا میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے بکھیر دیا۔
اس کے علاوہ بھی مختلف ممالک میں بہت سے ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جہاں لوگوں کی ذلّت و رسوائی اور تباہی کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں جنہوں نے خدا کے مامور سے ٹکّر لینے کی کوشش کی، اس کی اہانت کرنے کی کوشش کی اور پھر ہر دشمن کا ایسا عبرتناک انجام ہوا جو ہمارے ایمانوں میں اضافہ کا باعث بنا۔ ہر ایک ملک میں احمدی جب یہ واقعات دیکھتے ہیں تو ان کے ایمانوں کو مزید تقویت پہنچتی ہے۔
یہ اللہ تعالیٰ کی سنّت ہے کہ اس کے پیاروں کی مخالفتیں بھی ہوتی ہیں اور ان کو تنگیاں بھی برداشت کرنی پڑتی ہیں اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جو اس بات کا سب سے زیادہ اِدراک رکھتے تھے کہ مامورین کی زندگیاں آرام سے نہیں گزرا کرتیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ جب یہ الہام ہوا تو مجھے جن باتوں کا فوری خیال آیا وہ یہ ہیں۔ فرمایا ’’اس وحی الٰہی کے (بعد) مجھے یہ فکر دامنگیر ہوا کہ ہر ایک مامور کے لئے سنت الٰہیہ کے موافق جماعت کا ہونا ضروری ہے تا وہ اس کا ہاتھ بٹائیں اور اس کے مددگار ہوں اور مال کا ہونا ضروری ہے تا دینی ضرورتوں میں جو پیش آتی ہیں خرچ ہو۔ اور سنّت اللہ کے موافق اعداء کا ہونا بھی ضروری ہے۔’‘(یعنی دشمنوں کا ہونا بھی ضروری ہے) ’’اور پھر اُن پر غلبہ بھی ضروری ہے تا ان کے شر سے محفوظ رہیں اور امرِ دعوت میں تاثیر بھی ضروری ہے تا سچائی پر دلیل ہو اور تا اس خدمتِ مفوّضہ میں ناکامی نہ ہو‘‘۔ (نصرۃ الحق، روحانی خزائن جلد 21صفحہ 67) تو دیکھ لیں الٰہی جماعتوں کے لئے جو باتیں ضروری ہیں وہ آج ہمیں جماعت احمدیہ کے علاوہ کہیں نظر نہیں آتیں۔ آپ کو الہام ہوا تو فکر ہوئی کہ اگر مَیں مامور ہوں تو مامورین کی جماعت ہوتی ہے۔ میرے پاس جماعت کہاں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جماعت دی اور ایسے مخلصین کی جماعت دی جنہوں نے قربانیوں کے بھی اعلیٰ معیار قائم کئے۔ جنہوں نے اپنی جانوں کے نذرانے خدا تعالیٰ کے حضور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں بھی پیش کئے اور آج تک پیش کئے جا رہے ہیں۔ دشمن ایک احمدی کو شہید کر کے سمجھتا ہے کہ گویا ہم نے احمدیت کو ختم کرنے کے سامان کر دئیے۔ ان عقل کے اندھوں کو پتا نہیں کہ احمدی کا تو خدا تعالیٰ کی اس خوشخبری پر ایمان ہے کہ ’’جو اس کی راہ میں جان دیتے ہیں وہ مردہ نہیں بلکہ زندوں سے بہتر ہیں’‘۔ وہ اللہ تعالیٰ کی دائمی جنتوں کے بھی وارث ہو گئے اور پھر یہ نظارے بھی ہمیں اللہ تعالیٰ نے دکھائے اور دکھاتا ہے کہ جب ایک احمدی شہید کیا جاتا ہے تو ہزاروں نیک روحوں کو اللہ تعالیٰ احمدیت کی آغوش میں ڈال دیتا ہے۔
پس کسی شہید کے خون کاایک قطرہ بھی اللہ تعالیٰ نے کبھی ضائع نہیں کیا۔ پس ہمیں جس چیز کا خیال رکھنا چاہئے وہ یہ ہے کہ یہ ظلم ہمارے ایمانوں میں کہیں کمزوری پیدا نہ کر دیں بلکہ ہمارے ایمانوں کو اور زیادہ مضبوط کرتے چلے جائیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے ایمان اور زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔
پھر الٰہی جماعتوں کی یہ نشانی ہے کہ ایسے مددگار ہوں جو مالی قربانیاں کرنے سے بھی دریغ نہ کریں۔ چنانچہ دیکھ لیں کہ آج رؤئے زمین پر صرف اور صرف حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ماننے والوں کی جماعت ہی ہے۔ اصل میں تو یہ بھی حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں کی جماعت ہے جس کی از سرِ نَوتربیت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کی جو خدا تعالیٰ کی خاطر اس کے دین کی سربلندی کی خاطر اپنا مال یوں قربان کرتے ہیں جیسے اس کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔ ہر تحریک پر لاکھوں کروڑوں کی قربانیاں احمدی اپنے پر بوجھ ڈال کر پیش کر دیتے ہیں۔ اب یہ مثال کہیں اور نظر نہیں آتی۔
پھر فرمایا کہ الٰہی جماعتوں کے لئے دشمنوں کا ہونا بھی ضروری ہے۔ یہ بھی ایک سچی جماعت ہونے کی نشانی ہے کہ اس کے دشمن ہوں۔ آج دیکھ لیں بحیثیت جماعت اگر کسی کی مخالفت ہے تو وہ جماعت احمدیہ کی ہے۔ آپس میں اگر جُوتَم پَیزار بھی ہو رہی ہو گی تو جہاں جماعت کا نام آئے گا،ان کی سب مخالفتیں ختم ہو جائیں گی اور سب ایک ہو جائیں گے۔ مسلمانوں کا ہر فرقہ اور ہر مذہب اس لئے جماعت احمدیہ کامخالف ہے کہ جماعت سے وہ خوفزدہ ہیں کہ یہ سچ پر قائم ہے اور یہ دلائل سے ہم پر فتح پا لیں گے۔ کیونکہ براہین اور دلائل کا جو خزانہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں عطا فرمایا ہے جیسا کہ الہام میں بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ کو قرآن کا علم دیا گیا ہے۔ اور قرآنی علم کے مقابلہ پر کوئی بھی علم نہیں ٹھہر سکتا اور یہ ثابت ہے کہ جب دلائل سے بات کرنی ہو تو نہ کوئی عیسائی عالم احمدیوں سے مقابلہ کر سکتا ہے اور کنّی کترانے کی کوشش کرتا ہے۔ کئی واقعات افریقہ میں بھی ہوئے کہ پادریوں نے اپنے لوگوں کو کہا کہ اگر یہ شخص احمدی ہے، (حالانکہ بعض افریقن احمدیوں کو جو نئے احمدی ہوئے ہوئے ہیں ان کا اتنا علم بھی نہیں ہوتا لیکن پادریوں نے لوگوں کو کہا ہوا ہے اور پادریوں کو بھی کہا ہوا ہے کہ اگر یہ شخص احمدی ہے) تو اس سے کوئی مقابلہ نہیں کرنا، کوئی بحث نہیں کرنی۔ اور نہ ان نام نہاد مولویوں میں سے کسی میں اتنی جرأت ہے کہ احمدیت کا مقابلہ دلائل سے کریں اور نہ اس کی کوئی کوشش کرتا ہے۔ صرف اس لئے کہ ان کے پاس دلیل نہیں ہے اور جب دلیل نہیں ہوتی تو پھر مار دھاڑ، گالی گلوچ اور قتل و غارت اور غلیظ زبان کا استعمال شروع ہو جاتا ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس بڑی دلیلیں ہیں۔ جب دلیلیں ہیں تو پھر احمدیوں پر ظلم کیوں کیا جاتا ہے؟ احمدیوں کو مارا کیوں جاتا ہے؟ آج کیوں پاکستان میں احمدیوں کو تبلیغ کرنے کی کھلی چھٹی نہیں دیتے؟ کیوں پی ٹی وی (PTV) پہ اور ریڈیو پہ اور مساجد میں ہمیں اجازت نہیں دیتے کہ ہم اپنی تعلیم کو دنیا کو بتائیں ؟ کیوں ہمیں ربوہ میں جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دیتے؟ یہ صرف اس لئے کہ ان کے پاس دلائل نہیں اور دلائل کے آگے ان کے پاس جو چیز ہے وہ سوائے گالیوں اور غلاظتوں اور ظلم کے اور کچھ نہیں جس کو وہ استعمال کرتے ہیں۔ تو یہ دلیل ہے۔
جھوٹے کی نشانی ہی یہی بتائی گئی ہے کہ دلیل نہ ہو تو ظلم پر، مار دھاڑ پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ پس ان لوگوں نے اپنا جھوٹا ہونا خود ہی ثابت کر دیا ہے اور آپ خوش قسمت ہیں کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو اس جماعت میں شامل ہونے کی توفیق دی جس کی بنیاد خود خدا تعالیٰ نے رکھی۔ خدا تعالیٰ نے آپ کو ان خوش قسمت لوگوں میں شامل ہونے کی توفیق دی جنہوں نے اس زمانے کے امام کو پہچانا۔ اس امام کو جس نے ایمان کو ثریّا سے زمین پر لانا تھا اس امام کو جس نے آخرین کو اوّلین کے ساتھ ملانا تھا۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :
’’منجملہ ان دلائل کے جو اِس بات پر دلالت کرتی ہیں جو آنے والا جس کا اِس اُمّت کے لئے وعدہ دیا گیا ہے وہ اسی اُمّت میں سے ایک شخص ہوگا، بخاری اور مسلم کی وہ حدیث ہے جس میں

اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ اور اَمَّکُمْ مِنْکُمْ

لکھا ہے۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ وہ تمہارا امام ہوگا اور تم ہی میں سے ہوگا۔ چونکہ یہ حدیث آنے والے عیسیٰ کی نسبت ہے اور اُسی کی تعریف میں اِس حدیث میں حَکَم اور عَدَل کا لفظ بطور صفت موجود ہے جو اس فقرہ سے پہلے ہے اس لئے امام کا لفظ بھی اسی کے حق میں ہے۔ اور اس میں کچھ شک نہیں کہ اس جگہ مِنْکُمْ کے لفظ سے صحابہ کو خطاب کیا گیا ہے اور وہی مخاطب تھے۔ لیکن ظاہر ہے کہ ان میں سے تو کسی نے مسیح موعود ہونے کا دعوی نہیں کیا۔ اس لئے مِنْکُمْ کے لفظ سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو خدا تعالیٰ کے علم میں قائم مقام صحابہ ہے اور وہ وہی ہے جس کو اِس آیت مفصّلہ ذیل میں قائم مقام صحابہ کیا گیا ہے۔ یعنی یہ کہ

وَاٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ (الجمعہ4:)۔

کیونکہ اس آیت نے ظاہر کیا ہے کہ وہ رسول کریمؐ کی روحانیت سے تربیت یافتہ ہے اور اسی معنی کے رُو سے صحابہ میں داخل ہے۔ اور اِس آیت کی تشریح میں یہ حدیث ہے

لَوْکَانَ الْاِیْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثُّرَیَّا لَنَالَہٗ رَجُلٌ مِنْ فَارِس۔

اور چونکہ اس فارسی شخص کی طرف وہ صفت منسوب کی گئی ہے جو مسیح موعود اور مہدی سے مخصوص ہے یعنی زمین جو ایمان اور توحید سے خالی ہو کر ظلم سے بھر گئی ہے پھر اس کو عدل سے پُر کرنا۔ لہٰذایہی شخص مہدی اور مسیح موعود ہے اور وہ مَیں ہوں۔ اور جس طرح کسی دوسرے مدّعی مہدویت کے وقت میں کسوف خسوف رمضان میں آسمان پر نہیں ہوا۔ ایسا ہی تیرہ سو برس کے عرصہ میں کسی نے خدا تعالیٰ کے الہام سے علم پاکر یہ دعویٰ نہیں کیا کہ اس پیشگوئی

لَنَالَہٗ رَجُلٌ مِّنْ فَارِسَ

کا مصداق مَیں ہوں۔ اور پیشگوئی اپنے الفاظ سے بتلا رہی ہے کہ یہ شخص آخری زمانہ میں ہوگا جب کہ لوگوں کے ایمانوں میں بہت ضُعف آجائے گا۔ اور فارسی الاصل ہوگا۔ اور اس کے ذریعہ سے زمین پر دوبارہ ایمان قائم کیا جائے گا۔ اور ظاہر ہے کہ صلیبی زمانہ سے زیادہ تر ایمان کو صدمہ پہنچانے والا اور کوئی زمانہ نہیں’‘۔ (یعنی عیسائیت کا جو زمانہ ہے جب تبلیغ ہو رہی ہے) ’’یہی زمانہ ہے جس میں کہہ سکتے ہیں کہ گویا ایمان زمین پر سے اٹھ گیا جیسا کہ اِس وقت لوگوں کی عملی حالتیں اور انقلابِ عظیم جو بدی کی طرف ہوا ہے اور قیامت کے علاماتِ صُغریٰ جو مدّت سے ظہور میں آچکی ہیں صاف بتلا رہی ہیں۔ اور نیز آیت

وَاٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ

میں اشارہ پایا جاتا ہے کہ جیسے صحابہ کے زمانہ میں زمین پر شرک پھیلا ہوا تھا ایسا ہی اس زمانہ میں بھی ہوگا۔ اور اس میں کچھ شک نہیں کہ اس حدیث اور اس آیت کو باہم ملانے سے یقینی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ پیشگوئی مہدیٔ آخر الزمان اور مسیح آخر الزمان کی نسبت ہے۔ کیونکہ مہدی کی تعریف میں یہ لکھا ہے کہ وہ زمین کو عدل سے بھر دے گا جیسا کہ وہ ظلم اور جَور سے بھری ہوئی تھی۔ اور مسیح آخرالزمان کی نسبت لکھا ہے کہ وہ دوبارہ ایمان اور امن کو دنیا میں قائم کر دے گا اور شرک کو محو کر ے گا اورمِلَلِ باطلہ کو ہلاک کر دے گا۔ پس اِن حدیثوں کا مآل بھی یہی ہے کہ مہدی اور مسیح کے زمانہ میں وہ ایمان جو زمین پر سے اٹھ گیا اور ثریّا تک پہنچ گیا تھا پھر دوبارہ قائم کیا جائے گا۔ اور ضرور ہے کہ اوّل زمین ظلم سے پُر ہو جائے۔ اور ایمان اٹھ جائے۔ کیونکہ جبکہ لکھا ہے کہ تمام زمین ظلم سے بھر جائے گی تو ظاہر ہے کہ ظلم اور ایمان ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔ ناچار ایمان اپنے اصلی مَقَرّ کی طرف جو آسمان ہے چلا جائے گا۔ غرض تمام زمین کا ظلم سے بھرنا اور ایمان کا زمین پر سے اٹھ جانا اس قسم کی مصیبتوں کا زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے بعد ایک ہی زمانہ ہے جس کو مسیح کا زمانہ یا مہدی کا زمانہ کہتے ہیں’‘۔ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد 17صفحہ 114 تا 116)
پس ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم نے مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا زمانہ پایا اور اس رَجُلِ فارس کی جماعت میں شامل ہو گئے جس نے آخرین کو پہلوں سے ملایا۔ اور جب تک ہم میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم کے مطابق اپنی اصلاح کی طرف توجہ دینے کی عادت رہے گی ہم توجہ دیتے رہیں گے۔ جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ ’’تمہارے معاملات خدا اور خَلق کے ساتھ ایسے ہونے چاہئیں جن میں رضائے الٰہی مطلق ہی ہو‘‘ یعنی مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی رضا ہونی چاہئے۔ ’’پس اس سے تم نے

وَ اٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ ….. (الجمعہ:4)

کے مصداق بننا ہے۔’‘(ملفوظات جلد 1صفحہ 46۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)
پس جب تک اس ارشاد پر عمل کرتے رہیں گے، اپنی اصلاح بھی کرتے رہیں گے اور اپنے ایمانوں کو مضبوط بھی کرتے رہیں گے۔ ہمیشہ کی طرح اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی تائیدات سے نوازتا رہے گا اور کبھی کوئی دشمن ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ انشاء اللہ۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے جو وعدے کئے، جو خوشخبریاں دیں انہیں ہم نے پورے ہوتے بھی دیکھا اور آئندہ بھی دیکھتے رہیں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ ضرورت ہے تو اس بات کی کہ ہم ثابت قدم رہتے ہوئے اپنے ایمانوں پر قائم رہیں۔
اس وقت میرے پاس کچھ الہام ہیں جو آج سے سو سال پہلے 1904ء کے الہامات ہیں، ان کا مَیں یہاں ذکر کروں گا۔
یکم جون 1904ء کو الہام ہوا کہ

’’اِنِّیْٓ اَنَا الرَّحْمٰنُ سَاَجْعَلُ لَکَ سُھُوْلَۃً فِی أَمْرِکَ۔ اِنِّیْٓ اَنَا التَّوَّابُ۔ مَنْ جَآءَ کَ جَآءَ نِیْ۔ وَلَقَدْ نَصَرَکُمُ اللہُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّۃٌ۔ سَلَامٌ عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ۔ عَفَتِ الدِّیَارُ مَحَلُّھَا وَ مُقَامُھَا‘‘۔

یعنی مَیں ہی رحمان ہوں۔ مَیں تیرے لئے تیرے کام میں سہولت پیدا کروں گا۔ مَیں ہی ہوں توبہ قبول کرنے والاہوں۔ جو تیرے پاس آیا وہ میرے پاس آیا۔ اللہ تعالیٰ نے تم کو بدر میں مدد دی اس حالت میں کہ تم بہت کمزور تھے۔ تمہارے لئے سلامتی ہے۔ تم خوش رہو۔ عارضی رہائش کے مکانات بھی مٹ جائیں گے اور مستقل رہائش کے بھی۔ (تذکرہ صفحہ 432ایڈیشن چہارم)
پس وہ رحمان خدا جس نے ہمیشہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کاموں میں سہولت پیدا کی، آپ کے کام آسان کئے، دشمنوں کو مایوس کیا، ان کی تدبیریں ان پر ہی الٹا دیں۔ آج بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کئے ہوئے وعدے کو پورا کر رہا ہے اور آئندہ بھی انشاء اللہ کرتا رہے گا۔
پس خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو آپ کی جماعت میں شامل ہوئے اور اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کی۔ جیسا کہ مَیں نے پہلے بھی کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کے مطابق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت پر ہر نیا دن ترقیات کے ساتھ چڑھاتا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ ان پیشگوئیوں کے مطابق چڑھاتا رہے گا۔ اس لئے کبھی کوئی احمدی، کوئی کم تربیت یافتہ احمدی، کسی منافق کی باتوں میں آ کر ٹھوکر نہ کھائے۔ دشمنوں کی دشمنی کسی کے قدموں کو ہلا نہ دے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے، اس کے وعدوں پر یقین رکھتے ہوئے، اس کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے، اپنے ایمانوں کو مضبوط سے مضبوط تر کرتے چلے جائیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیشگوئی کے مطابق نظام قدرت ثانیہ بھی یعنی نظام خلافت بھی آپ کے دَور کا ہی تسلسل ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ آپ کے وقت کی برکات آپ کے ادنیٰ غلاموں کے دَور میں بھی ملتی رہیں گی بشرطیکہ ہم تقویٰ پر قائم رہیں۔ اور دشمن ہمیشہ اپنی آگ میں ہی جلتا چلا جائے گا۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام

نَصَرَکُمُ اللہُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّۃٌ۔

کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ: ’’دیکھو کہ صحابہؓ کو بدر میں نصرت دی گئی اور فرمایا گیا کہ یہ نصرت ایسے وقت میں دی گئی جبکہ تم تھوڑے تھے۔ اس بدر میں کفر کا خاتمہ ہو گیا۔ بدر پر ایسے عظیم الشان نشان کے اظہار میں آئندہ کی بھی ایک خبر رکھی گئی تھی۔ اور (وہ) یہ کہ بدر چودھویں کے چاند کو بھی کہتے ہیں۔ اس سے چودھویں صدی میں اللہ تعالیٰ کی نصرت کے اظہار کی طرف بھی ایماء ہے۔’‘(یعنی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس زمانے کی طرف بھی۔) ’’اور یہ چودھویں صدی وہی صدی ہے جس کے لئے عورتیں تک کہتی تھیں کہ چودھویں صدی خیر و برکت کی آئے گی۔ خدا کی باتیں پوری ہوئیں اور چودھویں صدی میں اللہ تعالیٰ کے منشاء کے موافق اس میں احمد کا بروز ہوا اور وہ مَیں ہوں جس کی طرف اس واقعہ بدر میں پیشگوئی تھی۔ جس کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کہا۔ مگر افسوس کہ جب وہ دن آیا اور چودھویں کا چاند نکلا تو دوکاندار، خود غرض کہا گیا‘‘۔ (یعنی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو یہ کہا گیا کہ دوکانداری چمکا رہے ہیں اور خود غرضی کر رہے ہیں۔) ’’افسوس اُن پر جنہوں نے دیکھا اور نہ دیکھا۔ وقت پایا اور نہ پہچانا‘‘۔ (یعنی جنہوں نے دیکھا اور پھر آنکھیں بند کر لیں جس طرح کہ گویا دیکھا ہی نہیں اور وہ وقت پایا جو مسیح موعود کا وقت تھا اور پھر نہ پہچانا۔) ’’وہ مر گئے جو منبروں پر چڑھ چڑھ کر رویا کرتے تھے کہ چودھویں صدی میں یہ ہو گا۔ اور وہ رہ گئے جو اَب منبروں پر چڑھ کر کہتے ہیں کہ جو آیا ہے وہ کاذب ہے۔ ان کو کیا ہو گیا۔ یہ کیوں نہیں دیکھتے اور کیوں نہیں سوچتے۔ اس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے بدر ہی میں مدد کی تھی۔ اور وہ مدد اَذِلَّۃ کی مدد تھی۔ جس وقت 313آدمی صرف میدان میں آئے تھے اور کُل دو تین لکڑی کی تلواریں تھیں اور ان 313 میں زیادہ تر چھوٹے بچے تھے۔ اس سے زیادہ کمزوری کی حالت کیا ہو گی۔ اور دوسری طرف ایک بڑی بھاری جمعیت تھی اور وہ سب کے سب چیدہ چیدہ جنگ آزمودہ اور بڑے بڑے جوان تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ظاہری سامان کچھ نہ تھا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جگہ پر دعا کی۔

اَللّٰھُمَّ اِنْ اَھْلَکْتَ ھٰذِہِ الْعِصَابَۃَ لَنْ تُعْبَدَ فِی الْاَرْضِ اَبَدًا۔

یعنی اے اللہ! اگر آج تُو نے اس جماعت کو ہلاک کر دیا پھر کوئی تیری عبادت کرنے والا نہ رہے گا۔ سنو! مَیں بھی یقیناً اسی طرح کہتا ہوں کہ آج وہی بدر والا معاملہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح ایک جماعت تیار کر رہا ہے۔ وہی بدر اور اَذِلَّۃٌ کا لفظ موجود ہے۔ کیا یہ جھوٹ ہے کہ اسلام پر ذلّت نہیں آئی؟ نہ سلطنت ظاہری میں شوکت ہے۔ ایک یورپ کی سلطنت منہ دکھاتی ہے تو بھاگ جاتے ہیں اور کیا مجال ہے جو سر اٹھائیں’‘۔ (اب دیکھیں اسلامی ممالک پہ امریکہ نے ایک قبضہ کیا ہوا ہے اور کچھ کہہ نہیں سکتے۔) ’’اس ملک کا حال کیا ہے؟ کیا اَذِلَّۃٌ نہیں ہیں ؟ ہندو بھی اپنی طاقت میں مسلمانوں سے بڑھے ہوئے ہیں۔ کوئی ایک ذلّت ہے۔ جس میں ان کا نمبر بڑھا ہوا ہے۔ جس قدر ذلیل سے ذلیل پیشے ہیں وہ ان میں پاؤ گے۔ ٹکّر گدا مسلمان ہی ملیں گے‘‘ (یعنی ہر وقت مانگتے ہوئے مسلمان ہی ملیں گے)۔ ‘’جیل خانوں میں جاؤ تو جرائم پیشہ گرفتار مسلمان ہی پاؤ گے۔ شراب خانوں میں جاؤ کثرت سے مسلمان (ملیں گے)۔ اب بھی کہتے ہیں ذلّت نہیں ہوئی۔ کروڑہا ناپاک اور گندی کتابیں اسلام کے ردّ میں تالیف کی گئیں’‘۔ (کوشش ہے تو صرف یہ کہ احمدیوں کو کسی طرح کافر کہلایا جائے۔ یہ جو اسلام کے ردّ میں کتابیں تالیف کی گئی ہیں کبھی کسی میں جرأت نہیں ہوئی کہ ان کا جواب دے۔ جماعت احمدیہ تو ان کے جواب دے رہی ہے۔ یہ سوائے احمدیوں کو گالیاں دینے کے اور کچھ نہیں کر سکتے۔ فرمایا کہ)’’ہماری قوم میں مغل سیّد کہلانے والے اور شریف کہلانے والے عیسائی ہو کر اسی زبان سے سیّد المعصومین خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کو کوسنے لگے۔ صفدر علی اور عماد الدین وغیرہ کون تھے؟ اُمّہات المومنین کا مصنّف کون ہے؟ جس پر اس قدر واویلا اور شور مچایا گیا‘‘۔ (پھر اس زمانے میں رشدی کون ہے)۔ ‘’اور آخر کچھ بھی نہ کر سکے۔ اس پر بھی کہتے ہیں کہ ذلّت نہیں ہوئی۔ کیا تم تب خوش ہوتے کہ اسلام کا اتنا رہا سہا نام بھی باقی نہ رہتا۔ تب محسوس کرتے کہ ہاں اب ذلّت ہوئی ہے؟ آہ! مَیں تم کو کیونکر دکھاؤں جو اسلام کی حالت ہو رہی ہے۔ دیکھو مَیں پھر کھول کر کہتا ہوں کہ یہی بدر کا زمانہ ہے۔ اسلام پر ذلّت کا وقت آ چکا ہے۔ مگر اب خدا نے چاہا ہے کہ اس کی نصرت کرے۔ چنانچہ اس نے مجھے بھیجا ہے کہ مَیں اسلام کو براہین اور حُجج ساطعہ کے ساتھ تمام ملّتوں اور مذہبوں پر غالب کر کے دکھاؤں۔ اللہ تعالیٰ نے اس مبارک زمانہ میں چاہا ہے کہ اس کا جلال ظاہر ہو۔ اب کوئی نہیں جو اس کو روک سکے‘‘۔ (ملفوظات جلد 2صفحہ 190 تا 192۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)
پس آپ لوگ جنہوں نے اس زمانے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مانا، آپ کی شناخت کی، آپ کی بیعت میں داخل ہوئے۔ یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ دنیا کو یہ پیغام پہنچائیں کہ جو مسیح آنے والا تھا، جو مہدی آنے والا تھا وہ آ چکا۔ مسلمانوں کو خاص طور پر یہ پیغام پہنچائیں جو پہنچا سکتے ہیں اور یا کم از کم ان کے لئے دعائیں تو ہم کر سکتے ہیں۔ ان کے لئے دعائیں ہی کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس گند سے، اس غلاظت سے، اس لغویات سے نکالے اور اپنی شناخت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
پھر مئی 1904ء آج سے ایک سو سال پہلے کا الہام ہے۔

‘’کَتَبَ اللہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ‘‘۔

کہ خدا نے لکھ چھوڑا ہے کہ مَیں اور میرا رسول غالب رہیں گے۔ (تذکرہ صفحہ 431ایڈیشن چہارم)
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام

کَتَبَ اللہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ

کے بارے میں فرماتے ہیں کہ
’’یہ خدا تعالیٰ کی سنّت ہے اور جب سے کہ اس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہمیشہ اس سنّت کو وہ ظاہر کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے اور ان کو غلبہ دیتا ہے۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔

کَتَبَ اللہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ (المجادلہ:22)۔

اور غلبہ سے مراد یہ ہے کہ جیسا کہ رسولوں اور نبیوں کا یہ منشاء ہوتا ہے کہ خدا کی حجّت زمین پر پوری ہو جائے اور اس کا مقابلہ کوئی نہ کر سکے‘‘ (مطلب دلائل ایسے ہونے چاہئیں)۔ ’’اسی طرح خدا تعالیٰ قوی نشانوں کے ساتھ اس کی سچائی ظاہر کر دیتا ہے اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتا ہے اس کی تخم ریزی انہیں کے ہاتھ سے کر دیتا ہے‘‘۔ (رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلد 20صفحہ 304)
پس آج ہم میں سے ہر ایک دیکھتا ہے اور ہر ایک کو نظر آ رہا ہے کہ دلائل میں کوئی بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دئیے ہوئے دلائل کا مقابلہ نہیں کر سکا۔
پھر جون 1904ء کا ایک الہام ہے۔ وہ مئی کا تھا یہ جون میں دوبارہ ہوا۔

‘’کَتَبَ اللہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ۔ کَمِثْلِکَ دُرٌّ لَّا یُضَاعُ۔ لَا یَأْتِیْ عَلَیْکَ یَوْمُ الْخُسْرَانِ۔

(ضمیمہ حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22صفحہ 702) کہ خدا نے لکھ چھوڑا ہے کہ مَیں اور میرے رسول غالب رہیں گے۔ تیرے جیسا موتی ضائع نہیں ہو گا۔ تجھ پر گھاٹے کا دن نہیں آئے گا۔
پس دوبارہ یہ الہام ہوا اور اللہ تعالیٰ نے غلبہ کی خوشخبری دے کر یہ بھی تسلی دی کہ تیرے جیسا موتی ضائع نہیں ہوتا اور نہ کبھی ہو گا۔ تُو جو سب سے زیادہ میرے اور میرے رسول سے محبت کرنے والا ہے کس طرح ضائع ہوسکتا ہے اور دشمن چاہے جتنا بھی زور لگا لے آخر فتح تیری ہے اور دشمن کے مقدر میں ذلیل ہونا لکھا ہے اور یہی اس کا انجام ہے وہ اس انجام کو انشاء اللہ پہنچے گا۔
پھر آپ فرماتے ہیں ‘’خدا تعالیٰ اپنے بندوں کا حامی ہو جاتا ہے۔ دشمن چاہتے ہیں کہ ان کو نیست و نابود کر دیں مگر وہ روز بروز ترقی پاتے ہیں اور اپنے دشمنوں پر غالب آتے جاتے ہیں۔ جیسا کہ اس کا وعدہ ہے

کَتَبَ اللہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ

یعنی خدا تعالیٰ نے لکھ دیا ہے کہ مَیں اور میرے رسول ضرور غالب رہیں گے‘‘۔ (البدر مورخہ 24 اپریل 1903ء صفحہ 107جلد 2نمبر 14)
فرمایا’’مَیں بڑے دعوے اور استقلال سے کہتا ہوں کہ مَیں سچ پر ہوں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اس میدان میں میری ہی فتح ہے۔ اور جہاں تک مَیں دُوربِین نظر سے کام لیتا ہوں تمام دنیا اپنی سچائی کے تحتِ اقدام دیکھتا ہوں۔ اور قریب ہے کہ مَیں ایک عظیم الشان فتح پاؤں کیونکہ میری زبان کی تائید میں ایک اَور زبان بول رہی ہے اور میرے ہاتھ کی تقویت کے لئے ایک اور ہاتھ چل رہا ہے جس کو دنیا نہیں دیکھتی مگر مَیں دیکھ رہا ہوں۔ میرے اندر ایک آسمانی روح بول رہی ہے جو میرے لفظ لفظ اور حرف حرف کو زندگی بخشتی ہے اور آسمان پر ایک جوش اور اُبال پیدا ہوا ہے جس نے ایک پُتلی کی طرح اس مُشتِ خاک کو کھڑا کر دیا ہے۔ ہر یک وہ شخص جس پر توبہ کا دروازہ بند نہیں عنقریب دیکھ لے گا کہ مَیں اپنی طرف سے نہیں ہوں۔ کیا وہ آنکھیں بِینا ہیں جو صادق کو شناخت نہیں کرسکتیں۔ کیا وہ بھی زندہ ہے جس کو اس آسمانی صدا کا احساس نہیں ؟(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد 3صفحہ 403)
پھر 22؍اپریل (1904ء) کا ایک الہام ہے۔

‘’اِنَّ اللہَ حَافِظُ کُلِّ شَیْءٍ۔ اُذْکُرْ عَلَیْکَ نِعْمَتِیْ غَرَسْتُ لَکَ بِیَدِیْ رَحْمَتِیْ وَقُدْرَتِیْ۔ (تذکرہ صفحہ 428ایڈیشن چہارم)۔

یقیناً اللہ ہر چیز کی حفاظت کرتا ہے۔ یاد کر میری نعمت کہ جو مَیں نے تجھ پر کی۔ میں نے تیرے لئے اپنے ہاتھ سے اپنی رحمت اور اپنی قدرت کا درخت لگایا۔
یہ جو الفاظ ہیں

اُذْکُرْ عَلَیْکَ نِعْمَتِیْ غَرَسْتُ لَکَ بِیَدِیْ رَحْمَتِیْ وَقُدْرَتِیْ۔

یہ الہام بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی ایک انگوٹھی میں کندہ کروایا تھا اور آپ کی وفات کے بعد یہ انگوٹھی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو آپ کے دوسرے بیٹے تھے، منجھلے بیٹے تھے، ان کے حصے میں آئی تھی۔ (ماخوذ از تذکرہ صفحہ 428ایڈیشن چہارم) ایک

اَلَیْسَ اللہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ۔ ایک اُذْکُرْ عَلَیْکَ نِعْمَتِیْ غَرَسْتُ لَکَ بِیَدِیْ رَحْمَتِیْ وَقُدْرَتِیْ

اور ایک مولا بس۔ تین انگوٹھیاں تھیں جو تینوں بیٹوں کے حصوں میں آئیں۔
پھر حضرت مسیح موعود سے کئے گئے وعدے کے مطابق جو اس الہام میں کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ آپ کی جماعت پر بھی بے شمار نعمتیں اتار رہا ہے، اتارتا رہا ہے اور انشاء اللہ آئندہ بھی اتارتا رہے گا کیونکہ یہ پودہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مَیں نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی قدرت کے نئے نئے پھل ہر روز ہمیں ملتے رہیں گے اور ملتے رہتے ہیں۔ پس ہمارا یہ کام ہے کہ ہم اس کے حکموں پر عمل کرتے ہوئے ان رحمتوں کو سمیٹنے والے بنیں۔
پھر (12) جون (1904ء)کا ایک الہام ہے:

’’اٰتَیْتُکُمْ کُلَّ نَعِیْمٍ۔ اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَھُمْ مَغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیْمٌ۔’‘ (تذکرہ صفحہ 433ایڈیشن چہارم)

کہ مَیں نے تم کو ہر قسم کی نعمتیں دی ہیں۔ جن لوگوں نے تقویٰ اختیار کیا اور وہ جو ایمان لائے ان کے لئے بخشش اور باعزت رزق ہے۔
پس جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ ان نعمتوں کا حصول تقویٰ پر قائم رہنے والوں کے لئے ہے۔ اس کے لئے کوشش کریں اور کبھی کسی احمدی سے کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث بنے۔ فرمایا کہ ’’ہر قسم کی تمہیں نعمتیں دی ہیں جن لوگوں نے تقویٰ اختیار کیا اور جو ایمان لائے ہیں وہی ان نعمتوں سے فائدہ اٹھائیں گے اور انہی کے لئے بخشش کے بھی سامان ہیں’‘ اس لئے حالات کا بہتر ہونا کہیں تقویٰ سے دور لے جانے والا نہ بن جائے۔
پھر (21) جون 1904ء کا الہام ہے:

‘’اَنَا الرَّحْمٰنُ فَاطْلُبْنِیْ تَجِدْنِیْ‘‘۔ (تذکرہ صفحہ 434ایڈیشن چہارم)

مَیں رحمان خدا ہوں تُو مجھے تلاش کرے گا تو پا لے گا۔
پس ہم میں سے ہر ایک کا کام ہے کہ خدا تعالیٰ کو پانے کے لئے دعاؤں سے کام لیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکیں اور اس سے اس کی بخشش اور مغفرت طلب کریں۔ یاد رکھیں کہ بدر کی کامیابی میں ان دعاؤں کا بھی بہت بڑا حصہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خیمے میں بیٹھ کر کی تھیں۔ پس رحمان خدا کو پانے کے لئے اس کی طرف جانے کی ضرورت ہے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :
’’ہمارے غالب آنے کے ہتھیار استغفار، توبہ، دینی علوم کی واقفیت، خدا تعالیٰ کی عظمت کو مدّنظررکھنا اور پانچوں وقت کی نمازوں کو ادا کرنا ہیں۔ نماز دعا کی قبولیت کی کنجی ہے۔ جب نماز پڑھوتو اس میں دعا کرو اورغفلت نہ کرو۔ اور ہرایک بدی سے خواہ وہ حقوق الٰہی کے متعلق ہو خواہ حقوق العباد کے متعلق ہو، بچو۔’‘(ملفوظات جلد 5صفحہ 303۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)
پھر جولائی کا ایک الہام ہے۔ ’’مبارک سو مبارک۔ آسمانی تائیدیں ہمارے ساتھ ہیں۔

اَجْرُکَ قَائِمٌ وَذِکْرُکَ دَائِمٌ‘‘۔ (تذکرہ صفحہ435ایڈیشن چہارم)۔

اس عربی عبارت کا مطلب یہ ہے کہ تیرا اجر ثابت ہے اور تیرا ذکر دائم رہنے والا ہے، ہمیشہ رہنے والا ہے۔
پس ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اس پیارے کی جماعت میں ہیں جس کے ساتھ آسمانی تائیدات ہیں اور اس نے انشاء اللہ تعالیٰ تمام دنیا پر غالب ہونا ہے۔
آپ فرماتے ہیں :
’’یہ مت خیال کرو کہ خدا تمہیں ضائع کر دے گا۔ تم خدا کے ہاتھ کا ایک بیج ہو جو زمین میں بویا گیا۔ خدا فرماتا ہے کہ یہ بیج بڑھے گا اور پھولے گا اور ہر ایک طرف سے اس کی شاخیں نکلیں گی اور ایک بڑا درخت ہو جائے گا۔ پس مبارک وہ جو خدا کی بات پر ایمان رکھے اور درمیان میں آنے والے ابتلاؤں سے نہ ڈرے۔ کیونکہ ابتلاؤں کا آنا بھی ضروری ہے تا خدا تمہاری آزمائش کرے کہ کون اپنے دعویٔ بیعت میں صادق اور کون کاذب ہے۔ وہ جو کسی ابتلا سے لغزش کھائے گا وہ کچھ بھی خدا کا نقصان نہیں کرے گا اور بدبختی اس کو جہنم تک پہنچائے گی۔ اگر وہ پیدا نہ ہوتا تو اس کے لئے اچھا تھا۔ مگر وہ سب لوگ جو اَخیر تک صبر کریں گے اور ان پر مصائب کے زلزلے آئیں گے اور حوادث کی آندھیاں چلیں گی اور قومیں ہنسی اور ٹھٹھا کریں گی اور دنیا ان سے سخت کراہت کے ساتھ پیش آئے گی وہ آخر فتح یاب ہوں گے اور برکتوں کے دروازے ان پر کھولے جائیں گے۔’‘ (رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلد 20صفحہ 309)
1904ء کے بہت سارے الہامات ہیں جو فتوحات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ اس میں سے چند ایک مَیں نے لئے تھے وقت کے لحاظ سے۔ خدا تعالیٰ ہمیں حقیقت میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہونے کا حق ادا کرنے والا بنائے اور ہمیں ہماری زندگیوں میں ان پیشگوئیوں کو پورا ہوتا ہوا بھی دکھائے جن کا پورا ہونا ابھی باقی ہے یا جو اس زمانے کے لئے مقدر ہیں۔ بعض پیشگوئیاں کئی کئی دفعہ بھی پوری ہوتی ہیں۔ تو ہو سکتا ہے کچھ پیشگوئیاں پہلے بھی پوری ہو گئی ہوں جو اس زمانے میں دوبارہ مقدر ہوں۔ ہم میں سے کوئی بھی کبھی بھی اپنی کسی کمزوری کی وجہ سے ان برکات سے محروم ہونے والا نہ ہو جن کا وعدہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے خدا تعالیٰ نے کیا ہے۔ اپنی نسلوں کی بھی اس نہج پر تربیت کریں کہ ان کو پتا ہو کہ یہ سب فضل جو آجکل ان پر ہیں، جماعت پر خدا کے فضلوں کی وجہ سے ہیں۔ اس لئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا شکرگزار بن کر رہیں۔ کسی کو یہ خیال نہ ہو کہ یہ کشائش، یہ بہتر حالات اس کی اپنی کسی خوبی کی وجہ سے ہیں۔ خود بھی یہ ذہن میں رکھیں اور اپنی نسلوں کو بھی بتائیں کہ باغ وہی پھلتے ہیں جن کے مالک اللہ تعالیٰ کے شکرگزار بندے ہوتے ہیں۔ ناشکروں کے باغ تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔ اس لئے حالات کی بہتری پر ہمیشہ اس کا شکر کریں اور کشائش آپ کو اس کی عبادتوں سے غافل نہ کر دے۔ جیسا کہ حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ ہمارے غالب آنے کے ہتھیار دعاؤں میں ہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔
جلسہ اب اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ دعا کے بعد آپ جو یہاں آئے جہاں انہوں نے تین دن جلسہ attend کیا، اس سے فائدہ اٹھایا، تقاریر سنیں جو آپ کی روحانیت میں اضافے کا بھی جو باعث بنیں اس کو اب آپ اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں۔ یہ نہ ہو کہ یہاں سے نکلیں اور سب کچھ بھول جائیں۔ بلکہ جو کچھ یہاں حاصل کیا ہے وہ آپ کی زندگیوں کا حصہ بن جانا چاہئے۔ آپ کے ماحول میں دوسرے لوگوں کو آپ میں تبدیلیاں نظر آنی چاہئیں اور یہ تبدیلیاں پیدا ہوں گی تبھی وہ مقاصد پورے ہوں گے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جلسہ کے مقاصد بیان فرمائے ہیں کہ لوگ اکٹھے ہوں اور اپنی روحانیت میں اضافہ کریں۔ (ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ340) انشاء اللہ تعالیٰ
بہت سارے لوگ سفر بھی کر رہے ہوں گے۔ احتیاط سے سفر کریں۔ گزشتہ دنوں میں ایک احمدی کی کار کا ایکسیڈنٹ بھی ہو گیا تھا تو اللہ نے فضل فرمایا۔ اور بعض لوگ رات کو دیر تک جاگتے بھی ہیں ہو سکتا ہے ان کی نیندیں نہ پوری ہوئی ہوں تو اگر لمبے سفر پر جانا ہے تو بہرحال نیند پوری کرکے جائیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو اپنی حفاظت میں، اپنے حفظ و امان میں اپنے گھروں میں لے کر جائے اور ہر آن حافظ و ناصر ہو۔ اب دعا کرلیں۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/dc5Gm]

اپنا تبصرہ بھیجیں