خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بتاریخ 24؍اکتوبر2003ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
روزہ ڈ ھال ہے اور اس کی جزا خود خداتعالیٰ ہے
رمضان میں نمازوں ،تہجد،نوافل کا اہتمام اور قرآن کریم کی تلاوت کا ایک دور کریں
رمضان کے بابرکت مہینہ کی فضیلتوں ، برکتوں اور مسائل کا پرمعارف بیان
خطبہ جمعہ ارشاد فرمودہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
۲۴؍ اکتوبر۲۰۰۳ء بمطابق ۲۴؍اخاء ۱۳۸۲ہجری شمسی بمقام مسجد فضل لندن

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں- چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أشھد أن لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ وأشھد أن محمداً عبدہ و رسولہ-
أما بعد فأعوذ باللہ من الشیطان الرجیم- بسم اللہ الرحمٰن الرحیم-
الحمدللہ رب العٰلمین- الرحمٰن الرحیم- مٰلک یوم الدین- إیاک نعبد و إیاک نستعین-
اھدنا الصراط المستقیم- صراط الذین أنعمت علیھم غیر المغضوب علیھم ولا الضالین-
یٰٓایُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔اَیَّامًا مَّعْدُوْدَاتٍ۔ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ۔وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ۔ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَھُوَ خَیْرٌ لَّہٗ وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌلَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (البقرۃ :۱۸۴۔۱۸۵)

دو تین دن تک انشاء اللہ رمضان شروع ہو رہاہے یہ برکتوں والا مہینہ اپنے ساتھ بے شمار برکتیں لے کر آتاہے اورمومنوں اور تقویٰ پر قدم مارنے والوں ، تقویٰ کی زندگی بسر کرنے والوں ، ان دنوں میں خداتعالیٰ کی خاطر روزہ رکھنے والوں کو بے انتہا برکتیں دے کر جاتاہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں یہ برکتیں سمیٹنے کی توفیق دے۔
یہ آیات جو ابھی مَیں نے تلاوت کی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے :
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر روزے اسی طرح فرض کر دیئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔گنتی کے چند دن ہیں- پس جو بھی تم میں سے مریض ہو یا سفر پر ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اتنی مدت کے روزے دوسرے ایام میں پورے کرے۔ اور جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہوں ان پر فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔ پس جو کوئی بھی نفلی نیکی کرے تو یہ اس کے لئے بہت اچھا ہے۔ اور تمہارا روزے رکھنا تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔
تو جو یہ فرمایا کہ ایمان لانے والو ! یہ ایمان لانے والے کون لوگ ہیں-اس بارہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :
’’مومن وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے اعمال ان کے ایمان پر گواہی دیتے ہیں-جن کے دل پر ایمان لکھا جاتاہے اور جو اپنے خدا اوراس کی رضا کوہرایک چیز پر مقدم کر لیتے ہیں-اور تقویٰ کی باریک اور تنگ راہوں کوخدا کے لئے اختیار کرتے ہیں-اور اس کی محبت میں محو ہو جاتے ہیں اور ہر ایک چیز جو بُت کی طرح خدا سے روکتی ہے خواہ وہ اخلاقی حالت ہو یا اعمال فاسقانہ ہوں یا غفلت اور کسل ہو سب کو اپنے تئیں دور تر لے جاتے ہیں ‘‘۔
تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مومن کے بارہ میں اس تعریف سے مزید وضاحت ہوگئی کہ مومن بننا اتنا آسان کام نہیں-تمہیں تقویٰ کی باریک راہوں کو اختیار کرنا ہوگاتو پھرمومن کہلا سکوگے۔ تو یہ تقویٰ کی باریک راہیں ہیں کیا؟۔ فرمایا : ’’ یہ راہیں تم تب حاصل کر سکتے ہو جو تمہاری اپنی مرضی کچھ نہ ہو۔بلکہ اب تمہارا ہرکام ہر عمل خداتعالیٰ کی رضا کی خاطر ہو-اگر خداتعالیٰ تمہیں روکتاہے کہ گو کھانا تمہاری صحت کے لئے اچھا ہے، حلال کھانا جائز ہے لیکن میری رضا کی خاطر تمہیں اب اس ایک مہینے میں کچھ وقت کے لئے کھانے سے ہاتھ روکنے پڑیں گے-تو جو چیزیں تمہارے لئے حلال ہیں وہ بھی فجر سے لے کرمغرب تک تم پر حرام ہیں- اب تمہیں میری رضا کی خاطر ان جائز اورحلال چیزوں کو بھی چھوڑنا پڑے گا۔ہر قسم کی سستی کو ترک کرنا پڑے گا، چھوڑنا پڑے گا۔ یہ نہیں کہ میرے حکموں کو سستی اور لاپرواہی کی وجہ سے ٹال دو۔ اگر تم رمضان کے مہینے میں لاپرواہی سے کام لو گے اور روزے کو کچھ اہمیت نہیں دو گے۔ یا اگر روزے رکھ لوگے اس لئے کہ گھر میں سب رکھ رہے ہیں ،شرم میں رکھ لوں اور نمازوں میں سستی کرجاؤ،نوافل میں سستی کرجاؤ، قرآن کریم پڑھنے میں سستی کر جاؤ، قرآن کریم بھی رمضان میں ہرایک کو کم از کم ایک دور مکمل کرنا چاہئے۔تو یہ تمہارے روزے خدا کی خاطر نہیں ہوں گے اگر یہ سستی ہوتی رہی۔ یہ تو دنیا کے دکھاوے کے روزے ہیں- اسی لئے حدیث میں آتاہے کہ اللہ تعالیٰ کو ضرورت نہیں ہے کہ ایسے لوگوں کو بھوکا پیاسا رکھے یا ایسے لوگوں کے بھوکا پیاسا رہنے سے تمہارے اللہ تعالیٰ کو کوئی دلچسپی نہیں ہے کیونکہ ایسے لوگ تو مومن ہی نہیں ہیں-اور روزے تو مومن اور تقویٰ اختیار کرنے والوں پر فرض کئے گئے ہیں- بعض لوگ صرف سستی کی وجہ سے روزے چھوڑ رہے ہوتے ہیں-نیند بہت پیاری ہے، کون اٹھے۔روزے میں ذرا سی تھکاوٹ یا بھوک برادشت نہیں کررہے ہوتے اس لئے روزے چھوڑ رہے ہوتے ہیں-تو یہ سب باتیں ایسی ہیں جو ایمان سے دور لے جانے والی ہیں اس لئے فرمایاہے کہ ایمان مکمل طورپر تقویٰ اختیار کرنے سے پیدا ہوتاہے اور روزے رکھنے سے جس طرح کہ روزے رکھنے کا حق ہے،نوافل کے لئے اٹھو، نمازوں میں باقاعدگی اختیار کرو، قرآن کریم کی باقاعدہ تلاوت کرو، اس کو سمجھنے کی کوشش کرو، اس سے تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہوگا۔اور جب تقویٰ پیدا ہوگا تو اتنا ہی زیادہ تمہارا ایمان مضبوط سے مضبوط تر ہوتاچلا جائے گا۔ فرمایا کہ یہی ایمان اور تقویٰ میں ترقی کرنے کے گُر ہیں کہ تم خداکی خاطر اپنے آپ کو جائز چیزوں سے بھی روکو اور تم سے پہلے جو لوگ تھے، جو مذاہب تھے ان سب میں روزوں کا حکم تھا۔اور ان میں سے بھی وہی لوگ ایمان اور تقویٰ میں ترقی کرتے تھے جو اللہ کی خاطر اپنے روزہ رکھنے کے فرض کو بجا لاتے تھے۔ اورتمہارے لئے تو زیادہ بہتر رنگ میں اور زیادہ معین رنگ میں روزوں کا حکم ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ میری رضا کی خاطر روزے رکھنے والوں کی جزا بھی مَیں خود ہوں- اور جس کا ا جر، جس کی جزا خداتعالیٰ خود بن جائے اس کو اور کیا چاہئے۔لیکن شرط یہ ہے کہ روز ے اس طرح رکھو جوروزے رکھنے کا حق ہے۔
حدیث میں آتاہے کہ آنحضرت ﷺنے فرمایا۔حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں- جس شخص نے رمضان کے روزے ایمان کی حالت میں رکھے اور اپنامحاسبہ نفس کرتے ہوئے رکھے اس کے گزشتہ گناہ معاف کردئے جائیں گے اور اگر تمہیں معلوم ہوتا کہ رمضان کی کیا کیا فضیلتیں ہیں تو تم ضرور اس بات کے خواہشمند ہوتے کہ سارا سال ہی رمضان ہو۔ تو یہاں دو شرطیں بیان کی گئی ہیں-پہلی یہ کہ ایمان کی حالت اور دوسری ہے محاسبۂ نفس۔اب روزوں میں ہر شخص کو اپنے نفس کا بھی محاسبہ کرتے رہنا چاہئے۔ دیکھتے رہنا چاہئے کہ یہ رمضان کا مہینہ ہے اس میں مَیں جائزہ لوں کہ میرے میں کیا کیا برائیاں ہیں ، ان کا جائزہ لوں- ان میں سے کون کو ن سی برائیاں ہیں جو مَیں آسانی سے چھوڑ سکتاہوں ان کو چھوڑوں-کون کون سی نیکیاں ہیں جو مَیں نہیں کر سکتا یامَیں نہیں کر رہا۔اور کون کون سی نیکیاں ہیں جو مَیں اختیار کرنے کی کوشش کرو۔ تو اگر ہر شخص ایک دو نیکیاں اختیار کرنے کی کوشش کرے اور ایک دو برائیاں چھوڑنے کی کوشش کرے اورا س پرپھر قائم رہے تو سمجھیں کہ آپ نے رمضان کی برکات سے ایک بہت بڑی برکت سے فائدہ اٹھا لیا۔
ایک حدیث میں آتاہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’تمہارا یہ مہینہ تمہارے لئے سایہ فگن ہواہے اس کے متعلق رسول اللہ ﷺکا حلفی ارشاد ہے کہ مومنوں کے لئے اس سے بہتر مہینہ کوئی نہیں گزرا اور منافقوں کے لئے اس سے بُرا مہینہ کوئی نہیں گزرا۔ اس مہینے میں داخل کرنے سے قبل ہی اللہ عز ّ وجل مومن کا ا جر اور نوافل لکھ دیتاہے جبکہ منافق (کے گناہوں ) کا بوجھ اور بدبختی لکھ لیتاہے۔ اس طرح کہ مومن مالی قربانیوں کے لئے اپنی طاقت تیار کرتاہے اور منافق غافل لوگوں کی اتباع اور ان کے عیوب کی پیرو ی میں قوت بڑھاتاہے۔ پس درحقیقت یہ حالت مومنوں کے لئے غنیمت اور فاجر کے لئے (اس کے مطابق) سازگار ہوتی ہے ‘‘۔(مسند احمد )
اب مالی قربانیوں میں بھی صدقہ وخیرات وغیرہ بہت زیادہ دینے چاہئیں- آنحضرت ﷺکے بارہ میں آتاہے کہ ان دنوں آپ کا ہاتھ بہت کھلا ہوجاتا تھا۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ روزوں کی فضیلت اور اس کے فرائض پر لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ کے الفاظ میں روشنی ڈالی گئی ہے اوربتایا گیاہے کہ روزے تم پر اس لئے فرض کئے گئے ہیں تا کہ تم بچ جاؤ۔ اس کے کیا معنے ہوسکتے ہیں-مثلاً ایک تو اس کے یہی معنے ہیں کہ ہم نے تم پر اس لئے روزے فرض کئے ہیں تا کہ تم ان قوموں کے اعتراضوں سے بچ جاؤ جو روزے رکھتی رہی ہیں ، بھوک اور پیاس کی تکلیف کو برداشت کرتی رہی ہیں ، جو موسم کی شدت کو برادشت کرکے خدا تعالیٰ کو خوش کرتی رہی ہیں-اگر تم روزے نہیں رکھو گے تو وہ کہیں گی کہ تمہارا دعویٰ ہے کہ ہم باقی قوموں سے روحانیت میں بڑھ کرہیں لیکن وہ تقویٰ تم میں نہیں جو دوسری قوموں میں پایا جاتا تھا۔پھر لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ میں دوسرا اشارہ اس امر کی طرف کیا گیاہے کہ اس ذریعہ سے خدا تعالیٰ روزے دار کا محافظ ہو جاتاہے۔کیونکہ اتقاء کے معنے ہیں ڈھال بنانا، نجات کا ذریعہ بنانا،وِقَایَہْ بنانا وغیرہ ہیں- پس اس آیت کے معنے یہ ہوئے کہ تم پرروزے رکھنے اس لئے فرض کئے گئے ہیں تاکہ تم خداتعالیٰ کو اپنی ڈھال بنالو اور ہر شر سے اور ہر خیرکے فقدان سے محفوظ رہو۔ …روزہ ایک دینی مسئلہ ہے۔یا بلحاظ صحتِ انسانی دنیوی امور سے بھی کسی حد تک تعلق رکھتاہے۔ پس لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ کے یہ معنے ہوئے کہ تا تم دینی اور دنیوی شرور سے محفوظ رہو۔ دینی خیر وبرکت تمہارے ہاتھ سے نہ جاتی رہے یا تمہاری صحت کو نقصان نہ پہنچ جائے۔ کیونکہ بعض دفعہ روزے کئی قسم کے امراض سے نجات دلانے کا بھی موجب ہو جاتے ہیں-…مَیں نے خود دیکھاہے کہ صحت کی حالت میں جب روزے رکھے جائیں تو دوران رمضان میں بے شک کچھ کوفت محسوس ہوتی ہے مگر رمضان کے بعد جسم میں ایک نئی قوت اور تروتازگی پیدا ہو جاتی ہے اور اس کا احساس ہونے لگتاہے۔یہ فائدہ تو صحت جسمانی کے لحاظ سے ہے مگرروحانی لحاظ سے اس کا یہ فائدہ ہے کہ جو لوگ روزے رکھتے ہیں خداتعالیٰ ان کی حفاظت کا وعدہ فرما تاہے۔اس لئے روزوں کے ذکر کے بعد خداتعالیٰ نے دعاؤں کی قبولیت کا ذکر کیاہے اور فرمایاہے کہ مَیں اپنے بندوں کے قریب ہوں اور اُن کی دعاؤں کو سنتاہوں- پس روزے خداتعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے والی چیز ہیں اور روزے رکھنے والا خداتعالیٰ کو اپنی ڈھال بنا لیتاہے جو اسے ہر قسم کے دکھوں اور شرو ر سے محفوظ رکھتاہے‘‘۔(تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ ۳۷۴۔۳۷۵)
پھر اسی کی مزید وضاحت کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں :
’’ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ میں ایک اور فائدہ یہ بتایا کہ روزہ رکھنے والا برائیوں اور بدیوں سے بچ جاتاہے اور یہ غرض ا س طرح پوری ہوتی ہے کہ دنیا سے انقطاع کی وجہ سے انسان کی روحانی نظر تیز ہو جاتی ہے اور وہ ان عیوب کو دیکھ لیتاہے جو اسے پہلے نظر نہ آتے تھے۔اسی طرح گناہوں سے انسان اس طرح بھی بچ جاتاہے کہ رسول کریم ﷺنے فرمایاہے روزہ اس چیز کا نام نہیں کہ کوئی شخص اپنامنہ بند رکھے اور سارا دن نہ کچھ کھائے اور نہ پئے بلکہ روزہ یہ ہے کہ مونہہ کو صرف کھانے پینے سے ہی نہ روکا جائے بلکہ اسے ہر روحانی نقصان دہ اور ضرر رساں چیز سے بھی بچایا جائے۔ نہ جھوٹ بولا جائے،نہ گالیاں دی جائیں ، نہ غیبت کی جائے، نہ جھگڑا کیا جائے۔اب دیکھو زبان پر قابو رکھنے کا حکم تو ہمیشہ کے لئے ہے لیکن روزہ دار خاص طورپر اپنی زبان پر قابو رکھتاہے کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کاروزہ ٹوٹ جاتاہے ‘‘۔
اب یہ بھی یادرکھنے کی بات ہے کہ روزے دار گالی دیتاہے،جھگڑا کرتاہے، غیبت کرتاہے، چغلی کرتاہے تو ان حالتوں میں بھی روزہ ٹوٹ جاتاہے۔تویہ بڑی باریک دیکھنے والی چیزہے۔’’ اوراگر کوئی شخص ایک مہینہ تک اپنی زبان پرقابو رکھتاہے تویہ امر باقی گیارہ مہینوں میں بھی اس کے لئے حفاظت کا ایک ذریعہ بن جاتاہے۔ اور اس طرح روزہ اسے ہمیشہ کے لئے گناہوں سے بچا لیتاہے‘‘۔
( تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ ۳۷۷)
حضرت مصلح موعودؓفرماتے ہیں کہ:’’روزوں کا ایک اور فائدہ یہ بتایا گیاہے کہ اس کے نتیجہ میں تقویٰ پرثبات قدم حاصل ہوتاہے اورانسان کو روحانیت کے ا علیٰ مدارج حاصل ہوتے ہیں-چنانچہ روزوں کے نتیجہ میں صرف امراء ہی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں کرتے بلکہ غرباء بھی اپنے اندر ایک نیا روحانی انقلاب محسوس کرتے ہیں اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کے وصال سے لطف اندوز ہوتے ہیں- غرباء بے چارے سارا سال تنگی سے گزار ہ کرتے ہیں اور بعض دفعہ انہیں کئی کئی فاقے بھی آ جاتے ہیں-اللہ تعالیٰ نے رمضان کے ذریعہ انہیں توجہ دلائی ہے کہ وہ ان فاقوں سے بھی ثواب حاصل کرسکتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے لئے فاقوں کا اتنا بڑا ثواب ہے کہ حدیث میں آتاہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اَلصََّوْمُ لِیْ وَاَنَا اُجْزٰی بِہٖ، یعنی ساری نیکیوں کے فوائد اور ثواب الگ الگ ہیں لیکن روزہ کی جزا خود میری ذات ہے۔اورخداتعالیٰ کے ملنے کے بعد انسان کو اور کیا چاہئے۔غرض روزوں کے ذریعہ غرباء کو یہ نکتہ دیا گیاہے کہ ان تنگیوں پربھی اگر وہ بے صبر اور ناشکرے نہ ہوں اورحرف شکایت زبان پرنہ لائیں جیساکہ بعض نادان کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہمیں خداتعالیٰ نے کیا دیاہے کہ نمازیں پڑھیں اورروزے رکھیں تو یہی فاقے ان کے لئے نیکیاں بن جائیں گی(اگروہ حرف شکایت زبان پر نہ لائیں ) اور ان کا بدلہ خود خداتعالیٰ ہو جائے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے روزوں کوغرباء کے لئے تسکین کا موجب بنایاہے تا کہ وہ مایوس نہ ہوں اور یہ نہ کہیں کہ ہماری فقر وفاقہ کی زندگی کس کام کی۔ اللہ تعالیٰ نے روزے میں انہیں یہ گُر بتایا ہے کہ اگر وہ اس فقر وفاقہ کی زندگی کو خداتعالیٰ کی رضا کے مطابق گزاریں تو یہی انہیں خداتعالیٰ سے ملا سکتی ہے‘‘۔(تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ ۳۷۷۔۳۷۸)
حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
’’روزہ کی حقیقت کہ اس سے نفس پرقابوحاصل ہوتاہے اور انسان متقی بن جاتاہے۔اس سے پیشتر کے رکوع میں رمضان شریف کے متعلق یہ بات مذکورہے کہ انسان کو جو ضرورتیں پیش آتی ہیں ان میں سے بعض تو شخصی ہوتی ہیں اور بعض نوعی اور بقائے نسل کی شخصی ضرورتوں میں جیسے کھانا پینا ہے اور نوعی ضرورت جیسے نسل کے لئے بیوی سے تعلق۔ ان دونوں قسم کی طبعی ضرورتوں پرقدرت حاصل کرنے کی راہ روزہ سکھاتاہے اوراس کی حقیقت یہی ہے کہ انسان متقی بننا سیکھ لیوے۔ آج کل تو دن چھوٹے ہیں ‘‘۔(اور اتفاق سے یہ دن بھی رمضان کے سردیوں میں ہی ہیں اور یہ بھی چھوٹے ہیں )۔’’ سردی کا موسم ہے اور ماہ رمضان بہت آسانی سے گزر ا مگر گرمی میں جو لوگ روزہ رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ بھوک پیاس کاکیا حال ہوتاہے۔ اور جوانوں کو اس بات کا علم ہوتاہے کہ اُن کوبیوی کی کس قدر ضرورت پیش آتی ہے۔ جب گرمی کے موسم میں انسان کو پیاس لگتی ہے،ہونٹ خشک ہوتے ہیں ، گھرمیں دودھ، برف، مزہ دار شربت موجود ہیں مگر ایک روزہ دار ان کو نہیں پیتا۔کیوں؟ اس لئے کہ اس کے مولیٰ کریم کی اجازت نہیں کہ ان کو استعمال کرے۔بھوک لگتی ہے ہر ایک قسم کی نعمت زردہ،پلاؤ،قورمہ،فرنی وغیرہ گھرمیں موجود ہیں- اگر نہ ہوں تو ایک آن میں اشارہ سے تیار ہو سکتے ہیں مگر روزہ دار ان کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتا۔کیوں؟ صرف اس لئے کہ اس کے مولیٰ کریم کی اجازت نہیں ‘‘۔ پھرفرمایا کہ روزہ دار مرد اپنی بیویوں کے قریب نہیں جاتے صرف اس لئے کہ اگر جاؤں گاتو خداتعالیٰ ناراض ہوگا، اس کی حکم عدولی ہوگی۔’’ان باتوں سے روزہ کی حقیقت ظاہر ہے کہ جب انسان اپنے نفس پریہ تسلط پیدا کرلیتاہے کہ گھر میں اس کی ضرورت اور استعمال کی چیزیں موجود ہیں مگر اپنے مولیٰ کی رضا کے لئے وہ حسب تقاضائے نفس ان کو ا ستعمال نہیں کرتا تو جو اشیاء اس کو میسر نہیں ان کی طرف نفس کو کیوں راغب ہونے دے گا۔ رمضان شریف کے مہینہ کی بڑی بھاری تعلیم یہ ہے کہ کیسی ہی شدید ضرورتیں کیوں نہ ہوں مگر خداکا ماننے والا خدا ہی کی رضامندی کے لئے ان سب پر پانی پھیر دیتاہے اور ان کی پرواہ نہیں کرتا۔ قرآن شریف روزہ کی حقیقت اور فلاسفی کی طر ف خود اشارہ فرماتاہے اور کہتاہے

یٰٓایُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ

روزہ تمہارے لئے اس واسطے ہے کہ تقویٰ سیکھنے کی تم کوعادت پڑجاوے۔ ایک روزہ دار خدا کے لئے ا ن تمام چیزوں کوایک وقت ترک کرتاہے جن کو شریعت نے حلال قرار دیا ہے اور ان کے کھانے پینے کی اجازت دی ہے صرف اس لئے کہ اس وقت میرے مولیٰ کی ا جازت نہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ پھر وہی شخص ا ن چیزوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرے جن کی شریعت نے مطلق اجازت نہیں دی اوروہ حرام کھاوے پیوے اوربدکاری میں شہوت کو پورا کرے۔
(الحکم ۲۴؍جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۲)
پھر اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ یہ گنتی کے چند دن ہیں- مومن کوچاہئے کہ تقویٰ کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اگرمشکلات میں سے بھی گزرنا پڑے تو گزر جائے۔یہاں تو اللہ تعالیٰ ہمیں یہ حکم دے رہاہے کہ سال کے گیارہ مہینے تو تم کو جائز چیزوں کے استعمال کی میری طرف سے اجازت ہے، تم استعمال کرو ان کو۔ اور تم کرتے رہے ہو مگراب مَیں کہتاہوں کہ میری خاطر یہ چند دن تم دن کے ایک حصے میں یہ جائزچیزیں بھی استعمال نہ کرو۔ تو کیا تم بہانے بناؤگے؟ یہ تو کوئی ایمان اورتقویٰ نہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ تم لوگوں کی حفاظت کے لئے کھڑا ہوتاہے جو تقویٰ پر چلتے ہیں اور اس کی خاطر ہر قربانی کے لئے تیار ہوتے ہیں- یہ روزے چند دن کے نہ صر ف خداتعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کا باعث بن رہے ہیں بلکہ ہماری جسمانی صحت کے لئے بھی فائدہ مند ہیں- اور یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ سال میں کچھ وقت ایسا ہونا چاہئے جس میں انسان کم سے کم غذا کھائے۔ تو اس امر سے ہم دوہرا فائدہ اٹھا رہے ہیں-جسمانی صحت بھی اور خداتعالیٰ کی رضا بھی۔ فرمایا کہ کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہیں تنگی نہیں دینا چاہتا، کسی تکلیف اور مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اس لئے اگر تم مریض ہو یاسفر میں ہوتو پھران دنوں میں روزے نہ رکھو۔ اور یہ روزے دوسرے دنوں میں جب سہولت ہو پورے کرلو۔ یہاں یہ بھی یاد رکھناچاہئے کہ یہ خیال نہیں ہونا چاہئے کہ اس وقت چونکہ تمام گھروالے روزے رکھ رہے ہیں جیسے کہ مَیں نے پہلے بھی کہا، اٹھنے میں آسانی ہے، زیادہ تردّد نہیں کرنا پڑتا،جیسے تیسے روزے رکھ لیں ، بعد میں کون رکھے گا۔ تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف ہے۔ بات وہی ہے کہ اصل بنیاد تقویٰ پرہے، حکم بجا لاناہے، حکم یہ ہے کہ تم مریض ہو یا سفر میں ہو، قطع نظر اس کے کہ سفر کتناہے، جو سفر تم سفر کی نیت سے کررہے ہو وہ سفر ہے اور اس میں روزہ نہیں رکھنا چاہئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایاہے کہ دو تین کوس کا سفر بھی سفر ہے اگر سفر کی نیت سے ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم میں برداشت ہے ، ہم برداشت کرسکتے ہیں تو ایسے لوگوں کویہ بات یاد رکھنی چاہئے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:
’’ اصل بات یہ ہے کہ قرآن شریف کی رخصتوں پر عمل کرنا بھی تقویٰ ہے۔خداتعالیٰ نے مسافر اور بیمار کو دوسرے وقت میں رکھنے کی اجازت اور رخصت دی ہے اس لئے اس حکم پر بھی تو عمل رکھنا چاہئے۔ مَیں نے پڑھا ہے کہ اکثر اکابراس طرف گئے ہیں کہ اگر کوئی حالت سفر یا بیماری میں روزہ رکھتاہے تویہ معصیت ہے کیونکہ غرض تو اللہ تعالیٰ کی رضا ہے نہ اپنی مرضی اور اللہ تعالیٰ کی رضا فرمانبرداری میں ہے۔ جو حکم وہ دے اُس کی اطاعت کی جاوے اور اپنی طرف سے اس پر حاشیہ نہ چڑھایا جاوے۔ اس نے تو یہی حکم دیاہے۔

مَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ

اس میں کوئی قیداور نہیں لگائی کہ ایسا سفر ہو یا ایسی بیماری ہو۔مَیں سفر کی حالت میں روزہ نہیں رکھتا اورایسا ہی بیماری کی حالت میں- چنانچہ آج بھی میری طبیعت اچھی نہیں اور مَیں نے روزہ نہیں رکھا۔ (الحکم جلد ۱۱ نمبر ۴ بتاریخ ۲۱؍جنوری ۱۹۰۷ء)
پھر آپ فرماتے ہیں کہ:’’ جو شخص مریض اور مسافر ہونے کی حالت میں ماہ صیام کے روزے رکھتاہے وہ خداتعالیٰ کے صریح حکم کی نافرمانی کرتاہے۔خداتعالیٰ نے صاف فرما دیاہے کہ بیمار اور مسافر روزہ نہ رکھے۔ مرض سے صحت پانے اور سفرکے ختم ہونے کے بعد روزہ رکھے۔خداکے اس حکم پرعمل کرنا چاہئے کیونکہ نجات فضل سے ہے اور اپنے اعمال کا زور دکھا کر کوئی شخص نجات حاصل نہیں کرسکتا۔خداتعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ مرض تھوڑی ہویابہت اور سفر چھوٹا ہو یا لمبا بلکہ حکم عام ہے۔ اور اس پر عمل کرنا چاہئے۔ مریض اور مسافر اگر روزہ رکھیں گے تو ان پر حکم عدولی کا فتویٰ لازم آئے گا ‘‘۔(البدر بتاریخ ۱۷؍اکتوبر ۱۹۰۷ء)
پھر آپ فرماتے ہیں :’’اللہ تعالیٰ نے شریعت کی بنا آسانی پررکھی ہے۔جومسافر اور مریض صاحب مقدرت ہوں ان کو چاہئے کہ روزہ کی بجائے فدیہ دے دیں-فدیہ یہ ہے کہ ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے‘‘۔(بدر جلد ۶ نمبر ۴۲ مورخہ ۱۷؍اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ۷)
پھرفرماتے ہیں کہ :’’میرا مذہب ہے کہ انسان بہت دقتیں اپنے اوپر نہ ڈال لے۔ عرف میں جس کو سفر کہتے ہیں خواہ وہ دو تین کوس ہی ہو اس میں قصر وسفر کے مسائل پر عمل کرے۔ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ۔بعض دفعہ ہم دو دو تین تین میل اپنے دوستوں کے ساتھ سیر کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں مگرکسی کے دل میں یہ خیال نہیں آتاکہ ہم سفر میں ہیں لیکن جب انسان اپنی گٹھڑی اٹھا کر (یعنی کچھ سامان وغیرہ لے کر،بیگ وغیرہ لے کر)سفر کی نیت سے چل پڑتاہے تو وہ مسافر ہوتاہے۔ شریعت کی بنا دِقّت پر نہیں ہے۔ جس کو تم عُرف میں سفر سمجھو وہی سفر ہے اور جیساکہ خداکے فرائض پر عمل کیا جاتاہے ویسا ہی اس کی رخصتوں پرعمل کرنا چاہئے۔فرض بھی خدا کی طرف سے ہیں اور رخصت بھی خدا کی طرف سے ہے‘‘۔( الحکم جلد ۵ نمبر ۶ بتاریخ ۱۷؍فرور ی۱۹۰۱ء)
فرماتے ہیں :’’ یعنی مریض اور مسافر روزہ نہ رکھے، اس میں اَمَر ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایاکہ جس کا اختیار ہو رکھ لے جس کا اختیار ہو نہ رکھے۔ میرے خیال میں مسافرکو روزہ نہ رکھناچاہئے اورچونکہ عام طورپراکثر لوگ رکھ لیتے ہیں اس لئے اگر کوئی تعامل سمجھ کر رکھ لے تو کوئی حرج نہیں مگر

عِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَر

کا پھر بھی لحاظ رکھنا چاہئے۔ سفر میں تکالیف اٹھاکر جو انسان روزہ رکھتاہے تو گویااپنے زور بازو سے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا چاہتاہے، اس کواطاعتِ امر سے خوش نہیں کرناچاہتا۔ یہ غلطی ہے۔اللہ تعالیٰ کی اطاعت امر اور نہی میں سچا ایمان ہے ‘‘۔
(الحکم جلد۳ نمبر ۴ بتاریخ ۳۱؍جنوری ۱۸۹۹ء)
توایسے لوگ جو اس لئے کہ گھر میں آج کل روزہ رکھنے کی سہولت میسرہے روزہ رکھ لیتے ہیں ان کو اس ارشاد کے مطابق یاد رکھنا چاہئے کہ نیکی یہی ہے کہ روز ے بعد میں پورے کئے جائیں اور وہ روزے نہیں ہیں جو اس طرح زبردستی رکھے جاتے ہیں-
حدیث میں آتاہے۔حضر ت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر پرتھے۔آپؐ نے لوگوں کا ہجوم دیکھااورایک آدمی پر دیکھاکہ سایہ کیا گیاہے۔ آ پؐ نے فرمایا :’’ کیاہے؟ ‘‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ شخص روزہ دار ہے۔ آ پ ؐنے فرمایا سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔(بخاری کتاب الصوم)
پھر ایک اور بڑی واضح حدیث ہے۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول ا للہ ﷺ سے ایک شخص نے رمضان کے مہینہ میں سفر کی حالت میں روزہ اور نمازکے بارہ میں دریافت کیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’رمضان میں سفر کی حالت میں روزہ نہ رکھو‘‘۔ اس پر ایک شخص نے کہا یا رسول ا للہ ! مَیں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتاہوں-نبی ﷺ نے اسے کہا کہ

’’اَنْتَ اَقْوَی اَمِ اللّٰہُ؟‘‘

کہ تو زیادہ طاقتورہے یااللہ تعالیٰ؟۔ یقینا اللہ تعالیٰ نے میری اُمّت کے مریضوں اور مسافروں کے لئے رمضان میں سفر کی حالت میں روزہ نہ رکھنے کو بطور صدقہ ایک رعایت قرار دیاہے۔کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتاہے کہ وہ تم میں سے کسی کوکوئی چیز صدقہ دے پھر وہ اس چیز کو صدقہ دینے والے کو لوٹا دے۔(المصنف للحافظ الکبیرابوبکر عبدالرزاق بن ھمام۔ الصیام فی السفر)
تو اس سے مزید واضح ہوگیاکہ سفر میں روزہ بالکل نہیں رکھنا چاہئے۔لیکن بعض دفعہ بعض لوگ دوسری طرف بہت زیادہ جھک جاتے ہیں-بعض اس سہولت سے کہ مریض کوسہولت ہے خود ہی فیصلہ کر لیتے ہیں کہ مَیں بیمارہوں اس لئے روزہ نہیں رکھ سکتا۔اور پوچھو تو کیا بیماری ہے؟ تم تو جوان آدمی ہو، صحت مند ہو، چلتے پھر رہے ہو، بازاروں میں پھررہے ہو، بیماری ہے تو ڈاکٹر سے چیک اپ کرواؤ تو جوا ب ہوتاہے کہ نہیں ایسی بیماری نہیں بس افطاری تک تھکاوٹ ہو جاتی ہے، کمزور ی ہوجاتی ہے- تویہ بھی وہی بات ہے کہ تقویٰ سے کام نہیں لیتے۔نفس کے بہانوں میں نہ آؤ۔فرمایا یہ ہے کہ نفس کے بہانوں میں نہ آؤ۔ہمیشہ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دل کا حال جانتاہے۔ خوف کا مقام ہے۔ یہ نہ ہو کہ ان بہانوں سے ان حکموں کو ٹال کر حقیقت میں کہیں بیمار ہی بن جاؤ۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :’’بے شک یہ قرآنی حکم ہے کہ سفر کی حالت میں اور اسی طرح بیماری کی حالت میں روزے نہیں رکھنے چاہئیں اور ہم اس پر زور دیتے ہیں تا قرآنی حکم کی ہتک نہ ہو مگر اس بہانے سے فائدہ اٹھا کرجو لوگ روزہ نہیں رکھ سکتے ہیں اور پھروہ روزہ نہیں رکھتے یا ان سے کچھ روزے رہ گئے ہوں اور وہ کوشش کرتے تو انہیں پورا کرسکتے تھے لیکن ان کو پورا کرنے کی کوشش نہیں کرتے تو وہ ایسے ہی گنہگار ہیں جس طرح وہ گنہگار ہے جوبلا عذر رمضان کے روزے نہیں رکھتا۔ اس لئے ہر احمدی کو چاہئے کہ جتنے روزے اس نے غفلت یا کسی شرعی عذر کی وجہ سے نہیں رکھے وہ انہیں بعد میں پورا کرے‘‘۔(بحوالہ فقہ احمدیہ صفحہ ۲۹۳)
یہ فتویٰ ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کا۔ تویہ افراط اورتفریط دونوں ہی غلط ہیں- ہمیشہ تقویٰ سے کام لیتے ہوئے روزے رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے جو طاقت رکھتے ہیں ، مالی وسعت رکھتے ہیں اگرکسی وجہ سے وہ روزہ نہیں رکھ سکے تو فدیہ دیا کریں-اور فدیہ کیاہے ایک مسکین کو کھانا کھلانا۔اس کے مطابق جس طرح تم خود کھاتے ہو کیونکہ دوسرے کی عزت نفس کا بھی خیال رکھنے کا حکم ہے۔اس لئے اچھا کھانا کھلاؤ، یہ نہیں کہ مَیں روزے رکھتا تواعلیٰ کھانے کھاتا لیکن تم چونکہ کم حیثیت آدمی ہواس لئے تمہارے لئے فدیہ کے طورپر یہ بچا کھچا کھانا ہی موجود ہے۔نہیں- یہ نہیں ہے، تمہاری نیکی تو اس وقت ہی نیکی شمار ہوگی جب تم خداکی رضا کی خاطر یہ کر رہے ہوگے نہ کہ اس غریب پر احسان جتانے کے لئے۔توجب تم خداکی رضاکی خاطر یہ فدیہ دو گے تو ہو سکتاہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری اس بیماری کی حالت کو صحت میں بدل دے۔کیونکہ فرمایاکہ تمہارا روزے رکھنا بہرحال تمہارے لئے بہترہے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :

’’ وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ-

ایک دفعہ میرے دل میں آیا کہ یہ فدیہ کس لئے مقرر کیا گیاہے تومعلوم ہواکہ توفیق کے واسطے ہے تاکہ روزہ کی توفیق اس سے حاصل ہو۔خداہی کی ذات ہے جو توفیق عطا کرتی ہے اور ہر شئے خدا ہی سے طلب کرنی چاہئے۔ خداتعالیٰ تو قادر مطلق ہے۔ وہ اگرچاہے توایک مدقوق کوبھی روزہ کی طاقت عطا کرسکتاہے‘‘۔یعنی ایک بیمار مریض بہت زیادہ لاغر کمزور ہو، ٹی بی کا مریض ہی ہو بے شک۔’’ تو فدیہ سے یہی مقصود ہے کہ وہ طاقت حاصل ہو جاوے اور یہ خداکے فضل سے ہوتاہے۔پس میرے نزدیک خوب ہے کہ انسان دعا کرے کہ ا لٰہی یہ تیرا ایک مبارک مہینہ ہے اور مَیں اس سے محروم رہا جاتاہوں-اورکیامعلوم کہ آئندہ سال زندہ رہوں یا نہ۔ یا ان فوت شدہ روزوں کو ادا کرسکوں یانہ۔اوراس سے توفیق طلب کرے تو مجھے یقین ہے کہ ایسے دل کو خدا طاقت بخش دے گا‘‘۔لیکن بعض لوگوں کی بیماریاں ایسی ہوتی ہیں کہ باوجود خواہش کے روزہ نہیں رکھ سکتے اورمستقلاً فدیہ دینا پڑتاہے۔ایسے لوگوں کو جیساکہ مَیں نے پہلے بھی کہا اپنی حیثیت کے مطابق فدیہ دیناچاہئے۔اللہ تعالیٰ نیتوں کو جانتاہے یہی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس میں بیان فرمایا۔آپ نے آگے فرمایاکہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتاتو دوسری امتوں کی طر ح اس اُمّت میں کوئی قید نہ رکھتا مگر اس میں قیدیں بھلائی کے لئے رکھی ہیں-’’ میرے نزدیک اصل یہی ہے کہ جب انسان صدق اورکمال اخلاص سے باری تعالیٰ میں عرض کرتاہے کہ اس مہینہ میں مجھے محروم نہ رکھ توخداتعالیٰ اسے محروم نہیں رکھتا۔ اورایسی حالت میں اگر انسان ماہ رمضان میں بیمار ہو جائے تو یہ بیماری اس کے حق میں رحمت ہوتی ہے کیونکہ ہر ایک عمل کا مدار نیت پرہے۔مومن کو چاہئے کہ وہ اپنے وجود سے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی راہ میں دلاور ثابت کرے‘‘۔ یعنی بہادر ثابت کرے۔’’جو شخص روزہ سے محروم رہتاہے مگر اس کے دل میں یہ نیت درددل سے تھی کہ کاش مَیں تندرست ہوتااورروزہ رکھتا اوراس کا دل اس بات کے لئے گریاں ہے تو فرشتے اس کے لئے روزہ رکھیں گے‘‘۔فرمایا اس کا دل اس بات کے لئے گریاں ہے،بہت تڑپ رہاہے،بہت افسوس کررہاہے، تو فرشتے اس کے لئے روزہ رکھیں گے’’ بشرطیکہ وہ بہانہ جوُ نہ ہو تو خداتعالیٰ اسے ہرگزثواب سے محروم نہ رکھے گا‘‘۔(ملفوظات جلد چہارم صفحہ ۲۵۸۔۲۵۹)
اب روزوں سے متعلق بعض متفرق باتیں ہیں-ان کے متعلق اب مَیں کچھ بتاتاہوں- بعض لوگ سستی کی وجہ سے یا کسی عذر یا بہانہ کی وجہ سے روزے نہیں رکھتے۔ان کو خیال آجاتاہے کہ روزے رکھنے چاہئیں- بعض لوگوں کو ایک عمر گزرنے کے بعد خیال آتاہے کہ ایک عمر گزار دی۔ صحت تھی،طاقت تھی،مالی وسعت تھی، تمام سہولیات میسر تھیں اور روزے نہیں رکھے۔تو مجھے جو نیکیاں بجا لانی تھیں نہیں ادا کرسکا تو اب کیا کروں؟تو ایسا ہی ایک شخص حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں حاضرہوا اورسوال کیا کہ مَیں نے آج سے پہلے کبھی روزہ نہیں رکھا اس کا کیا فدیہ دوں؟ فرمایا :خدا ہر شخص کو اس کی وسعت سے باہر دکھ نہیں دیتا۔ وسعت کے موافق گزشتہ کا فدیہ دے دو اور آئندہ عہد کرو کہ سب روزے رکھوں گا‘‘۔(البدر جلد ۱ نمبر ۱۲ بتاریخ ۱۶؍ جنوری ۱۹۰۳ء)
حدیث میں آتا ہے کہ حضرت ابوسعیدخدری ؓسے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مَیں نے آنحضرت ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے اور جس نے رمضان کے تقاضوں کو پہچانا اورجو اس رمضان کے دوران ان تمام باتوں سے محفوظ رہا جن سے اس کو محفوظ رہناچاہئے تھا تو اس کے روزے اس کے پہلے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں-(مسند احمد بن حنبل)
پھر بعض لوگ سحری نہیں کھاتے، عادتاً نہیں کھاتے یا اپنی بڑائی جتانے کے لئے نہیں کھاتے اوراٹھ پہرے روزے رکھ رہے ہوتے ہیں ان کے لئے بھی حکم ہے۔ حدیث میں آتاہے۔ حضرت انس ؓسے روایت ہے کہ رسول ا للہ ﷺنے فرمایا کہ سحری کھایاکرو سحری کھانے میں برکت ہے۔
پھریہ کہ سحری کاوقت کب تک ہے؟ ایک تو یہ کہ جب سحری کھا رہے ہوں تو جو بھی لقمہ یا چائے جو آپ اس وقت پی رہے ہیں ، آپ کے ہاتھ میں ہے اس کو مکمل کرنے کا ہی حکم ہے۔ روایت آتی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایاکہ جس وقت تم میں سے کوئی اذان سن لے اوربرتن اس کے ہاتھ میں ہوتووہ اس کو نہ رکھے یہاں تک کہ اپنی ضرورت پوری کرلے یعنی وہ جو کھا رہاہے وہ مکمل کرلے۔
پھر بعض دفعہ غلطی لگ جاتی ہے اور پتہ نہیں لگتا کہ روزے کاوقت ختم ہو گیاہے اوربعض دفعہ چند منٹ اوپر چلے جاتے ہیں تو اس صورت میں کیا یہ روزہ جائز ہے یانہیں- تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے کسی نے سوال کیا کہ مَیں مکان کے اندر بیٹھا ہواتھا اور میرا یقین تھاکہ ابھی روزہ رکھنے کا وقت ہے اورمَیں نے کچھ کھاکے روزہ رکھنے کی نیت کی لیکن بعد میں ایک دوسرے شخص سے معلوم ہواکہ اس وقت سفیدی ظاہر ہو گئی تھی اب مَیں کیاکروں- حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا :ایسی حالت میں اس کا روزہ ہوگیا۔دوبارہ رکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اپنی طرف سے اس نے احتیاط کی اور نیت میں فرق نہیں صرف غلطی لگ گئی اورچند منٹوں کا فرق پڑگیا۔
پھرافطاری میں جلدی کرنے کے بارہ میں حکم آتاہے۔ابی عطیہ نے بیان کیا کہ مَیں اور مسروق حضرت عائشہؓ کے پاس آئے اور پوچھا اے ام المومنین !حضورؐکے صحابہ میں سے دو صحابی ایسے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی نیکی اورخیر کے حصول میں کوتاہی کرنے والا نہیں لیکن ان میں سے ایک تو افطاری میں جلدی کرتے ہیں اورنماز بھی جلدی پڑھتے ہیں-یعنی نمازکے پہلے وقت میں پڑھ لیتے ہیں اوردوسرے افطاری اورنمازوں میں تاخیر کرتے ہیں- حضرت عائشہ ؓ نے پوچھا کہ ان میں سے کون جلدی کرتاہے تو بتایاگیاکہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ۔ توحضرت عائشہؓنے فرمایاکہ آنحضرتﷺبھی اسی طرح کیاکرتے تھے۔ لیکن افطاری میں جلدی کرنے سے کیا مراد ہے؟اس کا تعین کس طرح ہوگا اس بارہ میں یہ حدیث وضاحت کرتی ہے۔آنحضرت ﷺسے روایت ہے کہ غروب آفتاب کے بعد حضور ؐ نے ایک شخص کو ا فطاری لانے کو کہا۔اس شخص نے عرض کی کہ حضور ذرا تاریکی ہو لینے دیں- آپ ؐنے فرمایا :افطاری لاؤ۔ اس نے پھرعرض کی کہ حضورؐ ابھی تو روشنی ہے- حضور نے فرمایا افطاری لاؤ۔ وہ شخص افطاری لایا تو آپؐ نے روزہ افطار کرنے کے بعد اپنی انگلی سے مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایاکہ جب تم غروب آفتاب کے بعد مشرق کی طرف سے اندھیرا اٹھتا دیکھو تو افطار کرلیاکرو۔
پھر بعض دفعہروزے کے دوران انسان بھول جاتاہے کہ روزہ ہے اور کچھ کھا لیتا ہے۔ اس بارہ میں حدیث ہے کہ آنحضرت ﷺنے فرمایاکہ جو شخص روزہ کی حالت میں بھول کر کھا پی لے، وہ اپنے روزہ کو پورا کرے،اسے اللہ تعالیٰ نے کھلایا اور پلایاہے،یہ روزہ ٹوٹتا نہیں ہے اس کو پورا کرے۔
کچھ سوال حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں پیش ہوئے کہ روزہ کی حالت میں یہ یہ جائز ہے یا ناجائز ہے، وہ مَیں آپ کو بتاتاہوں-سوال یہ ہوا کہ روزہ دار کو آئینہ دیکھنا جائز ہے یا نہیں؟ یعنی شیشہ دیکھنا جائزہے یا نہیں جائز۔ تو فرمایا جائز ہے۔
پھر لوگ سوال بھی عجیب کرتے تھے۔ایک نے سوال کیا کہ روزہ دار کوداڑھی کو تیل لگانا جائز ہے یانہیں-آ پؑ نے فرمایا جائز ہے۔
پھرسوال پیش ہوا کہ خوشبو لگانا جائز ہے یا نہیں-فرمایا جائز ہے۔
پھر ایک سوال ہواکہ آنکھوں میں سرمہ ڈالنا جائز ہے یا نہیں- کیونکہ برصغیر میں سرمہ ڈالنے کا بھی ہندوستان پاکستان میں، خاص طورپر دیہاتوں میں کافی رواج ہے۔ تو فرمایا مکروہ ہے۔ اور ایسی ضرورت ہی کیاہے کہ دن کے وقت سرمہ لگائے،اگر آنکھوں میں کوئی تکلیف ہے تو رات کے وقت سرمہ لگا لو۔ (بدر جلد نمبر ۶ صفحہ ۱۴ بتاریخ ۲۴؍فروری۱۹۰۷ء)
پھر ایک سوال پیش ہوا کہ بعض اوقات رمضان ایسے موسم میں آتا ہے کہ کاشتکاروں کو جب کہ کام کی کثرت مثلاً بیج وغیرہ ڈالنا یا ہل چلانا وغیرہ تو ایسے مزدوروں سے جن کا گزارہ مزدوری پرہے روزہ نہیں رکھا جاتا،گرمی بہت شدید ہوتی ہے تو ان کی نسبت کیا ارشاد ہے۔ تو آپ نے فرمایا کہ

اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ

یہ لوگ اپنی حالتوں کو مخفی رکھتے ہیں ، ہر شخص تقویٰ اور طہارت سے اپنی حالت سوچ لے اگر کوئی اپنی جگہ مزدوری پر رکھ سکتاہے تو ایسا کرے ورنہ مریض کے حکم میں ہے۔پھر جب میسر ہو یعنی جب سہولت پیداہو جائے تب روزہ رکھ لے۔
آپ فرماتے ہیں کہ:
’’وہ شخص جس کا دل اس بات سے خوش ہے کہ رمضان آ گیااور مَیں اس کا منتظر تھا کہ آوے اورروزہ رکھوں-اور پھر بوجہ بیماری کے روزہ نہیں رکھ سکا تو وہ آسمان پر روزہ سے محروم نہیں ہے۔ اس دنیا میں بہت لوگ بہانہ جوُ ہیں اور و ہ خیال کرتے ہیں کہ ہم جس طرح اہل دنیا کو دھوکہ دے لیتے ہیں ویسے ہی خداکو فریب دیتے ہیں-بہانہ جُو اپنے وجود سے اپنا مسئلہ تراش کرتے ہیں-اور تکلفات شامل کرکے ان مسائل کو صحیح گردانتے ہیں- لیکن خداتعالیٰ کے نزدیک وہ صحیح نہیں- تکلّفات کا باب بہت وسیع ہے۔اگرانسان چاہے تو اس تکلّف کی رُو سے ساری عمر بیٹھ کر نماز پڑھتا رہے۔کبھی کھڑے ہوکر نمازیں نہ پڑھے، مریض ہی بنا رہے اور بیٹھ کے نمازیں پڑھے اور رمضان کے روزے بالکل نہ رکھے۔مگر خدااس کی نیت اور ارادہ کو جانتاہے جو صدق اوراخلاص رکھتا ہے۔ خداتعالیٰ جانتاہے کہ اس کے دل میں درد ہے اور خداتعالیٰ اسے ثواب سے زیادہ بھی دیتاہے کیونکہ دردِ دل ایک قابل قدر شئے ہے۔حیلہ جُو انسان تاویلوں پرتکیہ کرتے ہیں لیکن خداتعالیٰ کے نزدیک یہ تکیہ کوئی شئے نہیں- جب مَیں نے چھ ماہ روزے رکھے تھے تو ایک دفعہ ایک طائفہ انبیاء کا مجھے کشف میں ملا اور انہوں نے کہا کہ توُ نے کیوں اپنے نفس کو اس قدر مشقّت میں ڈالا ہواہے، اس سے باہر نکل۔ اسی طرح جب انسان اپنے آپ کو خدا کے واسطے مشقّت میں ڈالتاہے تو وہ خود ماں باپ کی طرح رحم کرکے اُسے کہتاہے کہ توُ کیوں مشقّت میں پڑا ہواہے۔
یہ لوگ ہیں کہ تکلّف سے اپنے آپ کو مشقت سے محروم رکھتے ہیں-اس لئے خدا اُن کو دوسری مشقّتوں میں ڈال دیتاہے۔اور نکالتانہیں- اوردوسر ے جو خود مشقتوں میں پڑتے ہیں ان کو وہ آپ نکالتا ہے۔انسان کو واجب ہے کہ اپنے نفس پر اپنے آپ شفقت نہ کرے بلکہ ایسا بنے کہ خداتعالیٰ اس کے نفس پہ شفقت کرے۔کیونکہ انسان کی شفقت اس کے نفس پر اس کے واسطے جہنم ہے۔ اور خدا تعالیٰ کی شفقت جنت ہے‘‘۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو رمضان کے ان فیوض و برکات سے بے انتہا فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے اور یہ رمضان ہمارے لئے بے انتہا برکتیں لے کر آئے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/Cwba8]

اپنا تبصرہ بھیجیں