دماغی بیماری الزائمر – جدید تحقیق کی روشنی میں

دماغی بیماری الزائمر – جدید تحقیق کی روشنی میں
(شیخ فضل عمر)

٭ امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کے جریدے میں شائع کی جانے والی رپورٹ ہے کہ اِس وقت دنیابھر میں الزائمر کی بیماری میں ساڑھے تین سو افراد میں ایک شخص مبتلا ہے لیکن مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے اندازہ ہے کہ آئندہ چالیس سال میں 85 ؍افراد میں سے ایک شخص الزائمر کا مریض ہوسکتا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ماہرین کی توجہ کا مرکز اب ایک ایسا ہارمون ہے جس سے یہ نشاندہی کی جاسکتی ہے کہ کسی شخص میں الزائمر یا دماغی انتشار کے مرض میں مبتلا ہونے کا امکان کتنا زیادہ ہے۔ اِس وقت مریضوں کے دماغ کی سکیننگ کرنے کے بعد MRI کی مدد سے دماغ کے حجم اور صحت کا اندازہ کیا جاتا ہے کیونکہ عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ کے حجم میں کمی آنے لگتی ہے لیکن اگر دماغ کے سکڑنے کی شرح غیرمعمولی زیادہ ہو تو الزائمر سے متعلق امراض میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ آٹھ سال تک جاری رہنے والی اِس تحقیق میں 700 سے زیادہ افراد کو شامل کیا گیا تھا۔ بوسٹن یونیورسٹی میں جاری اِس تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر سودھا سیشادری کا کہنا ہے کہ ماہرین کی تحقیق ایک خاص ہارمون Leptin پر مرکوز ہے جو بھوک پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے کیونکہ ماہرین کا مشاہدہ ہے کہ جن لوگوں کے دماغ میں اِس ہارمون کی سطح زیادہ تھی، اُن میں الزائمر میں مبتلا ہونے کا خطرہ نسبتاً کم تھا۔
٭ برطانیہ کے طبّی ماہرین نے کہا ہے کہ نرگس کے پھول میں ایسے اجزا موجود ہیں جو دماغی بیماری الزائمر کے عمل کو بڑی حد تک سست کرسکتے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ گلِ نرگس میں ایک خاص جزو گیلنٹامائن پایا جاتا ہے جسے مصنوعی طریق پر بھی تیار کیا جاسکتا ہے اور یہ بعض ادویات کی تیاری میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم اب نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ قدرتی حالت میں پایا جانے والا گیلنٹامائن، الزائمر کے عمل کو سست کرنے میں ایک مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چنانچہ الزائم نامی ایک کمپنی، برطانیہ کے علاقے ویلز کے ایک پارک میں بڑے پیمانے پر گلِ نرگس کی فصل کاشت کررہی ہے جس سے حاصل کردہ گیلنٹامائن الزائمر کے مریضوں کے علاج کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ کمپنی کے شریک بانی اور زرعی جینیات کے ماہر پروفیسر ٹروو واکر کہتے ہیں کہ الزائمر کی بیماری شروع ہونے کے بارے میں ابھی تک کوئی حتمی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے تاہم اس بیماری میں ایک خاص قسم کا پروٹین دماغ میں پیدا ہوتا ہے جو دماغ کے خلیات کے درمیان رابطے میں رکاوٹ ڈال دیتا ہے۔ لیکن اگر الزائمر کے مریض بیماری کے ابتدائی درجے میں گیلنٹامائن کا استعمال شروع کردیں تو اِس مخصوص پروٹین کو دماغ میں پیدا ہونے سے روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔ … برطانیہ میں قائم ایک فلاحی تنظیم الزائمر سوسائٹی کے مطابق الزائمر کا مرض ذہنی انحطاط کا عام سبب ہے اور صرف برطانیہ میں چار لاکھ سے زیادہ افراد اس مرض میں مبتلا ہیں۔
٭ ایک طبّی رپورٹ کے مطابق صحت پر کافی کے مرتب ہونے والے مثبت اثرات ایک بار پھر ثابت کئے گئے ہیں۔ کافی ذہن اور جگر کے افعال کو درست رکھتی ہے۔ اس سے نظام ہاضمہ بھی درست رہتا ہے اور عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ پیدا ہونے والی مختلف پیچیدگیوں اور یادداشت سے متعلق مسائل کو حل کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ ماہرین کے مطابق کیفین میں دماغی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ قوت ارتکاز میں اضافہ کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ چنانچہ الزائمر کے مریضوں کے لئے کافی کا مستقل استعمال نہایت مفید ثابت ہوا ہے۔ اس کے علاوہ کافی میں شامل ایک جزو Chlorogene مانع تکسیدی خواص رکھتا ہے یعنی اینٹی آکسیڈنٹ ہے اور یہی جزو الزائمر کے مریضوں کے لئے کار آمد ثابت ہوتا ہے۔ البتہ ورلڈ کینسر ریسرچ فنڈ نے آئسڈ کافی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو صحت کے لئے خطرناک قرار دیا ہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/eCSxr]

اپنا تبصرہ بھیجیں