سانحہ لاہور کے معصوم عینی شاہد

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، الفضل انٹرنیشنل 26 جون 2020ء)

لجنہ اماء اللہ جرمنی کے رسالہ ’’خدیجہ‘‘ (شہداء نمبر۔ شمارہ2۔2010ء) میں ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ کی ایک اشاعت کے حوالے سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک چار سالہ بچی عزیزہ نور فاطمہ اپنے ابّا مکرم محمد اعجاز صاحب آف مغلپورہ کے ہمراہ دارالذکر میں جمعہ پڑھنے آئی تھی۔ اس کے دو بھائی جو اطفال تھے، وہ بھی ساتھ تھے۔ ان تینوں بچوں کو گرنیڈ کے پھٹنے سے زخم آئے لیکن سب سے گہرا زخم عزیزہ نور فاطمہ کو آیا۔ لیکن آفرین ہے اس معصوم بچی پر کہ تقریباً تین گھنٹے مربی ہاؤس میں محبوس رہی۔ رونا تو درکنار ایک بار بھی اُف تک نہیں کی۔ اور جب دوسرے لوگ بولتے تو یہ انگلی کے اشارے سے منع کرتی کہ باہر گندے لوگ ہیں، خاموش رہیں۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/IipCb]

اپنا تبصرہ بھیجیں