سرخ چیونٹیاں

(مطبوعہ ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘، الفضل انٹرنیشنل لندن 12؍فروری 2021ء)

ماہنامہ ’’تشحیذالاذہان‘‘ ربوہ جولائی 2012ء میں مکرم الحاج ڈاکٹر ملک نسیم اللہ خان صاحب کے قلم سے سرخ چیونٹیوں کے بارے میں ایک مختصر معلوماتی مضمون شائع ہوا ہے۔
سرخ چیونٹیوں کی ایک کالونی عموماً بارہ ہزار چیونٹیوں پر مشتمل ہوتی ہے جن میں صرف ایک ملکہ ہوتی ہے جس کا کام صرف انڈے دینا ہوتا ہے اور باقی سب سکاؤٹ اور ورکر ہوتی ہیں۔سکاؤٹ چیونٹیاں صبح سویرے بِل کے آس پاس کے علاقے کا جائزہ لے کر آتی ہیں جس سے دوسری چیونٹیوں کو معلوم ہوجاتا ہے کہ باہر اُن کے لیے کس طرح کے خطرات اور خوراک موجود ہے۔ ورکر چیونٹیاں ڈنگ مارنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور ہمیشہ اکٹھی ہوکر حملہ کرتی ہیں۔ان کے ڈنگ میں ایک خاص قسم کا تیزاب ہوتا ہے جس کی وجہ سے جسم پر تکلیف دہ ابھار بن جاتا ہے۔ اگر اس پر خارش کرلی جائے تو انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر ان کے کاٹے کا مناسب علاج نہ کیا جائے تو یہ زخم بن سکتے ہیں۔
چھوٹے پودے، بیج اور کیڑے مکوڑے ان چیونٹیوں کی خوراک بنتے ہیں۔ کبھی کوئی چھوٹا زخمی جانور مل جائے تو وہ بھی ان کا شکار بن جاتا ہے۔ان کے گھر عموماً چالیس سینٹی میٹر تک اونچے اور ایک میٹر تک زمین کے اندر گہرے ہوتے ہیں۔

100% LikesVS
0% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں