محترمہ عتیقہ الطاف شاہ صاحبہ

ماہنامہ ’’مصباح‘‘ ربوہ اگست 2011ء میں محترمہ عتیقہ الطاف شاہ صاحبہ کا ذکرخیر اُن کی بیٹی کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔ مرحومہ نو ماہ تک کینسر کے مرض کی تکلیف صبر اور حوصلے سے برداشت کرنے کے بعد 71 سال کی عمر میں امریکہ میں انتقال کرگئیں۔
مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ میرے بڑے بھائی ضیا حسین شاہ صاحب (چیف ایڈیٹر مسلم ٹائمز آن لائن) نے 1983ء میں بیعت کی۔ ہمارے والد کٹر سنّی تھے اور پیری فقیری پر بھی اعتقاد تھا۔ بیٹے کا احمدی ہونا اُن کے لیے ایک بہت بڑا سانحہ تھا۔ اگر کبھی کسی بحث میں امّی جان احمدیوں کے مؤقف کی حمایت کرتیں تو ابّاجی کہتے کہ اپنے بیٹے کا ہی ساتھ دینا!۔ امّی کہتیں مَیں تو صرف سچائی کا ساتھ دیتی ہوں۔ امّی جان اکثر چھپ کر حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کی تفسیرکبیر پڑھا کرتی تھیں۔ ایک دفعہ ابّا نے امّی سے بحث کے دوران کافی ناراض ہوکر سخت الفاظ استعمال کیے اور کہا کہ تُو اپنے بیٹے کے گھر چلی جا۔ امّی چپ کرکے کمرے سے باہر آگئیں اور یہ عہد کیا کہ ہرگز کہیں نہیں جاؤں گی۔ اُس دن کے بعد ابّاجی میں جانے کیا تبدیلی آئی کہ انہوں نے پھر کبھی امّی سے اس معاملے میں سخت کلامی نہیں کی۔
اپریل 2005ء میں امّی جان اپنے بیٹے کے ہاں امریکہ میں قیام پذیر تھیں۔ ایک دن اپنی بہو کے ساتھ کار میں کہیں جارہی تھیں کہ اچانک اُنہیں آسمان پر حضرت مسیح موعودؑ کی تصویر نُور کی طرح چمکتی ہوئی نظر آئی۔ اس کو اللہ کی طرف سے نشان سمجھتے ہوئے آپ نے بیعت کرلی۔ وہ ہمیشہ یہ دعا کرتی رہیں کہ وہ ہمارے ابّاجی کو بھی احمدیت کی سچائی کا کوئی نشان دکھائیں۔ یہ دعا قبول ہوئی اور ابّاجی نے بھی ایک نشان دیکھ کر بیعت کرلی۔
امّی جان نے اپنی وفات سے کچھ عرصہ پہلے اپنے عزیزوں کو اپنے احمدی ہونے کا بتادیا تھا۔ چنانچہ وفات کے بعد اُنہیں Pittsburg کے احمدیہ قبرستان میں دفن کیا گیا۔ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے ان کی نماز جنازہ غائب بھی پڑھائی۔
امّی جان نے ایک نہایت بامقصد زندگی گزاری۔ فجر کے بعد حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی تفسیر لگالینا اُن کا معمول تھا۔ اپنی اولاد بلکہ اولاد کی اولاد کی بھی تربیت کی۔اُن کی پڑھائی میں مدد کرتیں۔ انہیں اردو سکھاتیں۔ لوگوں کے بارے میں اچھا گمان کرتیں کبھی تجسس یا بدظنّی نہ کرتیں۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/KYoe5]

اپنا تبصرہ بھیجیں