مسجد قمر ربوہ کی ابتدائی تعمیر

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 10 فروری 2011ء میں مکرم پروفیسر محمد سلطان اکبر صاحب کے قلم سے ایک تاریخی معلوماتی مضمون شامل اشاعت ہے جس میں دارالصدر غربی ربوہ میں مسجد قمر کی ابتدائی تعمیر سے متعلق چند دلچسپ حقائق پیش کئے گئے ہیں۔
ربوہ کے قیام پر ابھی چند سال گزرے تھے کہ محلہ دارالصدر غربی میں رہنے والے محترم چودھری فرزند علی صاحب مرحوم کی کوٹھی (حال کوٹھی محترم چودھری عزیز احمد باجوہ صاحب مرحوم) کے ایک کمرہ میں نماز ادا کرتے تھے۔ مولوی محمد حنیف قمر صاحب سائیکل سیاح امامت کرواتے تھے۔ پھر اسی کوٹھی کے باہر صحن میں ایک عارضی مسجد بنالی گئی۔ جب محترم باجوہ صاحب نے کوٹھی دوبارہ تعمیر کروائی تو عارضی مسجد کے چھت کا ملبہ محترم شیخ نور احمد منیر صاحب کے گھر میں رکھوادیا گیا اور نمازیں مکرم سہیل احمد صاحب کے مکان کے ایک کمرہ میں ادا ہونے لگیں۔ تب امام حضرت بابا فقیر محمد خان افغان تھے۔
جب محترم مرزا مظفر احمد صاحب نے قریباً 1960ء میں اپنی کوٹھی ’’البشریٰ‘‘ تعمیر کی تو اُن کے والد حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ اس میں منتقل ہوگئے۔ ہم چند لوگ آپؓ کو مبارکباد دینے وہاں حاضر ہوئے تو آپؓ نے ہم سے پہلا سوال یہی پوچھا کہ اس محلہ کی کوئی مسجد ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ پلاٹ تو ہے لیکن نمازیں کسی گھر میں پڑھتے ہیں۔ آپؓ نے فرمایا: اصل جگہ پر مسجد بنائیں چاہے وہاں ایک سادہ سا چھپر ہی ڈال لیں۔
چنانچہ ہم نے حضرت میاں صاحبؓ کے ارشاد کی تعمیل میں پرانے ملبہ کی مدد سے دو صفوں پر مشتمل ایک چھوٹی سی صاف ستھری مسجد بنائی اور قریباً دو ہفتہ بعد دوبارہ آپؓ کی خدمت میں حاضر ہوکر یہ اطلاع پہنچائی۔ آپؓ یہ سن کر ہمارے ساتھ ہی پیدل چل پڑے۔ مسجد دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا اور چٹائی پر بیٹھ کر لمبی دعا کروائی۔
ہمارے محلہ کے صدر محترم ملک رفیق احمد صاحب تھے۔ صدر مسجد کمیٹی محترم چودھری عطاء اللہ صاحب تھے جنہوں نے پختہ مسجد کی تعمیر کے لئے چار ہزار روپے اکٹھے کئے ہوئے تھے۔ لیکن اسی دوران حلقہ لطیف والوں نے ٹھیکیدار محمد دین صاحب مرحوم کی سرکردگی میں اپنی مسجد لطیف کی چار دیواریں کھڑی کرکے چھت کے لئے دو ہزار روپے مسجد کمیٹی سے لے کر چھت ڈال لی۔ 1961ء میں میرا تقرّر ٹی آئی کالج میں ہوا تو میرے اصرار پر کہ ہمیں بھی پختہ مسجد تعمیر کرنی چاہئے، مجھے سیکرٹری مسجد فنڈ بنادیا گیا۔ مَیں نے چالیس فٹ لمبی اور پچیس فٹ چوڑی مسجد کے لئے بنیادیں کھدوانا شروع کردیں۔ محترم پروفیسر مبارک احمد انصاری صاحب نے قطب نما کی مدد سے قبلہ کا تعیّن کیا۔ مسجد کے لئے چندہ جمع کرنے کی اجازت صرف اہل محلہ سے ہی تھی۔ محلہ کے خالی پلاٹوں کے مالکان سے چندہ لینے کے لئے خاکسار محترم صاحبزادہ محمد طیب صاحب (ابن حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحبؓ شہید کابل) کے ہمراہ لاہور اور کراچی گیا۔ پھر مَیں اکیلا ہی کوئٹہ اور سندھ کے علاقوں میں گیا اور کچھ نقد اور زیادہ تر وعدوں کے ساتھ واپس پہنچا۔ محترمہ مجیدہ شاہنواز صاحبہ نے کہا کہ وہ پہلے ہی محلہ کی مسجد کے لئے پانچ سو روپے ادا کرچکی ہیں۔ مَیں نے بتایا کہ وہ ہمارا ہمسایہ محلہ ہے اور آپ کا مکان ہمارے محلہ میں ہے اور ہم نے آپ سے پانچ ہزار لینا ہے۔ وہ کچھ سوچ کر کہنے لگیں یہ تو بہت بڑی رقم ہے۔ لیکن پھر اُسی شام کو انہوں نے ہمیں دو ہزار روپیہ دے دیا اور بقیہ رقم کا وعدہ کرلیا جو جلد ہی بھجوا بھی دی۔
جب بنیادیں کھدگئیں تو پہلے جنگ کی وجہ سے کام چند ماہ کے لئے رُک گیا۔ پھر حضرت مصلح موعودؓ کی وفات ہوگئی اور حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے اپنے دورِ خلافت میں سب سے پہلی مسجد جس کا سنگ بنیاد رکھا وہ ہماری تھی اور پھر خاکسار کی درخواست پر کہ اس مسجد کی تحریک چونکہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ؓ قمرالانبیاء نے کی تھی، اس لئے مسجد کا نام ’’مسجد قمر‘‘ رکھنے کی منظوری عطا فرمائی۔
بنیادیں رکھنے کے بعد محترم ملک عبدالمجید صاحب آئرن سٹور سے ادھار سامان لے کر تعمیر کا آغاز کیا۔ محترم انجینئر چودھری عبدالقادر صاحب مرحوم (برادر محترم مولوی محمد احمد جلیل صاحب) اُن دنوں مسجد اقصیٰ کی تعمیر کی نگرانی کررہے تھے۔ میری درخواست پر انہوں نے آکر سریوں کی ترتیب کی نقشہ کشی کی اور چیکنگ کی تاکہ مسجد کے اندر کسی ستون کے بغیر چھت کھڑی ہو۔ پھر سارے محلہ نے مسلسل سارا دن وقارعمل کرکے چھت پر لنٹل ڈالا۔ لکڑی کا کام مستری سلیم احمد صاحب نے کیا۔ پلاسٹر کرنے اور مینار بنانے کا کام دو مستریوں نے کیا۔ دونوں کے نام غلام محمد تھے۔ انہی ایّام میں حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ اپنے ماموں محترم ڈاکٹر کرنل تقی الدین صاحب کو ملنے ہمارے محلہ میں تشریف لائے۔ نماز مغرب کا وقت ہوا تو حضورؒ نے ازخود مسجد قمر میں آکر نماز پڑھائی۔ یہ اس مسجد کی بہت بڑی سعادت تھی اور منفرد واقعہ تھا کہ خلیفۂ وقت نے کسی محلہ کی مسجد میں نماز کی امامت کروائی ہو۔ وہیں نماز کے بعد حضورؒ نے مسجد کے اندر سفید پینٹ کرنے کا ارشاد بھی فرمایا تاکہ کم روشنی کے باوجود بھی مسجد روشن نظر آئے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں