مطالعہ کتب حضرت مسیح موعودؑ کی عظیم الشان تاثیرات

(مطبوعہ ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘، الفضل انٹرنیشنل لندن 19 ؍مارچ 2021ء)
رسالہ ’’انصارالدین‘‘ لندن جولائی واگست 2013ء میں شامل اشاعت مکرم لقمان احمد شاد صاحب کے ایک مضمون میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی کتب کے مطالعہ سے ظہور میں آنے والی عظیم الشان تاثیرات کو سعید روحوں کے ایمان افروز تجربات کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:
’’میرے ہاتھ سے آسمانی نشان ظاہر ہو رہے ہیں اور میری قلم سے قرآنی حقائق ومعارف چمک رہے ہیں۔ اٹھو اورتمام دنیا میں تلاش کرو کہ کیا کوئی عیسائیوں میں سے یا سکھوں میں سے یا یہودیوں میں سے یا کسی اَور فرقہ میں سے کوئی ایسا ہے کہ آسمانی نشانوں کے دکھلانے اور معارف اورحقائق کے بیان کرنے میں میرا مقابلہ کر سکے۔‘‘
(تریاق القلوب۔ روحانی خزائن جلد15صفحہ267)
پھر فرمایا:
’’ایک پھل قوت ایمانی کا اسرار حقہ ومعارف دینیہ کا ذخیرہ ہے جو اس عاجز کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے عنایت ہوا ہے۔ پس جو شخص اس عاجز کی تالیفات پر نظر ڈالے گا یا اس عاجز کی صحبت میں رہے گا اس پر یہ حقیقت آپ ہی کھل جائے گی کہ کس قدر خدائے تعالیٰ نے اس عاجز کودقائق و حقائق دینیہ سے حصہ دیا ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام۔ روحانی خزائن جلد3صفحہ159)
٭…حضرت صوفی احمد جان صاحبؓ کو جب پہلی مرتبہ ’’براہین احمدیہ‘‘ کی زیارت نصیب ہوئی تووہ اپنی دُوربین نگاہ سے حضورؑ کا مقام اور عالی مرتبہ فوراً پہچان گئے اور فرمایا:
ہم مریضوں کی ہے تمہیں پہ نگاہ
تم مسیحا بنو خدا کے لیے
حضرت صوفی صاحبؓ نے ’’اشتہار واجب الاظہار‘‘ کے نام سے نہایت والہانہ الفاظ میں مفصل ریویو شائع کیا اور پُرشوکت الفاظ میں اپنے تاثرات سپرد قلم کیے۔ آپؓ سلسلہ بیعت سے قبل وفات پا گئے تھے مگر حضرت اقدس مسیح موعودؑ نے آپؓ کا نام کتاب ’’ازالۂ اوہام‘‘ میں اپنے عقیدت مندوں کی فہرست میں درج فرمایا۔ اور خدا تعالیٰ کی طرف سے جب اذنِ بیعت ہوا تو لدھیانہ میں حضرت صوفی صاحب کے مکان پر جا کر بیعت کا آغاز فرمایا۔
٭…حضرت حکیم انوار حسین صاحب شاہ آبادیؓ بھی حضرت صوفی احمد جان صاحبؓ سے عقیدت کا تعلق رکھتے تھے۔ جب حضرت صوفی صاحبؓ نے ایک کتاب لکھی اور حضرت حکیم صاحبؓ نے اس کا پہلا حصہ دیکھا تو کہا کہ دوسرا بھی روانہ کردیں۔ حضرت صوفی صاحبؓ کی طرف سے جواب گیا کہ اس کے چھپنے کی نوبت نہیں آئی۔ حکیم صاحب نے کہا کہ اس کا مسوّدہ ہی بھجوا دیں۔ جواب آیا کہ مسوّدہ بھی پھاڑ کر پھینک دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پھاڑا ہوا مسوّدہ ہی بھجوا دیں۔ اس پر حضرت صوفی احمد جان صاحبؓ نے جواب دیا کہ
’’آں قدح بشکست وآں ساقی نماند
پنجاب میں آفتاب نکلا ہے۔ اب ستارے رہبری نہیں کرسکتے۔ اس کا نام مرزا غلام احمد ہے۔ اس نے کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ لکھی ہے وہ منگو ا کر مطالعہ کریں۔‘‘
٭…حضرت ڈاکٹر عبدالغنی کڑک صاحبؓ نے 1907ء میں زیارت اور بیعت کی سعادت حاصل کی۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دوست محمد امین صاحب کتاب ’’انجام آتھم‘‘ لائے کہ فراغت کے وقت اسے پڑھنا۔ آپ نے کتاب پڑھی تو اس میں حضرت مسیح موعوؑ د نے علماء کا نام لے کر ان کو چیلنج کیا تھا۔ کتاب ختم ہوئی تو دل روشن ہوچکا تھا۔
٭…حضرت مستری قطب الدین صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ میرے احمدیت میں داخل ہونے کا اصل باعث کتاب ’’آسمانی فیصلہ‘‘ اور ’’ازالہ اوہام‘‘ تھی۔ میں جب آپؑ کی کتابوں کو پڑھ رہا تھاتو سب سے پہلے مَیں نے بڑے زور سے اپنے استاد کو تبلیغ شروع کی۔ مَیں حضورؑ کے ہی دلائل پیش کرتا تھا جو وہ توڑ نہ سکے اور کہنے لگے کہ ہم اصحاب ظواہر ہیں۔ پھر میں نے اُن کوقرآن کریم کی آیات اور احادیث پیش کیں اور کہا کہ ان کے ظاہری معنی کر کے بتائیں وہ ان کے معنی بھی نہ کر سکے۔ آخر انہوں نے کہا کہ میں تمہارے دلائل کو توڑ نہیں سکتا مگر مَیں مانتا بھی نہیں۔ میرے استاد قرآن کریم کے حافظ صحاح ستہ کے ماہر اور تمام علو م عربیہ سے واقف تھے۔ یہ قوّت میں نے حضورؑ کی کتابوں اور حضورؑ کے دلائل میں دیکھی کہ کوئی سامنے نہ آتا تھا اور علماء بھی دبتے تھے۔
٭…حضرت سیّد عزیز الرحمٰن صاحبؓ بریلی کے رہنے والے تھے اور 1897ء میں احمدی ہوئے۔ آپؓ کو بریلی میں جماعت احمدیہ کا آدم کہا جاتا ہے۔ آپؓ بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں ایک عرب آیا۔ جب واپس جانے لگا تو اس نے عرض کیا کہ حضور میں زبانی تبلیغ نہیں کرسکتا۔ حضورؑ نے فرمایاکہ تم ہماری کتب لوگوں کے گھروں، دکانوں اور مساجد میں ڈال دو۔ مجھے اس دن سے یہ نسخہ ہاتھ آ گیا اور اس ذریعے سے مَیں نے بریلی اور منصوری کو فتح کر لیا۔ چنانچہ حضرت صوفی تصور حسین صاحب جو حضرت مسیح موعودؑ کی شان میں نازیبا الفاظ کہتے تھے، وہ ایک دفعہ چاول خرید کر گھر جا رہے تھے۔ راستے میں سستانے کے لیے میری دکان پر ٹھہرے۔ میز پر خطبہ الہامیہ رکھا ہوا تھا اٹھا کر پڑھنے لگے۔ قریباً چار گھنٹے پڑھتے رہے۔ آخر ان کے منہ سے اللہ اکبر نکلا۔ پھر وہ احمدی ہوئے اور ان پر مخالفت کے پہاڑ اُمڈے۔ آخر حضورؑ کے حکم سے قادیان ہجرت کرگئے۔
٭…حضرت مولوی جلال الدین صاحبؓ قریش خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور ضلع قصور میں آباد تھے۔ آپ کا خاندان پشت ہا پشت سے علم دوست، خدا پرست اور حافظ قرآن چلا آرہا تھا۔ جب ’’براہین احمدیہ‘‘ شائع ہوئی تو اس کے مطالعہ نے آپؓ کے قلب پر ایک گہرا ثر قائم کر دیا۔ آپؓ کے بہنوئی مولوی قمرالدین صاحب بھی علاقہ فیروز پور کے ایک مشہور واعظ تھے جنہوں نے تحصیل علم مروجہ کی تکمیل کی ہوئی تھی، ان کے ساتھ مل کر آپ نے ’’براہین احمدیہ‘‘، لٹریچر اور اشتہارات وغیرہ کو پڑھا۔ علمائے پنجاب جب ان سے فتویٰ تکفیرپر دستخط کرانے کو مُصر ہوئے توہر دو مولوی صاحبان نے اس فتوے پر دستخط کرنے سے انکار کردیا اور صاف صاف کہہ دیاکہ مصنف کی کتاب کی تحریر سے خدائی رُعب اور خاص عظمت الٰہی ظاہر ہورہی ہے لہٰذا ہم فتویٰ تکفیر پر دستخط نہیں کرسکتے۔
٭…حضرت چودھری مولا داد صاحبؓ سکنہ سالارپور نے ابتدا 1890ء میں حضورؑ کے دعویٰ مہدویت سے اطلاع پائی۔ کسی نے ’’ازالہ اوہام‘‘ دی تو اپنے ایک دوست نواب احمد حسن آف جھجھر کے ساتھ مل کر اس کتاب کا مطالعہ کیا۔ چودھری صاحب بیان کرتے ہیں کہ نواب صاحب تو کتاب پڑھ کر سر دُھنا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ یہ جھوٹوں کا کلام ہو ہی نہیں سکتا۔ کتاب کے مطالعہ کے بعد میں نے 1893ء میں حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں بیعت کا خط لکھ دیا۔
٭…حضرت چودھری غلام حسن صاحبؓ آف گوجرانوالہ بیان کرتے ہیں کہ مَیں مشن اسکول میں تعلیم پاتا تھا۔ جب انجیل پڑھانے والا استاد اسلام کی برائیاں کرتا تو اس کے متعلق آکر مسجد کے مولوی سے دریافت کرتا تھا۔ تب وہ کہتے کہ اس کا مجھے کچھ علم نہیں ہے اور ہم اسی لیے تم کو منع کیا کرتے تھے کہ انگریزی نہ پڑھو عیسائی ہو جائو گے۔ جب طالب علمی کا زمانہ ختم ہو گیا اور ملازمت اختیار کی تو سیّد صاحب کی تفسیر اور صحیح بخاری و مسلم کا ترجمہ خرید کر پڑھنے سے کچھ معلومات ہو گئیں۔ اور قرآن کریم کے بار بار معنے پڑھنے سے علم میں ترقی ہو گئی مگر پوری تسکین نہ ہوئی۔ اسی اثناء میں حضرت مسیح موعوؑ د کی تعلیم بھی کانوں تک پہنچی اور علماء سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ شخص منسوخ قرآنی آیتوں پرعمل کرتا ہے۔ اس پر دل میں اَور شبہ پیداہو گیاکہ قرآن کریم بھی ایسی کتاب ہے جس پر عمل درست نہیں۔ اسی اثناء میں میرے ایک دوست نے ’’ازالہ اوہام‘‘ پڑھنے کے لیے بھیجی جس کو میں نے بڑے غور سے پڑھا تو بہت سے شکوک رفع ہو گئے۔ پھر اَور کتابیں منگوا کر پڑھتا رہا۔ جب یہ پڑھا کہ قرآن کریم کا ایک لفظ بھی منسوخ نہیں ہوا اور متشابہات ومحکمات کی بحث کو پڑھاتو دل باغ باغ ہو گیا اور اسلام کا منور چہرہ مجھ کو نظر آگیا۔ تو میں مسیح موعودؑ کے قدموں میں جاگرا اور بیعت کرلی۔
٭…حضرت سیٹھ عبداللہ بھائی اللہ دینؓ سکندر آبادی بیان کرتے ہیں کہ سر آغا خان کو ماننے والی خوجہ قوم کا میں ایک فرد ہوں۔ یہ عجیب فرقہ ہے جس کے نزدیک نماز بھی فرض نہیں اس لیے ان کو مسجد کی بھی ضرورت نہیں۔ اس طرح ہمارا خاندان بھی نماز کا پابند نہ تھا۔ سال بھر میں صرف دو بار عید کی نماز کے لیے مسجد میں جانا ہوتا تھا اور بس۔ مجھے بعض فرقوں کی دینی کتب دیکھنے کا موقع ملا مگر کسی میں بھی خاص اثر یا کشش نہ پایا۔ مگر1913ء میں جب میں 36سال کی عمر کا تھا کہ حسن اتفاق سے حضرت مسیح موعودؑکی مشہور کتاب ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ دیکھنے کا موقع ملا۔ وہ کتاب پڑھتے ہی میرے دل میں ایک عجیب تبدیلی پیدا ہو گئی۔ پڑھنے کا شوق پیدا ہوا جس کے نتیجہ میں خاکسار نے مختلف مسائل کے متعلق قرآن شریف کی اکثر آیات ایک جگہ جمع کر کے انگریزی زبان میں Extracts from the Holy Quran کے نام سے ایک کتاب تیار کرکے مفت شائع کر دی۔ اس کے علاوہ پانچ وقت کی نماز کے علاوہ نوافل اور تہجد باقاعدہ پڑھنے لگا۔ سالانہ زکوٰۃ بھی نکالنی شروع کی۔ حج کی تیاری کی اور بعد میں اہل وعیال کے ساتھ یہ فرض بھی ادا کیا۔ ہماری کمپنی میں جو ناجائز کام ہوتے تھے اور جس کو ہم تجارتی فن سمجھتے تھے وہ سب موقوف کر کے کاروبار میں راستی اور دیانت داری کا سلسلہ جاری کر دیا۔
٭…حضرت مولانا علی محمد صاحبؓ زیرہ ضلع فیروز پور میں احمدیت کی تخم ریزی کرنے والے جیّد گروہ کے سرخیل تھے۔ محترم ثاقب زیروی صاحب آپ کی بیعت کا واقعہ قلمبند کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ ضلع جالندھر کے ایک صحابی میاں جھنڈا دو ایک جُمعوں پر حضرت مولوی صاحب کو مسیح موعودکے ظہور پُرنور کا مُژدہ سنانے آئے مگر دونوں دفعہ ان کے حکم پر مسجد سے دھکے دے کر نکال دیے گئے۔ حتیٰ کہ وہ ایک دن حضرت مسیح موعودؑ کے تیر بہدف نسخہ تزکیہ نفس ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ سے لیس ہو کر آ دھمکے اور ایسی شست باندھ کر تیر چھوڑاکہ عین سینے سے لگ کر آر پار ہو گیا۔ اور حضرت مولانا گھائل ہوگئے اور اپنے سینے سے ٹکرا کر دامن میں آ کر گرنے والی اس کتاب کے چند ہی صفحات کا مطالعہ کرنے کے بعد بے ساختہ پکار اٹھے: ہم تو اب تک اس شخص کوصرف فیض زماں ہی سمجھتے رہے۔ یہ تو امام زماں نکلا۔
٭…حضرت میا ں محمدالدین صاحبؓ آف کھاریاں پر زمانۂ طالب علمی سے ہی دہریت کا غلبہ ہو گیا۔ چونکہ مڈل میں آپ جس جماعت میں پڑھتے تھے اس میں 18 طالب علم تھے جن میں سے کئی آریہ کئی برہمو اور اکثر دہریہ ہو گئے سو اس اثر کی وجہ آپ بھی دینیات سے دُور ہوتے گئے۔ آپ بیان فرماتے ہیں کہ میں قصّہ خوانی وغیرہ میں مشغول رہتا اور ایسی ہی قماش کے نوجوانوں کی مجلس میرے پاس لگی رہتی تھی کہ اللہ رحمٰن نے میری ہدایت کے سامان پیدا فرمائے۔
جب آپ کو حضرت اقدسؑ کی کتب ملیں اور آپ نے ان کا مطالعہ کیا تو ان کتب کی تاثیرنے آپ کو زندہ کر دیا اور ساری ظلمت جاتی رہی۔ چنانچہ آپ ’’براہین احمدیہ‘‘ کے متعلق بیان فرماتے ہیں کہ میں نے ’’براہین احمدیہ‘‘ پڑھنی شروع کی۔ براہین احمدیہ کیا تھی؟ آبِ حیات کا بحر ذخّار تھا۔ ایک تریاق کوہِ لانی تھایا تریاق اربعہ دافع صرع ولقوہ تھا۔ ایک عین روح القدس یا روح مکرم یا روح اعظم تھا۔ براہین احمدیہ کیا تھی؟ یسبح الرعد بحمدہ تھی۔ ایک نور خدا تھاجس کے ظہور سے ظلمت کافور ہو گئی … آریہ، برہمو، دہریہ لیکچراروں کے بد اثر نے مجھے اور مجھ جیسے اکثروں کو ہلاک کر دیا تھا۔ اور ان اثرات کے ماتحت لایعنی زندگی بسر کر رہا تھا کہ براہین احمدیہ پڑھتے پڑھتے جب ہستی باری تعالیٰ کے اثبات کو پڑھتا ہواصفحہ90کے حاشیہ4پر اور صفحہ129 کے حاشیہ11پر پہنچا تو معاًمیری دہریت کافور ہوگئی اور میری آنکھ ایسی کھلی جس طرح کوئی سویا ہُوایا مرا ہوا جاگ کر زندہ ہوجاتاہے۔ سردی کا موسم، جنوری 1897ء کی 19 تاریخ تھی۔ آدھی رات کا وقت تھا کہ جب میں ’’ہونا چاہیے‘‘ اور ’’ہے‘‘ کے مقام پر پہنچا۔ پڑھتے ہی میں نے فوراً توبہ کی۔ کورا (نیا)گھڑا پانی کابھرا ہوا باہر صحن میں پڑا تھا۔ تختہ سہ پیمائش کی میرے پاس رکھی ہوئی تھی۔ سرد پانی سے تہبند (الاچہ) پاک کیا۔ (میراملازم مسمی منگتو سو رہاتھا۔ وہ جاگ پڑا۔ وہ مجھ سے پوچھتاکہ کیا ہوا؟ کیاہوا؟ ا لاچہ مجھ کو دو میں دھوتا ہوں۔ مگر میں اس وقت ایسی شراب پی چکا تھا کہ جس کا نشہ مجھے کسی سے کلام کی اجازت نہ دیتا تھا۔ آخر منگتو اپنا سارا زور لگا کر خاموش ہو گیا) اور میں نے گیلا الاچہ پہن کر نماز پڑھنی شروع کی اور منگتو دیکھا کیا۔ محویت کے عالم میں نماز اس قدر لمبی ہوئی کہ منگتو تھک کر سوگیا اور میں نماز میں مشغول رہا۔ بس یہ نماز ’’براہین احمدیہ‘‘ نے ایسی پڑھائی کہ بعد ازاں اب تک میں نے نماز نہیں چھوڑی۔
٭…حضرت چودھری غلام محمد صاحبؓ آف نارووال بیان کرتے ہیں کہ میرے خسرچودھری عمر الدین صاحب مرحوم ساکن قلعہ صوبہ سنگھ قادیان سے واپس آئے اور مجھے کہا کہ جس نے آنا تھا وہ آگیا۔ اور اپنے ساتھ ’’ازالۂ اوہام‘‘ کتاب بھی لائے۔ دو تین ماہ بعد میں نے کسی جگہ سے اس کا ایک صفحہ پڑھا اور متأثر ہو کر احمدی ہو گیا۔ یہ واقعہ1903ء کا ہے۔ میں نے ایک خواب دیکھا کہ ایک بڑی سی کوٹھی ہے۔ اور اس میں بہت بڑا مجمع ہے۔ یہ کوٹھی قادیان میں تھی اور وہاں ایک شخص ہے۔ جس کی بغل میں بہت سی روٹیاں ہیں اور وہ تقسیم کر رہا ہے۔ قادیان جا کر میں نے اس شخص کو پہچان لیاان کا نام میر مہدی حسین ہے اور اس وجہ سے مجھے ان سے ایک خاص محبت ہو گئی ہے اور وہ ابھی تک زندہ ہیں اور وہ بھی مجھے جانتے ہیں۔ جب میں قادیان گیا اور روٹیوں کی تعبیرکے لیے طبیعت بے چین تھی۔ میر صاحب مذکور ان ایاّم میں سلسلہ کے کتب خانہ کے انچارج تھے اور ’’حقیقۃالوحی‘‘، ’’چشمۂ معرفت‘‘ اور بھی چند کتب ’’جنگ مقدس، سرمۂ چشم آریہ، تحفۂ گولڑویہ، تحفۂ غزنویہ، مسیح ہندوستان میں‘‘ غرضیکہ بہت سی کتابیں مَیں نے خریدیں اور اس طرح سے میری تعبیر پوری ہو گئی۔ یہ خواب تین ماہ قبل بیعت سے ہے۔
٭…گوجرانوالہ کے حضرت شیخ کریم بخش صاحبؓ اور حضرت شیخ صاحب دین صاحبؓ کو خدا تعالیٰ نے احمدیت قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ اس کی تفصیل یوں ہے کہ حضرت صاحبؑ کے دعویٰ کے معاً بعد جب شہر میں حضور کی آمد کا ہر جگہ چرچا شروع ہواتو حضرت شیخ صاحب دین صاحب کوجو اُن دنوں مڈل کے طالب علم تھے، انہوں نے اپنے استادحضرت مولوی احمد جان صاحب سے دریافت کیا کہ یہ مرزا صاحب کون ہیں جن کی شہر میں ہر جگہ باتیں ہو رہی ہیں۔ حضرت مولوی صاحب موصوف شیخ صاحب کی خوش قسمتی سے احمدی تھے۔ انہوں نے جواب دیاکہ بیٹاآج دنیا میں قرآن کریم کو جاننے اور سمجھنے والے صرف مرزا صاحب ہی ہیں۔ ان کی اس بات سے متأثر ہو کر حضرت شیخ صاحب کے بڑے بھائی شیخ کریم بخش نے کہاکہ کل تم اپنے ماسٹر صاحب سے حضرت مرزا صاحب کی کوئی کتاب لے آنا۔ چنانچہ حضرت شیخ صاحب کے مطالبہ پر حضرت مولوی صاحب نے حضرت مسیح موعوؑ د کی مشہور کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ ہر چہار حصص دے دی۔ حضرت شیخ کریم بخش صاحب تو اس کتاب کو دیکھ کر لٹو ہوگئے اور فوراً قادیان جا کر بیعت کر آئے۔ ان کی واپسی پر حضرت شیخ صاحب دین صاحب نے بھی بیعت کا خط لکھ دیا۔ یہ واقعہ 1891-92ء کا ہے۔ یہ دونوں بھائی چونکہ گوجرانوالہ کی ایک وسیع برادری کے افراد تھیاس لیے ان کی خوب مخالفت ہوئی مگر انہوں نے اس کی قطعاً پرواہ نہ کی۔ تھوڑے دنوں کے بعددونوں بھائی قادیان گئے اور حضرت شیخ صاحب دین صاحبؓ نے بھی دستی بیعت کرلی۔
٭…حضرت منشی گلاب دین صاحبؓ رہتاس (جہلم) جب 44سال کے ہوئے تو ان کی زندگی میں ایک حیرت انگیز واقعہ رونما ہوا۔ جس کی تفصیل اُن کی زبانی کچھ یوں ہے کہ چونکہ یہ زمانہ حضرت امام مہدی کے ظہور کا تھا، ہر خاص وعام امام مہدی کی آمد کا منتظر تھا، سعید فطرت لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارات کا سلسلہ جاری تھا۔ حضرت منشی صاحب کی ہمشیرہ رانی (زوجہ علی بخش)نے خواب میں دیکھا کہ آسمان پر چودھویں کا چاند طلوع ہوا ہے اور ہر طرف روشنی پھیل گئی ہے۔ انہوں نے صبح اٹھ کر اپنی خواب حضرت منشی صاحب کو سنائی اورصرف اتنا کہا کہ مہدی آ گیا ہے اس کو ڈھونڈو۔ اس کے کچھ دن بعدحضرت منشی صاحب کے ایک نہایت متقی شاگرد سیّد غلام حسین شاہ نے جو جہلم کچہری محکمہ مال میں ملازم تھے آپ کو حضرت مسیح موعودؑ کا ایک اشتہار اوردو کتب مطالعہ کے لیے بھیجیں کہ دیکھیں کہ مصنف کس شان کا شخص ہے۔ جب آپ نے وہ کتابیں دیکھیں (جن میں سے ایک کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ تھی) تو آپ نے اپنی ہمشیرہ سے کہا مبارک ہو آپ کی خواب پوری ہو گئی ہے۔ امام مہدی کا ظہور ہو گیا ہے۔
٭…کپورتھلہ کی جماعت سے حضرت مسیح موعودؑ کو ایک خاص تعلق تھا۔ کپورتھلہ کی جماعت کو ’’براہین احمدیہ‘‘ کے مطالعہ سے قبو ل احمدیت کی توفیق ملی۔ چنانچہ اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر فرزندحضرت منشی ظفراحمد صاحبؓ کپور تھلوی فرماتے ہیں کہ ’’براہین احمدیہ‘‘ جب چھپی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا ایک نسخہ حاجی ولی اللہ صاحب کو بھیجا جو کہ کپور تھلہ میں مہتمم بندوبست تھے۔ اور ہمارے پھوپھا صاحب مرحوم منشی حبیب الرحمٰن صاحب رئیس حاجی پور کے چچا تھے۔ حاجی صاحب براہین احمدیہ کا نسخہ اپنے وطن قصبہ سراوہ ضلع میرٹھ میں لے گئے۔ وہاں عندالملاقات والد صاحب (حضرت منشی ظفر احمد صاحب) کو وہ کتاب حاجی صاحب نے دے دی۔ والد صاحب فرماتے ہیں کہ ہم اس کتاب کو پڑھا کرتے تھے اور اس کی فصاحت وبلاغت پر عش عش کر اٹھتے کہ یہ شخص بے بدل لکھنے والا ہے۔ اور براہین احمدیہ پڑھتے پڑھتے والد صاحب کو حضرت صاحب سے محبت ہوگئی۔
اس کے تھوڑے عرصہ بعدوالد صاحب کپورتھلہ آ گئے اور حاجی صاحب والد صاحب سے براہین احمدیہ پڑھوا کر سنتے۔ منشی اروڑہ صاحب اورمحمد خان صاحب نے بھی کتاب کا مطالعہ کیا اور انہیں بھی محبت پیدا ہو ئی۔ اس کے بعد اتفاق ایسا ہوا کہ والد صاحب جالندھر اپنے ایک رشتہ دار کو ملنے گئے ہوئے تھے کہ حضرت صاحب بھی کسی سفر کے اثناء میں جالندھر ٹھہرے۔ اور بعد کا واقعہ والد صاحب کی روایات میں مفصل درج ہے۔ اور جیسا کہ اس روایت میں مذکور ہے۔ والد صاحب کی آمدورفت قادیان شروع ہو گئی۔ یہ 1884ء و 1885ء کے قریب کا واقعہ ہے۔ والد صاحب نے بہت دفعہ حضرت صاحب سے عرض کیا کہ حضور بیعت لے لیں۔ لیکن حضور نے انکا ر فرمایا کہ مجھے حکم نہیں۔ جب لدھیانہ سے حضور نے بیعت کا اعلا ن فرمایا تو والد صاحب و محمد خان صاحب اور منشی اروڑہ خان صاحب کے نام ایک خط لکھا کہ آپ بیعت کے لیے کہا کرتے تھے مجھے اب اذن الٰہی ہو چکا ہے۔ اس خط کے مطابق مذکورہ افراد نے لدھیانہ پہنچ کر بیعت کی۔
٭…سیّدنا حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں:
’’حضرت مسیح موعودؑ کے زمانہ میں ایک دوست جو بہت بڑے شاعر تھے۔ لغت کی انہوں نے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔ جس کی دو تین جلدیں شائع ہو چکی ہیں ریاست رام پور ان کو اس کام کے لیے وظیفہ دیا کرتی تھی۔ قادیان آئے اور حضرت مسیح موعوؑ د سے ملے آپؑ نے ان سے پوچھا آپ کو ہمارے سلسلہ کی طرف کیسے توجہ پیداہوئی؟ انہوں نے بڑی سادگی سے جواب دیا مولوی محمد حسین بٹالوی کے ذریعہ سے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کس طرح؟ انہوں نے عرض کیا مولوی محمد حسین بٹالوی کا رسالہ ’’اشاعۃ السنۃ‘‘ ہمارے ہاں آیا کرتا تھا۔ مَیں یہ تو جانتا ہی تھا کہ مولوی محمد حسین بہت بڑی شہرت رکھنے والے اور سارے ہندوستان میں مشہور ہیں۔ مگر ان کے رسالہ کو دیکھ کر بار بار میرے دل میں خیال آتا کہ اگر ان کے دل میں اسلام کا واقعی درد تھاتو انہیں چاہیے تھا کہ مدرسے جاری کرتے، قرآن اور حدیث کے درس کا انتظام کرتے، لوگوں کو اسلامی احکام پر عمل کرنے کی طرف توجہ دلاتے۔ مگر انہیں یہ کیا ہوگیاکہ سارے کام چھوڑ کر بس ایک بات کی طرف ہی متوجہ ہو گئے ہیں اور دن رات احمدیت کی مخالفت کرتے رہتے ہیں۔ اس میں ضرور کوئی بات ہے۔ چنانچہ مجھے ان کی مخالفت سے تحقیق کا خیال پیداہوا اور میں نے کسی شخص سے اپنے اس شوق کا اظہار کیا تو اس نے مجھے ’’درثمین‘‘ پڑھنے کے لیے دی۔ مَیں نے اس میں رسول کریمﷺ کی تعریف میں جب آپ کا کلام دیکھا تو میں نے کہا لوپہلا جھوٹ تو یہیں نکل آیا کہ کہا جاتا تھا مرزا صاحب رسول کریمﷺ کی ہتک کرتے ہیں۔ حالانکہ جو عشق رسول کریمﷺ کا آپؑ کے دل میں پایا جاتاہے اس کی موجودہ زمانہ میں نظیر ہی نہیں ملتی اس کے بعد میں نے مزید تحقیق کی اور آخر اس نتیجہ پر پہنچ گیا کہ احمدیت سچی ہے۔
اسی طرح ہر سال مجھے دس بیس خطوط ضرور ایسے آجاتے ہیں جن میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ جب ہم نے احمدیت کی مخالفت میں کتابیں پڑھیں تو ہمارے دل میں خیال پیداہوا کہ ہم جماعت احمدیہ کی کتابیں بھی پڑھ کر دیکھیں۔ چنانچہ ہم نے آپ کی کتب کا مطالعہ کیا اور ہمیں معلوم ہوا کہ سچے عقائد وہی ہیں جو آپ کی طرف سے پیش کیے جاتے ہیں۔ لوگوں کی طرف سے مخالفت میں جو کچھ کہا جاتاہے۔ وہ بالکل جھوٹ ہے۔ اس لیے ہم آپ کی بیعت میں شامل ہوتے ہیں۔‘‘
(تفسیر کبیر جلدنہم صفحہ145)

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں