مکرم ڈاکٹر بشارت احمد جمیل صاحب

جماعت احمدیہ امریکہ کے ماہنامہ ’’النور ‘‘ جنوری 2007ء میں مکرم عبد الہادی ناصر صاحب اپنے بھائی مکرم ڈاکٹر بشارت احمد جمیل صاحب کا ذکر خیر کرتے ہیں۔
محترم ڈاکٹر بشارت احمد جمیل صاحب 17 نومبر 2006ء کو 62 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ آپ پونا (انڈیا) میں محترم احمد جمیل صاحب کے ہاں پیدا ہوئے۔ تعلیم الاسلام کالج ربوہ سے B.A. اور 1967ء میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے M.A. کیا۔ فورڈہم یونیورسٹی نیو یارک امریکہ نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے سکالرشپ دیا۔ 1976ء میں سٹی یونیورسٹی نیو یارک سے ریاضی میں Ph.D. کی۔ پھر کوئینز کالج فلشنگ، نیو یارک میں ریاضی کی تعلیم دی۔ جس کے بعد جارج واشنگٹن یونیورسٹی واشنگٹنDC میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کی حیثیت سے پڑھانے کے علاوہ امریکی محکمہ دفاع میں ریاضی دان کی حیثیت سے بھی کام کیا۔
احمدیت اور انسانیت کی خدمت کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے۔ آپ نے مظلوم کے حق میں ایک دھڑکنے والا دل اور احمدیت کے لئے غیرت کا جذبہ ورثہ میں پایا تھا۔ نامور اور بااثر امریکی سیاستدانوں کے ساتھ ذاتی اور دوستانہ تعلقات تھے اور چونکہ ایک بااصول اور باکردار آدمی تھے اس لئے اپنے حلقۂ احباب کو بہت متاثر کیا ہوا تھا۔ احمدیت کے مفاد کو ہر دَم مقدّم رکھتے اور اس کے لئے اعلیٰ ترین عہدیداروں سے ملنے میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے تھے۔ جب بھی اور جس جگہ بھی جماعت کو ضرورت پیش آتی اپنی خدمات پیش کر دیتے تھے۔ اپنی زندگی انسانیت کی مدد کے لئے پورے عزم اور خلوص کے ساتھ وقف کر رکھی تھی۔ 1992ء میں اپنے ایک دوست Dr. Daniel Aulicino کے ساتھ مل کر انسانی حقوق کی تنظیم Humanity International کی بنیاد رکھی جس کے تحت بلاتمیز رنگ و نسل ومذہب ہمدردی کے پراجیکٹس پر کام کیا گیا۔
جنرل ضیاء الحق کے احمدیوں پر مظالم کے خلاف آپ نے اپنے تمام ذرائع اور تعلقات بروئے کار لاتے ہوئے ضیاء حکومت پر امریکی کانگریس اور حکومت کا دباؤ برقرار رکھا۔ کانگریس کے رکن Hon. Tony P. Hall کے تعاون سے پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف قرارداد مذمّت پاس کروانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ آپ نے احمدیوں کے لئے امریکہ میں مذہبی بنیاد پر پناہ کے لئے امریکی حکومت کے دفتر خارجہ کی منفی رائے کی پالیسی کو مثبت رائے میں تبدیل کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/qbYxY]

اپنا تبصرہ بھیجیں