گزری ہے شب غم تو سحر دیکھ رہا ہوں

December 10, 2017 • 54 مناظر • الفضل ڈائجسٹ

ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ اپریل 1995ء کی زینت مکرم احسن اسماعیل صدیقی صاحب کی ایک خوبصورت نظم سے دو اشعار ملاحظہ فرمائیں:

گزری ہے شب غم تو سحر دیکھ رہا ہوں
اک جبرِ مسلسل کا ثمر دیکھ رہا ہوں
ہے شاخِ توکل پہ تیری میرا نشیمن
ہواؤں کو بہت زیر و زبر دیکھ رہا ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *