Thursday, 15th October, 2026
»»
الفضل ڈائجسٹ آنحضور ﷺ کی طہارت و پاکیزگی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 25؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 18؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 11؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 04؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ28؍اگست 2026ء الفضل ڈائجسٹ آنحضور ﷺ کی طہارت و پاکیزگی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 25؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 18؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 11؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 04؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ28؍اگست 2026ء
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

ایک مدیر کی مشکلات

December 8, 2017 • 39 مناظر • الفضل ڈائجسٹ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ کے مدیر مکرم نسیم سیفی صاحب ’ابن العطا‘ کے نام سے ایک کالم بھی اپنے اخبار میں لکھتے ہیں جس کا نام ہے ’میرا کالم‘۔

مکرم نسیم سیفی صاحب

17؍جولائی 1995ء کے شمارہ میں شائع ہونے والے کالم میں وہ مدیر کی مشکلات کا تجزیہ کرتے ہیں جو اسے موصول ہونے والے مضامین کے سلسلہ میں پیش آتی ہیں اور جس کے نتیجہ میں مضمون نگار ناراض بھی ہو سکتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ کوئی مدیر اپنی میز پر کاغذوں کا ڈھیر پسند نہیں کرتا، وہ خبریں، نوٹ ، مضامین چھاپنا چاہتا ہے اور جلد از جلد چھاپنا چاہتا ہے لیکن جلد از جلد کی تعیین نہیں کی جاسکتی۔
پس آپ لکھتے رہیں اور بھیجتے رہیں۔
آپ اپنا کام کیجئے اور مدیر کو اپنا کام کرنے دیجئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *