Friday, 16th October, 2026
»»
الفضل ڈائجسٹ آنحضور ﷺ کی طہارت و پاکیزگی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 25؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 18؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 11؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 04؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ28؍اگست 2026ء الفضل ڈائجسٹ آنحضور ﷺ کی طہارت و پاکیزگی خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 25؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 18؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 11؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 04؍ستمبر 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ28؍اگست 2026ء
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

راہ پردیس میں سورج سے ٹھنی ہوتی ہے — نظم

July 5, 2025 • 20 مناظر • الفضل ڈائجسٹ

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، روزنامہ الفضل انٹرنیشنل7؍جولائی 2025ء)

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 26؍ستمبر2014ء میں مکرم عبدالکریم قدسی صاحب کی ایک نظم شامل اشاعت ہے جو جناب حفیظ جونپوری کے ایک شعر پر تضمین ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:

عبدالکریم قدسی صاحب

راہ پردیس میں سورج سے ٹھنی ہوتی ہے
چھاؤں آلودہ مگر دھوپ چھنی ہوتی ہے
نہرِ شیریں یونہی آباد نہیں ہوجاتی
دلِ فرہاد ہو تب کوہ کنی ہوتی ہے
پہلے پردیس میں ملتا نہیں ہمدم کوئی
اور ملتا ہے تو پھر جاں پہ بنی ہوتی ہے
ریت بستر پہ بچھی ہوتی ہے بےقدری کی
سر پہ محرومی کی چادر سی تنی ہوتی ہے
یوں تو سستانا مقدّر میں نہیں قدسیؔ ، مگر
’’بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے
ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے‘‘

One response to “راہ پردیس میں سورج سے ٹھنی ہوتی ہے — نظم”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *