زمیں پر آسماں اُترا ہوا ہے – نظم

August 20, 2019 • 19 مناظر • الفضل ڈائجسٹ

روزنامہ ’’الفضل ‘‘ربوہ 24؍نومبر 2009ء میں شامل اشاعت مکرم عبد الصمد قریشی صاحب کے کلام سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں:

زمیں پر آسماں اُترا ہوا ہے
یہ کیسا نُور سا بکھرا ہوا ہے
سہانا ہو گیا ہے دل کا موسم
کوئی اس شہر میں ٹھہرا ہوا ہے
ہوئے ہیں خواب سارے دِلنشیں سے
امیدوں کا چمن نِکھرا ہوا ہے
معطر ہوگئی ہیں سب ہوائیں
کوئی اس راہ سے گزرا ہوا ہے
ہم اس کی ذات کے قربان جائیں
کہ جس کا ہر کہا پُورا ہوا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *