ہم ہیں مریضِ عشق ، دوا ہے تمہارے پاس – نظم

August 20, 2019 • 24 مناظر • الفضل ڈائجسٹ

ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ‘‘ کینیڈا نومبرودسمبر 2009ء میں شامل اشاعت مکرمہ ارشاد عرشی ملک صاحبہ کی ایک نظم سے انتخاب پیش ہے:

ہم ہیں مریضِ عشق ، دوا ہے تمہارے پاس
میرے مسیح دست شفا ہے تمہارے پاس
اک گھونٹ جو بھی چاہ سے چکھ لے وہ جی اٹھے
آب حیات ، آبِ بقا ہے تمہارے پاس
دیکھی ہیں ہم نے آپ کی آنکھیں جھکی جھکی
اک دلنشیں طرز حیا ہے تمہارے پاس
ایسا ہوا اسیر کہ واپس نہ جاسکا
دو چار دن جو آکے رہا ہے تمہارے پاس
تیغِ دعا کی کاٹ کی ان کو خبر نہیں
شوخی سے غیر کہتے ہیں کیا ہے تمہارے پاس

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *