فونٹ سائز:

محترم ڈاکٹر اعجاز قمر صاحب

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، روزنامہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ لندن، 10؍اگست 2026ء)

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ یکم دسمبر2014ء میں مکرم زکریا ورک صاحب کے قلم سے محترم ڈاکٹر اعجاز قمر صاحب کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔

زکریا ورک صاحب

مکرم ڈاکٹر اعجاز قمر صاحب نہایت نافع الناس اور بہت ہی پیارا وجود، بےلوث خدمت کا پیکر، دوسروں کا درد سمجھنے والا اور عالم باعمل انسان بقضائے الٰہی اس دنیائے ناپائیدار سے کینیڈا میں 21؍جنوری 2012ء کو 74؍سال کی کامیاب زندگی گزار کر رخصت ہو گیا۔ ایسے موقعوں پر ہی کہا جاتا ہے مَوْتُ الْعَالِمِ مَوْتُ الْعَالَمِ۔ بلاشبہ وہ ایسا عالم شخص تھا جس کے علم سے ایک زمانہ فیض یاب ہو تا رہا۔
ڈاکٹر صا حب سے میری شناسائی گذشتہ 35 سال پر ممتد تھی۔ ہمارا تعلق احمدیہ نیوز بلیٹن کینیڈا کے ذریعہ ہوا تھا جس کا مَیں ستّر کی دہائی میں نائب مدیر اور انتظامی امور کا ذمہ دار تھا۔ آپ مہینے میں کم از کم ایک بار مجھے ضرور خط لکھا کرتے تھے۔ ہم دونوں جب کسی نئی کتاب کا مطالعہ کرتے تو دوسرے سے اس کا ذکر کرتے۔
آپ صغر سنی میں ہی والد کے سایہ عاطفت سے محروم ہوگئے تھے۔ والدہ نے بڑے نعم وناز سے پالا۔ وسکانسن امریکہ سے پی ایچ ڈی کرکے 1970ء میں واپس پاکستان گئے۔ لیکن 1973ء میں کینیڈا تشریف لے آئے اور ملازمت کی وجہ سے ونی پیگ شہر میں سکونت اختیار کی۔عرصہ دراز تک مقامی جماعت کے صدر رہے اور 1990ء میں وہاں پہلی احمدیہ مسجد تعمیر کروائی جو کہ آپ کے جملہ کارناموں میں سے سنہری کارنامہ تھاجس پر ہمیشہ فخر کرتے تھے۔ آپ نے ونی پیگ جماعت کی تاریخ بھی رقم فرمائی جو احمدیہ گزٹ کینیڈا کے صفحات کی زینت بنی۔ کئی سال جماعت احمدیہ کینیڈا کے سیکرٹری امور خارجہ بھی رہے۔ 1978ء میں جماعت احمدیہ کینیڈاکے دوسرے جلسہ سالانہ کے موقعہ پر ہماری بالمشافہ ملاقات ہوئی تھی۔ اس موقعہ پر آپ نے مجھے اپنا بزنس کارڈ دیا جس پر لکھا تھا کہ آپ صوبائی حکومت میں اگرونومسٹ کے عہدہ پر فائز ہیں۔ قریباً 1981ء میں کچھ عرصہ اقوام متحدہ کے ماتحت زیمبیا میں ماہر زراعت کے طور پر برسر روزگار رہے۔
ایک بار کنگسٹن میں آپ سے اچانک ملاقات ہوگئی جب ایک ممبر آف پا رلیمنٹ کے والد کے گھر لبرل پارٹی کے سرکردہ افراد کی میٹنگ تھی۔ میں بھی وہاں پر موجود تھا کہ لوگوں کے ہجوم میں اچانک ڈاکٹر صاحب میرے سامنے آگئے۔ معلوم ہوا کہ آپ اٹاوہ میں مقتدر افراد سے ملاقات کے بعد واپس ٹورانٹو جا رہے تھے۔ یوں اس میٹنگ میں کئی ایک ممتاز افراد سے ملاقات اور جان پہچان کا موقع پیدا ہوگیا۔ بعدازاں آپ وفاقی حکومت میں دو سال (2007ء سے 2009ء تک) Criminal Injuries Compensation Board کے ممبر رہے۔ 2010ء میں آپ کو شہریت کی عدالت کا عہدہ تفویض کیا گیا جس پر آپ بوقت وفات بھی متعین تھے۔ رضاکارانہ خدمات کے عوض آپ کووفاقی، صوبائی اور مقامی سطح پر مختلف اعزازات سے نوازا گیا۔ ہیومن رائٹس اینڈ ریس ریلشنز سینٹر نے بھی آپ کو گولڈمیڈل عطاکیا۔
بیس سال کی ملازمت کے بعد 1995ء میں ریٹائر ہوکر آپ نے ٹورانٹو میں سکونت اختیار کرلی۔ پھر میرے مشورے پر چین کا معلوماتی دورہ کیا۔ چین کے سفر کے بعد جو سفر نامہ لکھا وہ بھی ان کے رشحات قلم کی اعلیٰ مثال تھا۔ اسی طرح میری درخواست پر انگلش میں اپنی سوانح عمری بھی قلم بند کی۔
ڈاکٹر صا حب موصوف صاحب علم، صاحب فن، صاحب دانش اور قلم کے شہسوار تھے۔علم و کتاب، تصنیف و تالیف اور فکر ی اندازآپ کو دوسروں سے ممتاز بنا دیتا تھا۔ ظاہری تصنّع، خوشامد اور خودغرضی کا شائبہ تک نہ تھا۔ کتاب کا آنکھوں سے نہیں بلکہ دل سے مطالعہ کرتے تھے۔ ایک زمانہ ان کے رشحات اور ان کی ادبی خدمات کا معترف تھا۔ چونکہ خود صاحبِ علم تھے اس لیے صاحبانِ علم کے قدردان تھے۔ گفتگومیں ظرافت حسب موقع ہوتی ۔ زبان دانی قابل رشک تھی۔ شستہ انگریزی میں بلاتکلف لکھتے تھے۔ ایک عرصہ دراز تک روزنامہ ونی پیگ فری پریس میں آپ کے ناقدانہ و عالمانہ مضامین اور ایڈیٹر کے نام خطوط شائع ہوتے رہے۔ ونی پیگ ٹیلی ویژن کے کمیونٹی چینل پر آپ نے مختلف امور پر قریباً ڈیڑھ صد پروگرام نشر کیے۔ آپ کے خطوط گلوب اینڈ میل اور ٹورانٹو سٹار میں شائع ہوتے رہے۔ ’’ٹورانٹو سٹار‘‘ کے کمیونٹی ایڈیٹوریل بورڈ کے بھی کچھ سال ممبر رہے۔ ماہانہ ’’احمدیہ گزٹ‘‘ کینیڈا کے ایڈیٹوریل بورڈ میں فرائض بھی انجام دیے۔ کسی زمانے میں آپ کے مضامین ہفت روزہ لاہور میں بھی شائع ہوتے رہے تھے۔ 2010ء میں ہفت روزہ لاہور کے ایک شمارے کے سرورق پر جج بننے کے بعد آپ کی تصویر اور خبر شائع ہوئی تھی۔ اپنی اہلیہ بشریٰ صاحبہ کی وفات کے بعد اپنی بقیہ زندگی یعنی قریباً دس سال آپ نے علمی اور ادبی مضامین لکھنے کی طرف توجہ رکھی۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو دو بیٹوں سے نوازا جو امریکہ میں مقیم ہیں۔ ڈاکٹر طاہر اعجاز (ایم ڈی) جب ایک بار کنگسٹن کے جنرل ہسپتال میں ٹر یننگ کے لیے آیا تھا تو مَیں نے اس کی رہائش کا انتظام کیا تھا۔جب ہوٹل میں مَیں اس کو چھوڑنے گیا تو دیکھا کہ سوٹ کیس میں سب سے اوپر جائے نماز رکھا تھا جس کو اس نے سب سے پہلے با ہر نکالا۔ میرے استفسار پر کہنے لگا کہ میری والدہ نے نصیحت کی تھی Don’t leave home without it۔ یعنی جائے نماز کے بغیر سفر کے لیے نہ نکلنا۔ اس زمانے میں ٹیلی ویژن پر اشتہار آتا تھا کہ امیریکن ایکسپریس کارڈ کے بغیر گھر سے باہر مت جاؤ۔ تو اس مناسبت سے والدہ کی نصیحت بہت ہی موزوں اور اچھی تھی۔ نیک ماں نے بچے کی کتنی اچھی تربیت کی تھی اور بچہ بھی کتنا تابعدار تھا کہ والدہ کی نصیحت کو حرز جاں بنالیا۔ دوسرے بیٹے عزیزم طاہر احمد کے حیات مسیح ناصری اور عیسائیت پرمدلّل، سکّہ بند انگلش مضامین ’’ریویو آف ریلجنز‘‘ میں شائع ہوچکے ہیں اور بعض ایک کی افادیت کے پیش نظر ان کو پمفلٹ کی صورت میں بھی شائع کیا جاچکا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *