حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی نظر میں عظیم سائنسدان سر آئزک نیوٹن کا مقام
(مطبوعہ ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘، الفضل انٹرنیشنل …نومبر2026ء)


روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 17؍اپریل2014ء میں مشہور سائنسدان آئزک نیوٹن (Isaac Newton) کے بارے میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے متفرق ارشادات میں سے خوبصورت انتخاب پیش کیا گیا ہے۔ ان ارشادات کا خلاصہ ہدیۂ قارئین ہے:
(1) حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے فرمایا کہ زندگی، وقت کے بامقصد مصرف کا نام ہے۔ چنانچہ نیوٹن کے ملازم نے بیان کیا کہ اُس نے نیوٹن کو کبھی سوئے ہوئے نہیں دیکھا۔ لوگ اس کو زبردستی کہیں تقریر کے لیے لے جاتے ورنہ وہ دن رات کام کرتا رہتا تھا۔ ہم رات کو سوتے تو وہ جاگ رہا ہوتا تھا۔ صبح ہم اٹھتے تو وہ اُٹھا ہوا ہوتا تھا۔ کتابوں اور تجربوں میں دن رات محو رہتا۔ ایسا کیوں تھا! وہ محض محنت نہیں کررہا تھا بلکہ اُس کو اِن چیزوں میں مزہ آرہا تھا اور یہی زندگی کے با لذّت ہونے کا نسخہ ہے۔ زندگی بامقصد ہوجائے تو لطف آنا شروع ہوجاتا ہے۔ دنیا سمجھتی ہے کہ وہ مصیبت میں پڑا ہوا ہے، تھک جائے گا لیکن اُس کو زندگی کے ہر اُس لمحے میں مزہ آرہا ہوتا ہے جو زندگی کے اس مقصد کی پیروی میں خرچ کرتا ہے۔ اس سے ہٹ کر زندگی کا جو لمحہ ہوتا ہے اس میں وہ Bore ہورہا ہوتا ہے۔ جیسے بعض لوگ مسجد میں جاکر بور ہوتے تھے اور رسول اللہ ﷺ مسجد سے نکل کر بور ہوتے تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ آپؐ کا دل مسجد میں اٹکا ہوتا تھا۔ جب کاموں سے فراغت ملتی تو مسجد میں جاکر دل لگ جاتا تھا۔ تو یہ صرف زاویہ نظر کے اختلاف کی بات ہے۔ کام اپنی ذات میں لذّت ہے اگر مقصد کے تابع ہوجائے۔ پس اپنی ہمّتوں کو بلند کریں۔ ایسے مضامین پڑھیں جو دماغوں کو انگیخت کریں مثلاً سائنسدانوں کی زندگیوں کے حالات ہیں۔ اُن کے حالات پڑھتے پڑھتے اللہ تعالیٰ آپ کے ذہن کی کھڑکیاں بھی ساتھ ساتھ کھول رہا ہوتا ہے۔ کئی جگہ آپ کی نظر مضمون سے ہٹ جائے گی اور خیال میں ایک اَور فلسفہ جنم لینے لگ جائے گا۔ اسی طرح نئی ایجادات پر پیپر پڑھیں، آپس میں تبادلۂ خیال کریں۔ (ماخوذ از خطاب 14؍اکتوبر1982ء)
(2) حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ فرماتے ہیں کہ انگریزی شاعری میں پوپ الیگزینڈر نے بہت عظمت حاصل کی ہے۔ کئی لوگوں نے پوپ پر مقالے لکھے ہیں اور پی ایچ ڈی کی ہے۔ پوپ1688ء میں پیدا ہوا اور 1744ء میں صرف 56؍سال کی عمر میں فوت ہوگیا۔ لیکن نیوٹن اُس سے بہت پہلے پیدا ہوا تھا اور اُس کی زندگی ہی میں فوت ہوا۔ اُس وقت پوپ کی عمر 39؍سال تھی۔ پوپ نے نیوٹن کو ایسا خراج تحسین پیش کیا ہے کہ آپ سمجھیں گے مبالغہ ہے۔ اُس نے نیوٹن کے کتبے پر لکھنے کے لیے یہ شعر کہا:
Nature and Nature’s Laws lay hid in night
God said, Let Newton be and all was light.
قانون قدرت اور قانون قدرت کے راز رات کے اندھیرے میں لپٹے ہوئے تھے یعنی لاعلمی کے اندھیرے میں پڑے ہوئے تھے۔ اور جیسا کہ بائبل میں آتا ہے کہ خدا نے کہا: روشنی ہوجا۔ اسی حوالے سے پوپ کا دماغ اس طرف گیا اور اُس نے یہ عظیم بات کہہ دی کہ خدا نے فرمایا: نیوٹن ہوجا۔ اور روشنی پھیل گئی۔
یہ اتنا عظیم مقولہ ہے کہ آج تک دنیا کے پردے پر کسی سائنسدان کو ایسا خراج تحسین پیش نہیں کیا گیا ہوگا اور واقعۃً یہ سچا ہے۔ دنیا کے اکثر بڑے بڑے سائنسدان روشنی سے اندھیرے کی طرف چلے جاتے ہیں لیکن نیوٹن وہ سائنسدان ہے جس نے اندھیروں سے روشنی کی طرف سفر کیا اور روشنی کو پالیا۔ اس لیے اگر دنیا کے سائنسدانوں میں کسی کو حقیقت میں ولی اللہ کہا جاسکتا ہے تو وہ نیوٹن تھا۔ نیوٹن عیسائی تھا، بچپن سے تثلیث کا سبق اُس کو پڑھایا گیا مگر جوں جوں اُس نے خدا کے نُور سے روشنی حاصل کی، تثلیث سے بیزار ہوتا چلا گیا اور رفتہ رفتہ اس کی توجہ بائبل کی طرف بھی منتقل ہوئی جبکہ وہ جانتا تھا کہ لازماً اصل میں یہ خدا کا کلام ہے تو بائبل کی تشریحات جو عیسائی دنیا تثلیث کے حق میں پیش کیا کرتی تھی، اُس نے انہی حوالوں کو تثلیث کے خلاف استعمال کیا اور وہی استنباط ہے جو حضرت مسیح موعودؑ نے ہمیں علم کلام میں عطا کیا ہے۔ چنانچہ نیوٹن تثلیث سے کلیۃً بیزار ہوگیا اور اس کے نتیجے میں اعلان کیا کہ مَیں پہلے سے زیادہ اب خدا کی ہستی کا قائل ہوچکا ہوں اور حضرت عیسیٰؑ کی محبت بھی میرے دل میں جاگزیں ہوگئی ہے کیونکہ وہ موحد تھا اور ایک خدا کا پجاری تھی۔ اُس نے کبھی نہیں کہا کہ میری عبادت کرو۔

آج انگریز نیوٹن پر فخر کرتے ہیں لیکن بجا طور پر نہیں کرتے کیونکہ وہ نیوٹن جس پر فخر ہونا چاہیے تھا اس نیوٹن کو تو انہوں نے اُٹھاکر باہر پھینک دیا تھا۔
نیوٹن کو کیمبرج یونیورسٹی کے Trinity College میں اُس کے علم و فضل کے نتیجے میں پروفیسرشپ دی گئی اور وظیفہ بھی جاری ہوا۔ وہ دن رات لیبارٹری میں گزارتا۔ نیوٹن خود کہتا تھا کہ کوئی ایسا دن نہیں چڑھا کہ مَیں صبح اپنے بچوں کی آنکھ کھلنے سے پہلے اپنی لیبارٹری میں نہ پہنچا ہوں اور تب تک لیبارٹری سے باہر نہیں نکلا جب تک بارہ بجے کی آواز نہ سنی ہو۔ لیکن اُسے اس الزام کے نیچے ملازمت سے نکال دیا گیا کہ Trinity College کے تم پروفیسر بنے ہوئے ہو اور Trinity کے خلاف پرچار کررہے ہو جبکہ Trinity کے بغیر تو کائنات ہی نہیں ہے۔ تم کونسی کائنات کی بات کررہے ہو جس میں Trinity ہی نہیں ہے۔
نیوٹن نے ملازمت ختم ہونے کی کوڑی کی بھی پرواہ نہیں کی۔ اُس نے کہا کہ جو نُور مَیں نے حاصل کرنا تھا وہ اللہ تعالیٰ سے حاصل کرلیا ہے۔ کیونکہ Trinity کا نُور تو دراصل اندھیرا ہے، جہالت ہے۔
پوپ الیگزینڈر کا فقرہ دوبارہ دیکھیں:
Let Newton be and all was light.
کہ نیوٹن کے ساتھ نور وابستہ ہوگیا۔ لیکن اس روشنی کو حاصل کرنے کے لیے اُس نے بےحد قربانیاں کیں۔ پروفیسرشپ کو اُتار پھینکا، غالباً ساٹھ پاؤنڈ اُس کا وظیفہ تھا جو بند ہوگیا۔ Trinity College کو چھوڑ دیا لیکن خدا کو نہیں چھوڑا۔ پس نیوٹن کے ذریعے ایسا علمی انقلاب آیا جس سے دنیاوی علوم کی روشنی بھی پھیل گئی اور روحانی علوم کی روشنی بھی پھیل گئی۔ نیوٹن اپنے بارے میں خود اقرار کرتا ہے کہ
“I do not know what I may appear to the world but to myself I seem to have been only a boy playing on the sea shore. Whilst the great ocean of truth lay all undiscovered before me.”
(Brewster’s Memories of Newton IIXXIVII)
مَیں اپنی نظر میں تو اپنے آپ کو ایک چھوٹے سے بچے کے طور پر دیکھتا ہوں جو علم کے سمندر کے ساحل پر کھیل رہا ہو۔ جبکہ عظیم الشان سچائی کا سمندر اُس کے سامنے دُور تک پھیلا پڑا ہو اور گہرائی میں اس کا کوئی اتھاہ نظر نہ آئے۔
چونکہ خدا اُس پر روشن ہوچکا تھا اس لیے اپنی علمی حیثیت اُس کی نظر میں سُکڑ گئی۔ مگر یہی اعلان اُس نے ببانگ دہل کیا ہے (اگرچہ اس آیت کا اُس کو علم نہیں تھا) کہ وَلَایُحِیۡطُوۡنَ بِشَیۡءٍ مِّنۡ عِلۡمِہٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ کہ اُس کے علم کا کوئی چیز احاطہ نہیں کرسکتی مگر جتنا وہ چاہے اور جسے وہ چاہے اُس کو اُتنا ہی احاطہ نصیب ہوگا۔ چنانچہ وہ کہتا ہے کہ مَیں علم کے سمندر کے ساحل پر ہی اپنے آپ کو دیکھ رہا ہوں جو اپنے دل بہلاوے کے لیے کبھی ایک ملائم پتھر ڈھونڈ لیتا ہے اور کبھی کوئی گھونگا تلاش کرلیتا ہے جو سمندر کی تہ میں بنا ہے اور اُس بچے کو معلوم نہیں ہوتا کہ یہ کیسے بنا اور کیوں بنا اور اس کے جانور نے اس کو کیوں چھوڑ دیا۔ (ماخوذ از خطبہ جمعہ فرمودہ19؍فروری1999ء)

Leave a Reply