دیوارِ رنگ ہر کہیں حائل ہے راہ میں – نظم

July 21, 2019 • 21 مناظر • الفضل ڈائجسٹ

ماہنامہ ’’خالد‘‘ اکتوبر 2007ء میں شامل اشاعت مکرم چوہدری محمد علی صاحب مضطر عارفی کی ایک نظم سے انتخاب پیش ہے:

دیوارِ رنگ ہر کہیں حائل ہے راہ میں
ہے پھول پھول حسن کے زنداں لئے ہوئے
وہ چاند آ کے جا بھی چکا ، صبح ہو چکی
اب آگئے ہو دیدۂ گریاں لئے ہوئے
یہ کون پھر رہا ہے گلِ تر کے آس پاس
پلکوں پہ اپنی آتشِ عریاں لئے ہوئے
یوسف کے انتظار میں مضطرؔ غریب بھی
بیٹھا ہے کب سے نقدِ دل و جاں لئے ہوئے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *